خدا کا لطف تجھ سے مدارات کہتا ہے
قَالَ نُوحٌ رَبِّ إِنَّهُمْ عَصَوْنِي وَاتَّبَعُوا مَنْ لَمْ يَزِدْهُ مَالُهُ وَوَلَدُهُ إِلَّا خَسَارًا ۲۱وَمَكَرُوا مَكْرًا كُبَّارًا ۲۲وَقَالُوا لَا تَذَرُنَّ آلِهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَلَا سُوَاعًا وَلَا يَغُوثَ وَيَعُوقَ وَنَسْرًا ۲۳وَقَدْ أَضَلُّوا كَثِيرًا ۖ وَلَا تَزِدِ الظَّالِمِينَ إِلَّا ضَلَالًا ۲۴مِمَّا خَطِيئَاتِهِمْ أُغْرِقُوا فَأُدْخِلُوا نَارًا فَلَمْ يَجِدُوا لَهُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَنْصَارًا ۲۵
اور نوح نے کہا کہ پروردگار ان لوگوں نے میری نافرمانی کی ہے اور اس کا اتباع کرلیا ہے جو مال و اولاد میں سوائے گھاٹے کے کچھ نہیں دے سکتا ہے. اور ان لوگوں نے بہت بڑا مکر کیا ہے. اور لوگوں سے کہا ہے کہ خبردار اپنے خداؤں کو مت چھوڑ دینا اور ود, سواع, یغوث, یعوق, نسر کو نظرانداز نہ کردینا. انہوں نے بہت سوں کو گمراہ کردیا ہے اب تو ظالموں کے لئے ہلاکت کے علاوہ کوئی اضافہ نہ کرنا. یہ سب اپنی غلطیوں کی بنا پر غرق کئے گئے ہیں اور پھر جہنم ّمیں داخل کردیئے گئے ہیں اور خدا کے علاوہ انہیں کوئی مددگار نہیں ملا ہے.
تفسیر
خدا کا لطف تجھ سے مدرات کرتا ہے
جب نوحؑ نے سینکڑوں سال کوشش تک اپنی پوری پوری کوشش کر کے دیکھ لی اور وہ قوم ایک چھوٹے سے گروہ کے سوا، اسی طرح کفر، بت پرستی، گمراہی اور فساد پر ڈٹی رہی، تو وہ ان کی ہدیت سے مایوس ہوگئے اور بارگاہِ خدا کی طرف رخ کیا، اور ایک استدلالی مناجات کے ضمن میں خدا سے ان کے لیے عذاب کا تقاضا کیا، جیسا کہ زیر بحث آیت میں آیا۔
نوحؑ نے کہا: پروردگارا! انھوں نے میری نافرمانی کی اور ایسے شخص کی پیروی کی، جس کے مال اور اولاد نے خسارے کے سوا ان میں کسی چیز کا اضافہ نہیں کیا۔ (قَالَ نُـوْحٌ رَّبِّ اِنَّـهُـمْ عَصَوْنِىْ وَاتَّبَعُوْا مَنْ لَّمْ يَزِدْهُ مَالُـهٝ وَوَلَدُهٝٓ اِلَّا خَسَارًا)۔
یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس قوم کے رہبر ایسے لوگ ہیں ، جن کا امتیاز مال و الاد کی زیادتی ہے اور وہ مال و الاد بھی ایسےجو فساد و خرابی کے سوا کسی کام نہیں آتے ، نہ تو وہ مخلوق ہی کی خدمت کرتے ہیں اور نہ ہی خالق کے سامنے خضوع و خشوع کرتے ہیں اور یہ بکثرت وسائل و امکانات ان کے غرور وطغیان اور سرکشی کا سبب بن گئے ہیں۔
اگر ہم نوعِ و بشر کی تاریخ کی طرف نگاہ کریں تو ہم دیکھیں گے کہ مختلف قوموں کے بہت سے رہبر اس قماش کے تھے ، وہ ایسے لوگ تھے جن کا تنہا امتیاز ، مالِ حرام جمع کرنا اور غیر صالح اولاد کو وجود میں لانا اور اس کے بعد سر کشی اور طغیان اور آخر میں اپن ے افکار و نظریات، مستضعف اور کمزور لوگوں پر لادنا اور انھیں زنجیروں میں جکڑنا تھا۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اس کے بعد مزید کہتا ہے: "ان گمراہ راہبروں نے مکرِ عظیم کیا"۔(وَمَكَـرُوْا مَكْـرًا كُبَّارًا)۔
