Tafseer e Namoona

Topic

											

									  نوح پہلے اولوالعزم پیغمبر

										
																									
								

Ayat No : 26-28

: نوح

وَقَالَ نُوحٌ رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا ۲۶إِنَّكَ إِنْ تَذَرْهُمْ يُضِلُّوا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوا إِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا ۲۷رَبِّ اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَيْتِيَ مُؤْمِنًا وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَلَا تَزِدِ الظَّالِمِينَ إِلَّا تَبَارًا ۲۸

Translation

اور نوح نے کہا کہ پروردگار اس زمین پر کافروں میں سے کسی بسنے والے کو نہ چھوڑنا. کہ تو انہیں چھوڑ دے گا تو تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور فاجر و کافر کے علاوہ کوئی اولاد بھی نہ پیدا کریں گے. پروردگار مجھے اور میرے والدین کو اور جو ایمان کے ساتھ میرے گھر میں داخل ہوجائیں اور تمام مومنین و مومنات کو بخش دے اور ظالموں کے لئے ہلاکت کے علاوہ کسی شے میں اضافہ نہ کرنا.

Tafseer

									     چند نکات
          نوحؑ پہلے اولوالعزم پیغمبر
       قرآن مجید بہت سی آیات میں نوحؑ کے بارے میں گفتگو کرتا ہے اور مجموعی طور قرآن کی انتیس سورتوں میں اس عظیم پیغمبر کے بارے میں گفتگو ہوئی ہے۔ اور ان کا نام 43 مرتبہ قرآن میں آیا ہے۔
       قرآن مجید نے ان کی زندگی ک مختلف حصوں کی باریک بینی کے ساتھ تفصیل بیان کی ہے ایسے حصے جو زیادہ تر تعلیم و تربیت اور پندو نصیحت حاصل کرنے کے پہلوؤں سے مربوط ہیں۔
        مورخین و مفسرین نے لکھا ہے کہ نوحؑ کا نام "عبدالغفار" یا "عبدالملک" یا "عبدالاعلٰی" تھا اور "نوح" کا لقب انھیں اس لیے دیا  گیا ہے، کیونکہ وہ سالہا سال اپنے اوپر یا اپنی قوم پر نوحہ گری کرتے رہے۔ آپ کے والد کا نام "لمک" یا "لامک" تھا۔ اور آپ کی عمر ک مدت میں اختلاف ہے، بعض روایات میں 1490 اور بعض میں 2500 سال بیان کی گئی ہے اور ان کی قوم کے بارے میں بھی طولانی عمریں تقریبًا 300 سال تک لکھی ہیں، جو بات مسلم ہے وہ یہ ہے کہ آپ نے بہت طولانی عمر پائی ہے، اور قرآن کی صراحت کے مطابق آپ 950 سال اپنی قوم کے درمیان رہے (اور تبیلغ میں مشغول رہے)۔
      نوحؑ کے تین بیٹے تھے "حام" "سام" "یافث" اور مؤرخین کا نظریہ یہ ہے کہ کرہ زمین کی اس وقت کی تمام نسل انسانی کی باز گشت انھیں تینوں فرزندوں کی طرف ہے۔ ایک گروہ "حامی" نسل ہے۔ جو افریقہ کے علاقہ میں رہتے ہیں۔دوسرا گروہ "سامی" نسل جو شرق اوسط اور مشرق قریب کے علاقوں میں رہتے ہیں اور "یافث" کی نسل کو چین کے سا کنین سمجھتے ہیں۔ 
       اس بارے میں بھی ، کہ نوحؑ طوفان کے کتنے سال زندہ رہے، اختلاف ہے ، بعض نے 50 سال لکھے ہیں اور بعض نے 60 سال - یہود کے منابع (موجودہ تورات میں بھی نوح کی  زندگی کے بارے میں تفصیلی بحث آئی ہے، جو لحاظ سے قرآن سے مختلف ہے ، اور تورات کی تحریف کی نشانیوں میں سے ہے۔)

