Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ہم نے حق کو سنا اور سر تسلیم خم کرلیا

										
																									
								

Ayat No : 11-15

: الجن

وَأَنَّا مِنَّا الصَّالِحُونَ وَمِنَّا دُونَ ذَٰلِكَ ۖ كُنَّا طَرَائِقَ قِدَدًا ۱۱وَأَنَّا ظَنَنَّا أَنْ لَنْ نُعْجِزَ اللَّهَ فِي الْأَرْضِ وَلَنْ نُعْجِزَهُ هَرَبًا ۱۲وَأَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْهُدَىٰ آمَنَّا بِهِ ۖ فَمَنْ يُؤْمِنْ بِرَبِّهِ فَلَا يَخَافُ بَخْسًا وَلَا رَهَقًا ۱۳وَأَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُونَ وَمِنَّا الْقَاسِطُونَ ۖ فَمَنْ أَسْلَمَ فَأُولَٰئِكَ تَحَرَّوْا رَشَدًا ۱۴وَأَمَّا الْقَاسِطُونَ فَكَانُوا لِجَهَنَّمَ حَطَبًا ۱۵

Translation

اور ہم میں سے بعض نیک کردار ہیں اور بعض کے علاوہ ہیں اور ہم طرح طرح کے گروہ ہیں. اور ہمارا خیال ہے کہ ہم زمین میں خدا کو عاجز نہیں کرسکتے اور نہ بھاگ کر اسے اپنی گرفت سے عاجز کرسکتے ہیں. اور ہم نے ہدایت کو سنا تو ہم تو ایمان لے آئے اب جو بھی اپنے پروردگار پر ایمان لائے گا اسے نہ خسارہ کا خوف ہوگا اور نہ ظلم و زیادتی کا. اور ہم میں سے بعض اطاعت گزار ہیں اور بعض نافرمان اور جو اطاعت گزار ہوگا اس نے ہدایت کی راہ پالی ہے. اور نافرمان تو جہنمّ کے کندے ہوگئے ہیں.

Tafseer

									   تفسیر
 ہم نے حق کو سنا اور سر تسلیم خم کرلیا
   یہ آیات اسی طرح جن مامنین کی باتوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یعنی وہ باتیں جو انھوں نے اپنہ گمراہ قوم کو تبلیغ کرتے وقت کہی تھیں ، پہلی آیت میں ان کی زبانی کہتا ہے:ہمارے درمیان صالح اور غیر صالح افراد ہیں اور ہم میں مختلف گروہ ہیں۔  (وَاَنَّا مِنَّا الصَّالِحُوْنَ وَمِنَّا دُوْنَ ذٰلِكَ ۖ كُنَّا طَرَآئِقَ قِدَدًا)۔
 احتمال یہ ہے کہ انھوں نے اس جملہ کو اس لیے کہا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ "ابلیس" کا قبیلہ "جن" میں سے ہونا، ان میں سے ایک گروہ کے دل میں یہ توہم پیدا نہ کردے، کہ جن کی طبعیت اور مزاج شراور فساد، شیطنت پر ہے اور نور ہدایت ان کے دل میں ہرگز نہیں چمکتا۔
 مومنین جن اس گفتگو سے یہ واضح کر رہے ہیں کہ اصل اختیار اور آذادی ارادہ ان پر بھی حکم فرما ہے، اور صالح اور غیر صالح دونوں قسم کے افراد ان میں موجود ہیں۔ اس بناء پر ہدایت کی استعداد ان میں بھی موجود ہے اور اصولی طور پر تبلیغ کی تاثیر کے عوامل میں سے ایک طرف مقابل کی شخصیت کو اجاگر کرکے اسے ہدایت و کمال کی استعداد کے موجود ہونے کیطرف توجہ دلانا ہے۔  
 یہ احتمال بھی ہے کہ جن مومنین نے، چوری چھپے سننے کے مسئلہ سے، سوءِ استفادہ کے موضوع سے، براءت کے لیے کہی ہو۔ یعنی اگرچہ ہم میں سے بعض ، وہ اخبار جو وہ چوری چھپے سنا کرتے تھے، انھین شریر انسانوں کے پاس پہنچا کر گمراہی کا سبب بنے تھے۔ لیکن ہم میں سے تمام جن ایسے نہیں تھے۔
 یہ آیت ضمنی طور پر جنوں کے بارے میں ہم انسانوں کی ذہنیتوں کی بھی اصلاح کرتی ہے۔ کیونکہ بہت سے لوگوں کے تصور میں لفظ "جن" شیطنت، فساد اور گمراہی کی ایک قسم کے ساتھ ہے۔ یہ آیت کہتی ہے کہ وہ بھی مختلف گروہ ہیں ، صالح اور غیر صالح۔
 لفظ "قدر" (بروزن پسر) "قد" (بروزن ضد) کی جمع ہے۔ جس کا معنی کٹا ہوا کے ہیں ۔ اور مختلف گروہوں پر بھی۔ چونکہ وہ ایک دوسرے سے الگ الگ ٹکڑوں میں ہوتے ہیں۔ اس کا اظلاق ہوتا ہے۔
    ـــــــــــــــــــــــــــــــ
 جن مومنیں اپنی باتوں کو جاری رکھتے ہوئے دوسروں کو خبردار کرتے ہیں اور کہتے ہیں: "ہمیں یقین ہیں کہ ہم زمین میں خدا کے ارادہ پر ہرگز غالب نہیں آسکتے، اور نہ ہی اس کےپنجۂ  قدرت سے فرار کر سکتے ہیں۔"(وَاَنَّا ظَنَنَّـآ اَنْ لَّنْ نُّعْجِزَ اللّـٰهَ فِى الْاَرْضِ وَلَنْ نُّعْجِزَهٝ هَرَبًا)۔
  اس بناء پر ، اگر تمھارا یہ خیال ہو کہ تم خدا کے عذاب سے بھاگ کر زمین کے کسی گوشہ میں یا آسمانوں کے کسی مقام میں نجات پا جاؤگے، تو تم سخت غلط فہمی میں مبتلا ہو۔
 اس طرح سے پہلا جملہ تو زمین میں خدا کے پنجہۂ قدرت سے فرار کرنے کیلیے اور دوسرا جملہ مطلق فرار کرنے کی طرف اشارہ ہے، عام اس سے کہ وہ زمین میں ہو یا آسمان میں۔
 آیت کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ہے کہ پہلا تو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تم خدا پر غالب نہیں آسکتے، اور دوسرا سبات کی طرف اشارہ ہے کہ اس کے پنجۂ عدالت سے فرار ممکن نہیں ہے ۔ لہذا اس بناء پر کہ ن ہ تو غلبہ کی کوئی راہ پے نہ ہی بھانے کی، تو پھر اس کی فرمان عدالت کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 جن مومنین اپنی گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں:" ہم نے جب قرآن کی ہدایت کو سنا تو ہم اس پر ایمان لے آئے"۔(وَاَنَّا لَمَّا سَـمِعْنَا الْـهُـدٰٓى اٰمَنَّا بِهٖ)۔
 اور اگر ہم تمھیں قرآن کی ہدایت کی طرف بلاتے ہیں تو ہم نے خود پہلے اس پروگرام پر عمل کیا ہے۔ اس بناء پر ہم دوسروں کو کسی ایسی چیز کی دعوت نہیں دے رہے  م جسے ہم نے خود چھوڑ رکھا ہو۔