"کبار" جو "کبر" سے مبالغہ کا صیغہ ہے اور یہاں نکرہ کی صورت میں ذکر ہوا ہے۔ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انھوں نے لوگوں کو گمراہ کرنے اوت نوحؑ کی دعوت کو قبول کرنے سے روکنے کت لیے بہت عظیم اور وسیع شیطانی منصوبے بنارکھے تھے۔ لیکن ہو منصوبے کیا تھے، ٹھیک طور پر مشخص نہیں ہیں۔
احتمال یہ ہے کہ وہی بت پرستی کا مسئلہ ہوگا، کیونکہ بعض روایات کے مطابق ، بت پرستی نوحؑ سے پہلے موجود نہیں تھی۔بلکہ نوحؑ کی قوم نے ہی اسے ایجاد کیا تھا۔ اس مسئلہ کا سر چشمہ یہ تھا کہ آدمؑ اور نوحؑ کے درمیانی زمانہ میں کچھ ایسے نیک اور صالح افراد ہو گزرے تھے۔ جن سے لوگ اظہار محبت کیا کرتے تھے، شیطان(اور شیطان صفت انسانوں)نے لوگوں کے اس لگائو اور محبت سے سوءِاستفادہ کیا اور انھیں ان بزرگوں کے مجسمے بنانے، اور ان مجسموں کی عزت و احترام کرنے کا شوق دلایا۔
لیکن کچھ زیادہ وقت نہ گزرا تھا کہ بعد میں آنے والی نسلیں اس نوضوع کے رابطہ تاریخی کو بھول ھئیں اور انھوں نے خیال کیا کہ یہ ایسے محترم موجودات ہیں۔ جن کی پرستش اور عبادت کرنا چاہیےاور اس طرح سے وہ بتوں کی پرستش میں سرگرم ہوگئے اور ظلم مستکبرین نے انھیں غفلت میں رکھ کر اس طریقے سے انھیں اپنی قید و بند میں لیا اور ایک عظیم مکر و فریب واقع ہوا۔
ہوسکتا ہے کے بعد والی آیت اس مطلب کی گواہ ہو ، کیونکہ اس عظیم مکر کی طرف ایک اجمالی اشارہ کرنے کے بعد مزید کہتا ہے ۔" ان کے روسا نے کہا ،اپنے خدائوں اور بتوں سے دستبردار نہ ہونا"۔(وَقَالُوْا لَا تَذَرُنَّ اٰلِـهَتَكُمْ)۔
اور خدا یگانہ کے بارے میں نوحؑ کی ہرگز دعوت قبول نہ کرنا، وہ خدا جو نہ دکھائی ہی دیتا ہے اور نہ ہی ہاتھ کے ساتھ چھونے کے قابل ہے۔
انھوں نے خصوصیت کے ساتھ انھیں پانچ بتوں کے بارےمیں تاکید کی اور کہا: "ود" و "یغوث" و "یعوق" و "نسر" کو ہرگز نہ چھوڑنااور نہ ان کے دامن کو چھوڑنا ۔"(َلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّلَا سُوَاعًا وَّلَا يَغُوْثَ وَيَعُوْقَ وَنَسْرًا)۔
قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پانچ بت کچھ خاص امتیازات رکھتے تھے اور وہ گمراہ قوم ان کی طرف خاص طور پر متوجہ تھی اور اسی بناء پر ان کے فرصت طلب وہبر بھی ان کی عبادت پر تکیہ کرتے تھے۔
یہ بات کہ یہ پانچ بت کہاں سے آئے ؟ اس سلسلہ میں گوناگوں روایات ہیں۔
1- بعض نے یہ کہا کہ یہ پانچ نیک اور صالح افراد کے نام ہیں ، جو نوحؑ سے پہلے دنیا میں گزرے ہیں ۔ جب وہ دنیا سے چل بسے تو ابلیس کی تحریک پر لوگوں نے یادگار کے طور پر ان کے مجسمے بنا لیے اور ان کا احترام و عزت کرنے کرنے لگے اور آہستہ آستہ بت پرستی کی صورت اختیار کرلی۔
2- بعض نے یہ کہا ہے کہ یہ آدمؑ کے پانچ بیٹوں کے نام ہیں ، ان میں جب کوئی دنیا سے جاتا تو اس کا مجسمہ یادگار کے طور پر بنا لیتے ، لیکن کچھ عرصہ گزرجانے کے بعد یہ تعلقات فراموش ہوگئے اور نوحؑ کے زمانہ میں ان کی پرستش کی لہر دوڑ گئی۔
3- بعض کا کہنا یہ ہے کہ یہ ان بتوں ہی کے نام ہیں جو خود نوحؑ کے ہی زمانہ میں بنائے گئے تھے ، اور یہ اس وجہ سے ہوا کہ نوحؑ لوگوں کو آدمؑ کی قبر کے گرد طواف کرنے سے روکتے تھے تو ایک گروہ نے ابلیس کی تحریک پر اس کے کچھ مجسمے بنا لیے اور ان کی پرستش میں مشغول ہوگئے۔ ؎ 1
اتفاقًا یہ پانچوں بت زمانہ جاہلیت کے عربوں کی طرف منتقل ہوگئے ، پھر ہر قبیلہ نے ان بتوں میں سے ایک کو اپنے لیے انتخاب کرلیا، البتہ یہ بات بہت بعید نظر آتی ہے کہ خود وہ بت منتقل ہوئے ہوں بلکہ ظہر یہ ہے کہ ان کے نام منتقل ہوئے۔ اور انھوں نے ان ناموں کے بت بنا لیے ، لیکن بعض مفسرین نے ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ یہ پانچوں بت طوفانِ نوح میں دفن ہوگئے تھے اور عربوں کے زمانہ جاہلیت میں شیطان نے انھیں باہر نکلا اور لوگوں کو ان کی پرستش کی دعوت دی ۔ ؎ 2
پھر اس بارے میں کہ زمانہ جاہلیت کے عرب قبائل میں یہ بت کس طرح تقسیم ہوئے، اختلاف ہے۔
بعض نے کہا کہ "ود" بت تو "بنی کلب" کے قبیلہ سے متعلق تھا جو سر زمین "دومتہالجندل" میں رہتا تھا (وہ شہر جو تبوک کے نزدیک ہے اور جسے موجودہ زمانہ میں جوف کہتے ہیں ) اور "سواع" قبیلہ "ہزیل" سے جو سر زمین "رہاط" میں تھا، متعلق تھا،اور
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎ 1 مجمع البیان ، تفسیر علی بن ابراہیم ، تفسیر ابوالفتوح رازی اور دوسری تفاسیر (زیر بحث آیات کے ذیل میں)
؎ 2 تفسیر قرطبی جلد 10 ص 67 87
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
"یغوث" بت "بنی قطیف" کے قبیلہ سے یا "بنی مزحج" کے قبیلہ سے تعلق رکھتا تھا اور "یعوق" قبیلہ ہمدان سے ،اور "نسر" "ذی الکلاح" قبیلہ سے جو حمیر کے قبائل میں سے تھا ۔ ؎ 1
مجموعی طور پر ان بتوں میں تین بت (یغوث ، یعوق اور نسر) سر زمین یمن میں تھے، جو "ذونواس" کے یمن پر تسلط سے ختم ہوگئے اور اس علاقہ کے لوگ دینِ ہیود سے وابستہ ہوگئے ۔ ؎ 2
"واقدی" مشہور مؤرخ کہتا ہے کہ "ود" بت مرد کی شکل میں تھا اور "سواع" عورت کی شکل میں "یغوث" شیر کی صورت میں اور "یعوق" کھوڑے کی شکل اور "نسر" "باز" کی صورت میں (جو ایک معروف پرندہ ہے )۔ ؎ 3
البتہ زمنہ جاہلیت کے عربوں ـــــــــــــــ خصوصًا اہل مکہ ـــــــــــــــ کے پاس اور بت بھیئ تھے۔ جن میں سے ایک بت "جسل" تھا، جو ان کے بتوں میں سے سب بڑا تھا اور وہ خانہ کعبہ کے اندر رکھا ہوا تھا۔ اس کا طول 18 ہاتھ تھا۔ بت "اساف" حجراسود کے مقابل تھا، اور بت "نائلہ" (خانہ کعبہ کے جنوبی کونہ میں) رکن یمانی کے سامنے تھا اور اسی طرح "لات" و "عزی" بت تھے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اس کے بعد نوحؑ مزید کہتے ہیں: "خداوندا! ان گمراہ اور خود غرض رہبروں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیا"۔( وَقَدْ اَضَلُّوْا كَثِيْـرًا )۔
"خداوندا! ظالموں میں ضلالت اور گمراہی کے علاوہ کسی چیز کااضافہ نہ کرنا"۔(َلَا تَزِدِ الظَّالِمِيْنَ اِلَّا ضَلَالً)۔
