Tafseer e Namoona

Topic

											

									  باغبان ہستی نے تمھیں ایک پھول کی طرح پالا ہے۔

										
																									
								

Ayat No : 15-20

: نوح

أَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللَّهُ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا ۱۵وَجَعَلَ الْقَمَرَ فِيهِنَّ نُورًا وَجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا ۱۶وَاللَّهُ أَنْبَتَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ نَبَاتًا ۱۷ثُمَّ يُعِيدُكُمْ فِيهَا وَيُخْرِجُكُمْ إِخْرَاجًا ۱۸وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ بِسَاطًا ۱۹لِتَسْلُكُوا مِنْهَا سُبُلًا فِجَاجًا ۲۰

Translation

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے کس طرح تہ بہ تہ سات آسمان بنائے ہیں. اور قمر کو ان میں روشنی اور سورج کو روشن چراغ بنایا ہے. اور اللہ ہی نے تم کو زمین سے پیدا کیا ہے. پھر تمہیں اسی میں لے جائے گا اور پھر نئی شکل میں نکالے گا. اور اللہ ہی نے تمہارے لئے زمین کو فرش بنادیا ہے. تاکہ تم اس میں مختلف کشادہ راستوں پر چلو.

Tafseer

									                تفسیر
            باغبانِ ہستی نے تمھیں ایک پھول کی طرح پالا ہے
                    حضرت "نوحؑ" ہٹ دھرم مشرکین کے مقابلہ میں ، اہنے گہرے اور استدلالی بیانات کے ذریعہ ، پہلے تو ان کا ہاتھ پکڑ کر ان کے وجود کی گہرائیوں میں لے گئے، تاکہ وہ آیات انفسی کا مشاہدہ کریں ( جیسا کہ گزشتہ آیات میں گزر چکا ہے۔ اس کے بعد ، جیسا کہ زیر بحث آیات میں بیان آیا ہے، انھیں خلقت و آفرینش کے عالمِ بزرگ میں خدا کی نشانیوں کے مطالعہ کی دعوت دیتے ہیں- اور انھیں آفاق کی سیر کی طرف لے جاتے ہیں۔ ؎ 1 
                    پہلے آسمان سے شروع کرتے ہوئے کہتا ہے : "کیا تم دیکھتے ٓنہیں کہ خدا نے سات آسمانوں کو ایک دوسرے کے اوپر کس طرح سے پیدا کیا ہے"(اَلَمْ تَـرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللّـٰهُ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا)۔ ؎ 2
                   "طباق"باب "مفاعلہ" کا مصدر ہے جو "مطابقہ" کے معنی میں ہے جو بعض اوقات ایک چیز کے دوسری چیز پر قرار پانے کے معنی میں آتا ہے ، اور کبھی دو چیزوں کی ایک ایک دوسرے سے ہم آہنگی اور مطابقت کے معنی میں ہوتا ہے، اور یہاں دونوں معنی صادق آتے ہیں۔
                   پہلے معنی کے مطابق ساتوں آسمان ایک دوسرے کے اوپر قرار پائے ہیں اور ساتوں آسمانوں کی تفسیر میں جس طور پر ہم پہلے بیان کر چکے ہیں ۔ ایک قابلِ توجہ تفسیر یہ ہے کہ وہ تمام ثوابت و سیارستارے، جنھیں ہم خوردبینوں کے ذریعے یا بغیر خوردبینوں کے آنکھ سے دیکھتے ہیں ، وہ سب کے سب پہلے آسمان کا حصہ ہیں، اور دوسرے چھ عالم اس کے بعد ایک دوسرے کے اوپر قرار پاتے ہیں ، جو موجودہ زمانہ کے انسان کی پہنچ سے باہر ہیں اور ممکن ہے کہ آئندہ کسی ذمانہ میں انسان یہ لیاقت و اسرعداد پیدا کرے کہ وہ ان عجیب اور وسیع عوالم کو بھی ایک دوسرے کے بعد معلوم کرے۔ ؎ 3   
                  اور دوسرے اعتمال کی بناء پر ، قرآن سات آسمانوں کی ، نظم و ضبط اور عظمت و زیبائی میں، ایک دوسرے سے ہم آہنگی اور مطابقت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
                                                                                                  ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
                  اس کے بعد مزید کہتا ہے: خدا نے چاند کو سات آسمانوں کے درمیان، تمھارے لیے نور اور روشنی کا سبب اور سورج کو چراغ فروزاں قرار دیا ہے"(وَجَعَلَ الْقَمَرَ فِـيْهِنَّ نُـوْرًا وَجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا)۔