        یہ مباحث تورات کے سفر "تکوین" میں فصل 6،7،8،9،اور 10 میں بیان ہوئے ہیں۔
         نوحؑ کا ایک اور بیٹا بھی تھا، جس کا نام "کنعان" تھا۔ جس نے باپ سے اختلاف کیا، یہاں تک کہکشتی نجات میں ان کے ساتھ بیٹھنے کے لیے بھی تیار نہ ہوا ، اس نے برے لوگوں کے ساتھ صحبت رکھی اور خاندانِ نبوت کی قدر و قیمت کو ضائع کردیا اور قرآن کی صراحت کے مطابق آخر کار وہ بھی باقی کفار کے مانند طوفان میں غرق ہوگیا۔ 
           اس بارے میں کہ اس طویل مدت میں کتنے افراد نوحؑ پر ایمان لائے، اور ان کے ساتھ کشتی میں سوار ہوئے، اس میں بھی اختلاف ہے بعض نے 80 اور بعض نے 7 افراد لکھے ہیں۔ 
             نوحؑ کی داستان عربی اور فارسی ادبیات میں بہت زیادہ بیان ہوئی ہے ، اور زیادہ تر طوفان اور آپ کی کشتی نجات پر تکیہ ہوا ہے۔ ؎1 
              نوحؑ صبر و شکر اور استقامت کی ایک داستان تھے اور محققین کا کہنا ہے کہ وہ پہلے شخص ہیں جنھوں نے انسانوں کی ہدایت کےلیے وحی منطق کے عقل و استدلال کی منطق سے بھی مددلی (جیسا کہ اس سورہ کی آیات سے اچھی طرح ظاہر ہے) اور اسی بناء پر آپ اس جہان کے تمام خدا پرستوں پر ایک عظیم حق رکھتے تھے ۔ 
               ہم نوحؑ کے حالات کی تشریح کو امام باقرؑ کی ایک حدیث پر ختم کرتے ہیں ، آپ نے فرمایا: نوحؑ غروبِ آفتاب اور صبح کے وقت یہ دعا اور مناجات پڑھا کرتے تھے۔
                              ! امسیت اشھدانہ ماامسی بی من نعمۃ فی دین او دنیا فانھا من 
                              اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الحمد بھا علی واشکرکثیرًا فانزل اللہ
                              "انہ کان عبدًا شکورًا" فھذا کان شکرہ؛
                              میں نے اس حالت میں شام کی ہے کہ اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ دین و دنیا کی جو نعمت میں رکھتا
                              ہوں، وہ اس خدائے یگانہ کی طرف سے ہے، جس کا کوئی شریک نہیں ہے، اور میں اس کی نعمتوں پر   
                              پر اس کی حمد و ثناء کرتا ہوں اور اس کا بہت بہت شکر کرتا ہوں۔
         اسی بناء پر خدا نے قرآن میں یہ نازل فرمایا ہے کہ وہ شکر گزار بندہ تھا اور نوحؑ کا شکر اسی طرح کا تھا۔ ؎ 2
                                                                     ــــــــــــــــــــــــــــــــ
           2-   "رب اغفرلی الوالدی ولمن دخل بیتی مؤمنًا" پروردگارا!مجھے میرے ماں باپ کو اور جو شحص میرے گھر میں مومن وارد ہو بخش دے"۔ کے جملہ میں لفظ "بیت" کے معنی میں اختلاف ہے مجموعی طور پر اس کے چار معانی بیانکیے گئے ہیں بعض نے اسے شخصی اور ذاتی گھر کے معنی میں لیا ہے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ؎ 1    "اعلام القرآن" ، "فرہنگ قصص قرآن" ، "دائرۃ المعارف و ھحزا" مادہ "نوح" و "بحارالانور جلد"
  ؎ 2    بحارالانوار جلد 11 ص 291 حدیث
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
        بعض مسجد کے معنی میں لیتے ہیں۔
        بعض کشتی کے معنی میں لیتے ہیں اور
        بعض ان کے دین و آئین و شریعت کے معنی میں جانتے ہیں۔
        ایک حدیث میں امام صادقؑ سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا :
                         "یہاں بیت سے مراد ولایت ہے، جو شخص ولایت میں داخل ہوا وہ انبیاء کے میں داخل ہوا ہے"۔
                             "من دخل فی الولایۃ دخل فی بیت الا نبیاء علیھم السلام"
                                                                     ـــــــــــــــــــــــــــــــ
         خداندا! ہمیں توفیق مرحمت فرما کہ ہم ولایت آئمہ اہل بیت کو قبول کرنے کے طریق سے بیت انبیاء میں داخل ہوں۔
          پروردگارا! ہمیں ایسی استقامت عطا فرما کہ ہم نوحؑ ایسے بزرگ انبیاء کے مانند تیرے دین و آئین کی طرف دعوت کی راہ میں خستہ نہ ہوں، اور ہر گز تھک ہار کر نہ بیٹھ جائیں۔
            بارالٰہا! جس وقت تیرے خشم و غضب کا طوفان آئے تو ہمیں اپنے لطف و رحمت کی نجات کی کشتی کے ذریعہ رہائی بخش دے۔
                                                                                       آمین یارب العالمیبن
                                                                                         اختتام سورہ نوح
                                                                                 اول ماہ محرم الحرام 1407ھ
                                                                                              ـــــــــــــ                                                                      
                                                                        اختتام ترجمہ بوقت تقریبًا پونے سات بجے صبح
                                                                                  21 محرم الحرام 1408ھ مطابق 15 ستمبر 1987ء
                                                                                                 81- ای ماڈل ٹاؤن - لاہور 
                                                                                       صفدر حسین نجفی