ظالموں اور ستم گروں میں ضلالت و گمراہی کو زیادہ کرنے سے مراد وہی ان سے توفیق الٰہی کا سلبہونا ہے جو ان کی بدبختی کا سبب بن جاتا ہے جسے وہ اپنے ظلم کی وجہ سے پاتے ہیں، کیونکہ خدا نور ایمان کو ان چھین لیتا ہے اور کفر کی تاریکی کو اس کا جانشین بنا دیتا ہے۔
یہ ان کے اعمال کی خاصیت ہے ۔ جس کی خدا کی طرف نسبت دی گئی ہے، کیونکہ ہر موجود جو تاثیر بھی رکھتا ہے، وہ اسی کے حکم سے ہے (غور کیجیے)۔
جو کچھ بھی ہو، کفر و ایمان اور ہدایت و ضلالت کے سلسلہ میں وہ خداوند تعالٰی کی حکمت کے ساتھ کسی قسم کی منافات نہیں رکھتا اور اختیار کے سلب ہونے کا سبب نہیں بنتا۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آخر کار آخری زیر بحث آیت میں ، اس سلسلہ میں آخری بات خدا یہ فرماتا ہے: "وہ اپنے گناہوں کی وجہ سے غرق ہوگئے اور انھیں آگ میں
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎ 1،2 مجمع البیان جلد 10 ص 364 واعلام القرآن ص 631
؎ 3 مجمع البیان جلد 10 ص 364
؎ 4 "اضلوا" کی ضمیر اس گروہ کے دولت مند روسا اور رہبروں کی طرف لوٹتی ہے اور قرینہ اس کا گزسشتہ آیت ہے جو کہتی ہے : وَقَالُوْا لَا تَذَرُنَّ اٰلِـهَتَكُمْ "انھوں نے کہا اپنے بتوں کو نہ چھوڑو " لیکن بعض مفسرین نے یہ احتمال دیا ہے کہ یہ ضمیر بتوں کی طرف لوٹتی ہے کیونکہ وہی گمراہی کا سبب تھے (اور اسی کی مشابہ سورہ ابراہیم کی آیہ 32 میں آیا ہے، لیکن جمع مزکر کی صرت میں نہیں بلکہ جمع مونث کی صورت میں ) لیکن یہ احتمال زیرِ بحث آیت میں بہت بعید نظر آتا ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
داخل کردیا گیا اور انھیں خدا کے سوا اور کوئی یار مددگار نہ ملا۔ جو اس خشم و غضب سے ان کا دفاع کرے"۔(ِّمَّا خَطِيٓـئَاتِـهِـمْ اُغْرِقُوْا فَاُدْخِلُوْا نَارًاۙ فَلَمْ يَجِدُوْا لَـهُـمْ مِّنْ دُوْنِ اللّـٰهِ اَنصَارًا)۔ ؎ 1
آیت کی تعبیر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہ غرق ہونے کے بعد بلا فاصلہ آگ میں داخل کردیے گئے اور یہ عجیب بات ہے کہ پانی میں سے فورًا آگ میں داخل ہوں ، اور یہ آگ وہی برزخ والی آگ ہے ، چونکہ قرآن مجید کی آیات کی گواہی کے مطابق ایک گروہ کو موت کے بعد عالمِ نرزخ میں سزا ملے گی اور بعض روایات کے مطابق "قبر" یا تو جنت کے باغوں میں ایک باغ ہے یا دوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے۔
یہ احتمال بھی دیا گیا ہے کہ اس سے مراد قیامت کی آگ ہے لیکن چونکہ قیامت کا وقوع قطعی اور یقینی ہے اور اس میں کوئی زیادہ فاصلہ نہیں ہے، لہذا فعل ماضی کی صورت میں ذکر ہوا ہے ۔ ؎ 2
بعض نے یہ احتمال بھی دیا ہے کہ اس سے مراد دنیا کی آگ ہے ، کپتے ہیں کہ خدا کے حکم سے ، طوفانکی انھیں موجوں کے درمیان ایک آگ ظاہر ہوئی اور انھیں نگل گئی۔ ؎ 3
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎1 "مما خطیئاتھم" میں "من" یاء معیت یالام تعلیل کے معنی میں ہے اور "ما" یہاں زائد اور تاکید کے لیے ہے۔
؎2 "فخر رازی" نے اپنے تفسیر میں اسے ایک قول کے عنوان سے نقل کیا ہے جلد 20 ص 145
؎3 تفسیر "ابو الفتوح رازی" جلد 11 ص 280