                  یہ ٹھیک ہے کہ سات آسمانوں  میں لاکھوں اربوں چمکنے والے ستارے ہیں ، جو ہمارے چاند اور سورج سے بھی زیادہ روشن ہیں، لیکن جو ہمارے لیے اہم ہے اور ہماری  زندگی میں اثر انداز ہے وہ نظامِ شمسی کا یہی سورج اور چاند ہے ۔ جن پر سے ایک تو ہماری فضائے زندگی کو دونوں میں اور دوسرا راتوں میں روشن کرتا ہے۔ ؎ 4 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ؎ 1       اس بارے میں کہ یہ باتیں نوحؑ کے کلام تمتہ اور آخری حصہ ہے یا ایسے مستقل جملے ہیں جو خدا کی طرف سے مسلمانوں کے خطاب کے لیے بطور جملہ معترضہ کے صادر ہوتے ہیں۔ مفسرین کے درمیان اختلافات ہے، لیکن ان میں سے بعض سوں نے اس بات کو ترجیح دی ہے کہ یہ نوحؑ کے کلام کا تمتہ ہے اور کا ظاہر بھی اسی بات کا تقاضا کرتا ہے۔ اور ان آیات کے بعد  "وقال نوح" کا جملہ آیا ےہ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ نوحؑ لوگوں سے اپنی بات ختم کرنے کے بعد بارگاہِ خدا کی طرف رخ کرکے ان کی شکایت کرتے ہیں۔
  ؎ 2      "طباقًا"  ممکن ہے مفعول مطلق ہو ، یا حال ہو۔
  ؎ 3       سات آسمانوں کی گوناگوں تفاسیر کے بارے میں ہم  سورہ بقرہ آیہ 29 کی ذیل میں (جلد اول تفسیر نمونہ میں) تفصیلی بحث کر چکے ہیں۔
  ؎ 4       یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ "فیھن" کی ضمیر جو ظاہرًا "سبح سماوات" کی طرف لوٹتی ہے کوئی مشکل پیدا نہیں کرتی، کیونکہ گفتگو ہمارے لیے نور اور روشنی کی ہے۔ اس لیے ہمارے لیے لازم نہیں ہے کہ پم "نی"کو"مع" کے معنی میں یا "ھن" کی ضمیرکو" نچلے آسمان کے معنی میں لیں۔ 
________________________________________________________
                    "سراج" (چراغ) کی سورج کی تعبیر اور "نور" کی "چاند" کے لیے تعبیر اس بناء پر ہے کہ "سورج" کی روشنی تو خود چراغ کی طرح اسی کے اندر سے پھوٹتی ہے، لیکن چاند کا نور خود اسی میں سے نہیں ہے، بلکہ وہ اس عکس کے مشابہ ہے جو آئینہ سے منعکس ہوتا ہے ، اسی لیے لفظ "نور" جو ایک عام مفہوم رکھتا ہے اس کے بارے میں استعمال ہوا ہے۔
                    تعبیر کا یہ فرق قرآن کی دوسری آیات میں بھی نظر آتا ہے۔
                    ہم اس سلسلے میں سورہ یونس کی آیہ 5 کے ذیل میں (جلد 8 ص 302) بہت زیادہ تفصیل سے بیان کرچکے ہیں۔
                                                                       ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
                      اس کے بعد دوبارہ انسان کی خلقت کی طرف لوٹتا ہے اور مزید کہتا ہے: "خدانے تمھیں نباتات  کی طرح زیمن سے اگایا ہے"(وَاللّـٰهُ اَنْبَتَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ نَبَاتًا)۔ ؎ 1
                         انسان کے بارے میں "انبات" کی تعبیر اس بناء پر ہے کہ اولاً انسان کی پہلی خلقت مٹی سے ہے اور ثانیاً وہ تمام غزائیں جو انسان کھاتا ہے اور جن کی وجہ سے نشوونما پاتاہے ، وہ سب زمین سے ہیں۔ یا تو وہ براہراست زمین سے ہوتی ہیں جیسے سبزیاں، غلے اور پھل یا غیر مستقیم طور پر مثلاًجانوروں کے گوشت اور ثالثاًانسان اور نباتات کے درمیان بہت زیادہ مشابہت ہے اور بہت سے ایسے قوانین جو نباتات کی غذا، تولید مثل اور نشوونما میں کار فرما ہیں وہ انسان پر بھی لاگو ہیں۔
                   یہ تعبیر انسان کے بارے میں بہت پُر معنی ہے اور یہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مسئلہ ہدایت میں خدا کا کام  صرف ایک معلم و استاد کا کام ہی نہیں ہے، بلکہ اس کاکام ایک باغبان کی طرح ہے نباتات کے بیج کو ایک مساعد ماحول میں قرار دیتا ہے تاکہ ان میں چھپی ہوئی استعداد ظہور میں آئے۔
                     سورہ آل عمران کی آیہ 37 میں حضت مریم کے بارے میں بھی یہ آیا ہے: وانبتھا نباتًا حسنًا: "خدا نے بہت ہی اچھے طریقے سے مریم کے وجود کو پیدا کیا اور اس کی پرورش کی"۔ یہ سب اسی لطیف نکتہ کی طرف اشارہ ہے۔
                        اس کے بعد مسئلہ معاد کی طرف، جو مشرکین کے لیے پیچیدہ مسائل میں ایک ہے ، متوجہ ہوتا اور فرماتا ہے: "اس کے بعد وہ تمھیں اسی زمین کی طرف ، جس اس نے تمھیں گایا تھا ، دوبارہ پلٹادےگا اور پھر دوبارہ تمھیں اس سے نکال کھڑا کرےگا"(ثُـمَّ يُعِيْدُكُمْ فِيْـهَا وَيُخْرِجُكُمْ اِخْرَاجًا)۔ 

