اس فاسد و مفسد قوم کو چلے جانا چاہیے
وَقَالَ نُوحٌ رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا ۲۶إِنَّكَ إِنْ تَذَرْهُمْ يُضِلُّوا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوا إِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا ۲۷رَبِّ اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَيْتِيَ مُؤْمِنًا وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَلَا تَزِدِ الظَّالِمِينَ إِلَّا تَبَارًا ۲۸
اور نوح نے کہا کہ پروردگار اس زمین پر کافروں میں سے کسی بسنے والے کو نہ چھوڑنا. کہ تو انہیں چھوڑ دے گا تو تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور فاجر و کافر کے علاوہ کوئی اولاد بھی نہ پیدا کریں گے. پروردگار مجھے اور میرے والدین کو اور جو ایمان کے ساتھ میرے گھر میں داخل ہوجائیں اور تمام مومنین و مومنات کو بخش دے اور ظالموں کے لئے ہلاکت کے علاوہ کسی شے میں اضافہ نہ کرنا.
تفسیر
اس فاسد و مفسد قوم کو چلے جانا چاہیے!
یہ آیات اسی طرح سے ، نوح کی گفتگو اور خدا کی بارگاہ میں قوم کی شکایت اور ان کے بارے میں بدعا اور نفرین کو جاری رکھے ہوئے ہیں ، فرماتا ہے: "پروردگارا ! کفار میں کسی کو روئے زمین پر زندہ نہ رہنے دے"(وَقَالَ نُـوْحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْاَرْضِ مِنَ الْكَافِـرِيْنَ دَيَّارًا)۔
یہ انھوں نے اس وقت کی جب وہ مکمل طور پر ان کی ہدایت سے مایوس ہوگئے تھے اور اپنی آخری کوشش ان کے ایمان لانے کے سلسلہ میں کر چکے تھے ، لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہ نکلا ، اور صرف تھوڑے سے لوگ ان پر ایمان لائے،
"علی الارض" (صفحہ زمین پر) کی تعبیر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ نوحؑ بھی عالمی اور جہانی تھی اور اور وہ طوفان اور عذاب بھی جو بعد میں آیا عالمی تھا۔
"دیار" (بروزن سیار) "دار" کے مادہ سے ہے، اس شخص کے معنی میں ہے جو گھر میں رہائش رکھتا ہو : یہ لفظ عام طور پر نفی عموم کے مواررد میں استعمال ہوتا پے، مثلاً کہا جاتا ہے (ما فی الدار دیار) (گھر میں کوئی نہی رہتا)۔ ؎ 1
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اس کے بعد نوحؑ اپنی نفرین اور بد دعا کرنے کے بارے میں استدلال کرتے ہیں اور مزید کہتے یں : "کیونکہ اگر تو انھیں چھوڑ دے گا تو وہ تیرے بندوں کو گمراہ کر دیں گے اور فجر و کافر نسل کے سوا اور کچھ وجود میں نہیں لائیں گے"۔(اِنَّكَ اِنْ تَذَرْهُـمْ يُضِلُّوْا عِبَادَكَ وَلَا يَلِـدُوٓا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا)۔
یہ گفتگو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ انبطیاء کی نفرین و بددعا ، جن میں نوح بھی ہیں ، غیض و غضب ، انتقام جوئی اور کینہ پروری کی بناء پر نہیں ہوتی تھی ، بلکہ وہ ایک منطقی حساب کی صورت میں ہوتی تھی اور نوحؑ کم حوصلہ افراد کی طرح نہیں تھے کہ تھوڑی سی بات کےلیے آپے سے باہر ہوجائیں اور نفرین و بددعا کرنے لگ جائیں، بلکہ آپ نے نوسو پچاس (950) سال کی دعوت ، صبر ؤ شکیبائی اور خون دل پینے اور مکمل مایوسی کے بعد نفرین کے لیے زبان کھولی تھی۔
اس بارے میں کہ نوحؑ نے کسے سمجھ لی کہ اب یہ ایمان نہیں لائیں گے اور اس کے ساتھ وہ ان بندگانِ خدا کو اس ماحول میں رہتے تھے گمراہ کریں گے اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ ان کی آنے والی نسل بھی فاسد و مفسد ہوگی۔
بعض نے کہا ہے کہ یہ اس غیب پر اطلاع و آگاہی کی بناء پر تھا جو خدا نے انھیں دیا تھا ۔ یہ احتمال بھی دیاگیا ہے کہ نوحؑ نے اس مطلب کا وحی الٰہی سے استفادہ کیا تھا، جہاں فرماتا ہے: واوحی الٰی نوح انہ لن یؤمن من قومک الامن قداٰ من۔ نوحؑ کی طرف احی کی گئی تعری قوم میں سے کوئی شخص سوائے ان کے جو ایمان لاچکے ہیں ، اایمان نہیں لائیں گے " (سورہ ہود آیہ 32)۔ ؎ 2
لیکن یہ احتمال بھی قابلِ قبول ہے کہ نوحؑ نے ، فطری عادت اور عمومی حساب سے اس حقیقت کو معلوم کرلیا تھا، کیونکہ وہ قوم جسے ساڑھے نو سو سال تک موثر ترین بیانات کے ساتھ تبلیغ کی گئی ہو، اور وہ پھر بھی ایمان نہ لائے ہوں ، اس کی ہدایت کی امید نہ تھی اور چونکہ یہ کافر گروہ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎1 بعض کا کہنا ہے کہ اصل میں "دیوار" (بروزن حیوان) تھا، اس کے بعد "واؤ" "یاء" میں بدل گئی، اور یاء کا یاء میں ادغام ہوگیا (البیان فی غرائب القرآن جلد 6 ص 465 و تفسیر فخر رازی ، ) زیر بحث آیات کے ذیل میں ہیں۔