 اس کے بعد ایمان کے نتیجہ کو ایک مختصر سے جملہ میں بیان  کرتے ہوئے کہتے ہیں:"جو شخص اپنے پرورگدار پر ایمان لے آئے پھر وہ نہ تو نقصان سے ڈرتا ہے اور نہ ہی ظلم سے"۔(فَمَنْ يُّؤْمِنْ بِرَبِّهٖ فَلَا يَخَافُ بَخْسًا وَّلَا رَهَقًا)۔
 "بخس" (بروزن شخص) ظلم و ستم کے ذریعہ نقصان کے معنی میں ہے اور "رھق" (بروزن شفق) ۔ جیسا کہ ہم پہلے بھی اشارہ کر چکے ہیں "کسی چیز کے زور کے ساتھ چھپانے" کے معنی میں ہے۔
 بعض نئ ان دو تعبیروں کے درمیان فرق کو اس طرح بیان کیا ہے کہ "یخس" تو اس بات کی طرف اشارہ ہے، کہ ان کی "حسنات" اور نیکیوں میں سے کسی چیز میں کمی کی جائے اور "رھق" اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان کے "سیٹات" اور برائیوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ 
 بعض نے "نجس" کو "حسنات" کی کمی اور "رھق" کو "تکالیفِ شاقہ" مے معنی میں لیا ہے۔
 بہرحال مراد یہ ہے کہ مومنین جس چھوٹے اور بڑے کام کو انجام دیں گے ، وہ اس کا اجر و ثواب ، بے کم و کاست حاصل کریں گے۔
 یہ درست ہے کہ پروردگار کی عدالت مومنین پر منحصر نہیں ہے، لیکن چونکہ غیر مومن کوئی عمل صالح رکھتے ہی نہیں آئی۔
     ــــــــــــــــــــــــــــــ
 بعد والی آیت میں مومنوں اور کافروں کی سرنوشت کے بارے میں زیادہ وضاحت کے لیے کہتا ہے: "ہم قرآن کی ہدایت کے ذریعہ یہ جانتے ہیں کہ ہم میں سے ایک گروہ مسلمان ہے اور ایک ایک گروہ ظالم و بیداد گرہے۔"(وَاَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُوْنَ وَمِنَّا الْقَاسِطُوْنَ)۔ ؎ 1
 لیکن جو اسلام کو اختیار کر لیں تع انھوں نے راہِ راست کو انتخاب کیا ہے اور خدا کی ہدایت اور ثواب کی طرف قدم اٹھایاہے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ؎ 1  "قاسط" "قسط" کے مادہ سے عادلانہ تقسیم کے معنی میں ہے۔ یہ مادہ جب باب "افعال" کی صورت میں "اقساط" آئے تو جرائے عدالت کے معنی میں ہے اور جب ثلاثی مجرد کی صورت میں استعمال ہو۔ (مثلاً اوپر والی آیت) تو پھر ظلم اور راہِ حق سے انحراف کے معنی میں ہوتا ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(فَمَنْ اَسْلَمَ فَاُولٰٓئِكَ تَحَرَّوْا رَشَدًا)۔ ؎1 
 "باقی رہےظالم تو وہ جہنم کا ایندھن ہیں"۔(وَاَمَّا الْقَاسِطُوْنَ فَكَانُـوْا لِجَهَنَّـمَ حَطَبًا)۔
 قابل توجہ بات یہ ہے کہ ان آیات میں "مسلم" "ظالم" کے مقابلہ میں آیا ہے جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان کو جو چیز ظلم سے باز رکھتی ہے وہ ایمان ہی ہے۔ ورنہ ایک بےایمان فرد تو بہرحال ظلم و ستم میں آلودہ ہوگا ہی، اور ضمنی طور پر بتاتا ہے کہ واقعی مامن وہ ہے جو ظلم و ستم سے ہر گز آلودہ نہیں ہوتا ۔ جیسا کہ ایک حدیث میں پیغمبراکرمؐ سے آیا ہے:
 المؤمن من اٰمنہ الناس علی انفسھم وامولھم 
 "مومن وہ ہے کہ لوگ جس کی طرف سے اپنی جان و مال کے سلسلہ میں امان میں رہیں"۔ ؎ 2
 المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ
 "مسلمان وہ ہے کہ جس کے ہاتھ اور زبان سے مسلمان آسودہ رہیں"۔ ؎ 3
 "تحروارشدًا" کی تعبیر بتاتی ہے کہ مومنین، توجہ، قصد و اردہ اور تحقیق کے ساتھ ہدایت خاصل کرتے ہیں، آنکھیں بند کرکے اندھی تقلید کے طور پر نہیں، اور ان کا بالاترین اجر حقیقت کو پالینا ہی ہے، جس کے زیر سایہ وہ خدا کی تمام نعمتوں کو حاصل کرتے ہیں جبکہ ستم گروں کی بدترین بدبختی یہ ہے کہ وہ دوزخ کا ایندھن ہیں یعنی آگ ان کے وجود کے اندر سے شعلہ ور ہوگی۔ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ؎ 1         "تحروا" "تحری" کے مادہ سے کسی چیز کا قصد کرنے کے معنی میں ہے۔
  ؎ 2         تفسیر  "ورح البیان" جلد 10 ص 195
  ؎ 3         "اصول کافی" جلد 2 ۔ باب المومن و علاماتہ و صفاتہ