                           ابتداء میں تم مٹی ہی تھے، پھر مٹی کی طرف لوٹ جائو گےاور وہی ذات جس یہ قدرت تھی کہ تمھیں ابتداء میں مٹی سے پیدا کرے، یہ قدرت رکھتی ہے کہ دوبارہ مٹی ہوجانے کے بعد ، تمھارے جسم پر دوبارہ حیات پہنادے۔ 
                               مسئلہ "توحید" سے "معاد" کی طرف یہ انتقال ، جو اوپر والی آیات میں بہت ہی عمدہ طریقہ پر منعکس ہوا ہے ، ان دونوں مسئلوں کے نزدیکی ربط کو بیان کرتا ہے اور اس طرح نوحؑ ، مخالفین کے مقابلہ میں ، نظامِ آفرینش کے طریق سے، توحید پر بھی استدالال کرتے ہیں، اور اسی طریقہ سے معاد پر بھی استدلال کرتے ہیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ؎1              اس آیت میں ایک قاعدہ کے لحاظ سے تو "انباتا" کہا جانا چاہیے تھا، لیکن آیت میں کطھ مقدر ہے اور وہ اس طرح ہے " انبتکم من الارض فنبتم بناتا" (تفسیر فخر رازی وابو الفتوح رازی)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
          
                      اس کے بعد پھر نئے سرے سے آیات آفاقی اور عالم کبیر میں توحید کی نشانیوں کی طرف لوٹتا پے اور زمین کے وجود کی نعمت کے متعلق گفتگو کرتا ہے، فرماتا ہے: "خدا نے زمین کو تمھارے لیے بچھا ہوا فرش قرار دیا"(وَاللّـٰهُ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ بِسَاطًا)۔ ؎1  
                        یہ نہ تو ایسی سخت ہے کہ اس پر آرام اور آمد و رفت ہی نہ کر سکو اور نہ ایسی نرم کہ تم اس میں دھنس جائو اور اس پر چل پھر بھی نہ سکو ۔
                  اور نہ ایسی گرم اور جلانے والی ہے کہ اس پر گرمی کی وجہ سے تکلیف اٹھائو اور نہ ایسی سرد اور بے حرارت ہے کہ اس پر زندگی بسر کرنا تمھارے لیے مشکل ہوجائے۔ اس کے علاوہ ایک ایسا وسیع آمادہ و تیار فرش ہے۔ جس میں تمھاری زندگی کی تمام ضروریات موجود ہیں۔
                                                                        ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
                    نہ صرف ہموار زمین ہی فرش کی طرح بچھی ہوئی ہیں بلکہ پہاڑ بھی، ان دروں اور شگافوں کی وجہ سے، جو ان کے درمیان موجود ہیں اور عبور کرنے کے قابل ہیں، بچھے ہوئے فرش ہی ہیں۔"ہدف و مقصد یہ ہے کہ تم ان وسیع راستوں اور دروں سے، جو اس زمین میں موجود ہیں ، گزر سکو اور جس علاقہ میں جانا چاہو جا سکو۔"(لِّـتَسْلُكُوْا مِنْـهَا سُبُلًا فِجَاجًا)۔
                  "فجاج" (بروزن مزاج) جمع ہے "فج" (بروزن فج) کی، اس درہ کے معنی میں ہے جو دو پہاڑوں کے درمیان ہوتا ہے۔ اور وسیع و کشادہ راستہ کو بھی کہا جاتا ہے۔ ؎2
                     اس طرح "نوحؑ" اپنی گفتگو کے حصہ میں ، کبھی تو آسمانوں اور آسمان کے ستاروں میں خدا کی نشانیوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور کبھی کرہ زمین میں اس کی گوناگوں نعمتوں کی طرف، اور کبھی انسان کی ساخت اور اس کی حیات کے مسئلہ کی طرف جو خدا کی شناخت کی بھی ایک دلیل ہے اور مسئلہ معاد کے اثبات کےلیے بھی۔ 
                        لیکن نہ تو پہلے انزاروں، بشارتون اور تشویقوں نے اس ہٹ دھرم قوم کے سیاہ دل میں کوئی اثر کیا اور نہ ہی کسی منطقی استدلال نے ، وہ اسی طرح سے مخالفت اور کفر پر تلے رہے اور خق کو قبول کرنے سے پہلو تہی کرتے رہے، جیسا کہ بعد والی آیات میں ان کی خیرہ سری کا انجام بیان ہوا ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
   ؎1          "بساط" "بسط" کی مادہ سے کسی چیز کو پھیلانے کے معنی میں ہے، اس لیے لفظ "بساط" ہر پھیلی ہوئی وسیع کو کہا جاتا ہے جس کا مصداق فرش ہے۔
  ؎2           مفردات "راغب" مادہ "فج"