؎2 اس معنی کی طرف بہت سی روایات میں اشارہ ہوا ہے (نور الثقلین جلد 5 ص 428)۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
معاشرے میں قطعی اکثریت رکھتا تھا اور تمام وسائل و امکانات ان کے اختیار میں تھے۔ لہزا طبعاً وہ دوسروں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے تھے اور اس قسم کی قوم کی آئیدہ نسل قطعی طور پر فاسد اور خراب ہوتی، ان تینون احتمالات کے درمیان جمع بھی ممکن ہے۔
"فاجر" اس شخص کے معنی میں ہے جو برے اور قبیح گناہ کا مرتکب ہوتا ہے اور "کفار" "کفر" میں مبالغہ ہے ، اس بناء پر ان دو الفاظ کے درمیان فرق یہ ہے کہ ان میں سے ایک عملی کاموں سے مربوط ہے اور دوسرا اعتقادی پہلوؤں سے۔
ان آیات کے مجموعہ سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ خدا کے عذاب "حکمت" کی بنیاد پر ہوتا ہیں ۔ وہ جمیعت جو فاسد و مفسد ہو اور ان کی آئیدہ آنے والی نسلیں بھی فساد و گمراہی کے خطرے سے دوچار ہوں، وہ خدا کی حکمت میں زندگی اور حیات کا حق نہیں رکھتیں، طوفان یا صاعقہ (بجلی) یا زلزلہ یا کوئی اور دوسری بلا نازل ہوگی اور انھیں صفحہ ہستی سے مٹا دے گی، جیسا کہ طوفانِ نوح نے زمین کو اس بری قوم کے وجود کی گندگی سے پاک کردیا۔
اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ یہ قانونِ الٰہی کسی خاص زمانہ اور مکان کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔ ہمیں متوجہ رہنا چاہیے کہ اگر اس وقت بھی کوئی فسد و مفسد قوم اور اس کی الاد "فاجر" "کفار" ہو تو انھیں بھی عذاب الٰہی کا منتظر رہنا چاہیے، کیونکہ ان امور میں کوئی تبعض نہیں پے اور یہ ایک سنت الٰہی ہے۔
"یضلواعبادک" (تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے) کی تعبر ممکن ہے اس چھوٹے سے مومنین کے گروہ کی طرف اشارہ ہو، جو اس طویل مدت میں نوحؑ پر ایمان لایا تھا اور یہ بھی ممکن ہے کہ عامۃالناس میں سے مستضعف لوگوں کی طرف اشارہ ہو جو گمراہ رہبروں کے دباؤ اور فشار سے ان کے دین و مذہب کی پیروی کرتے ہیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آخر میں نوحؑ اپنے لیے اور ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے تھے اس طرح دعا کرتے ہیں:"پروردگارا ! مھجے بخش دے ، اور اسی طرح میرے ماں باپ کو اور ان تمام لوگوں کو ، جوایمان کے ساتھ میرے گھر میں داخل ہوئے تھے، اور مومنین و مومنات کوبھی بخش دے ، اور ظالموں کے لیے ہلاکت کے سوا کسی چیز کا اضافہ نہ کر"۔(رَّبِّ اغْفِرْ لِىْ وَلِوَالِـدَىَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَيْتِىَ مُؤْمِنًا وَّلِلْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ؕ وَلَا تَزِدِ الظَّالِمِيْنَ اِلَّا تَبَارًا)۔ ؎ 1
یہ طلب مغفرت اس لیے ہے کہ نوحؑ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اگرچہ میں نے صدہا سال مسلسل تبلیغ کی ہے ، اور اس راہ میں ہر قسم کی تکلیف اور مصیبت جھیلی ہے، لیکن چونکہ ممکن ہے کہ اس مدت میں مجھ سے کوئی ترک اولٰی سرزد ہوگیا ہو، تو میں اس کے بارے میں بھی عفو و بخشش کا تقاضا کرتا ہوں، اور تیری بارگاہ مقدس میں ہرگز خود کو بری قرار نہیں دیتا۔
اور "اولیاء اللہ" کی حالت اسی طرح ہے کہ وہ راہ خدا میں ہر قسم کی زحمت و تکلیف اور سعی و کاشش کے بعد بھی اپنے آپ کو مقصر سمجھتے ہیں اور ہرگز غرور و تکبر اور خود کو بڑا سمجھنے میں گرفتار نہیں ہوتے۔
نوحؑ حقیقت میں چند افراد کے لیے طلبِ مغفرت کرتے ہیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎ 1 "تبار" ہلاکت کے معنی میں ہے اور "زبان اور خسارے" کے معنی میں بھی اس کی تفسیر ہوئی ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اول: اپنے لیے ، کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی قصور یا ترک اولٰی ان سے سرزد ہوگیا ہو۔
دوم: اپنے ماں باپ کے لیے ، ان کی زحمتوں کی قدردانی کے باعث اور حق شناسی کے پیش نظر۔
سوم: تمام ان لوگوں کے لیے جو ان پر ایمان لائے، اگرچہ وہ بہت تھوڑے تھے اور پھر وہ آپ کے ساتھ کشتی پر سوار ہوئے کہ وہ کشتی بھی نوحؑ کا گھر تھی۔
چہارم: تمام جہان اور طول تاریخ میں ایمان لانے والے مردوں اور عورتوں کے لیے اور یہاں سے اپنا رابطہ سارے عالم کے مومنین سے برقرار کر رہے ہیں ۔
لیکن آخر میں پھر ظالموں کی نابودی کی تاکید کرتے ہیں ، جو اس بات کیطرف اشارہ ہے کہ وہ اپنے ظلم کی بناء پر اسی قسم کے بارے عذاب کے مستحق ہیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــ