Tafseer e Namoona

Topic

											

									  تقوی اور عمران و آبادی میں ربط

										
																									
								

Ayat No : 10-14

: نوح

فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا ۱۰يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا ۱۱وَيُمْدِدْكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَلْ لَكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَلْ لَكُمْ أَنْهَارًا ۱۲مَا لَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقَارًا ۱۳وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْوَارًا ۱۴

Translation

اور کہا کہ اپنے پروردگار سے استغفار کرو کہ وہ بہت زیادہ بخشنے والا ہے. وہ تم پر موسلا دھار پانی برسائے گا. اور اموال و اولاد کے ذریعہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے لئے باغات اور نہریں قرار دے گا. آخر تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم خدا کی عظمت کا خیال نہیں کرتے ہو. جب کہ اسی نے تمہیں مختلف انداز میں پیدا کیا ہے.

Tafseer

									   ایک نکتہ
      "تقوٰی" اور "عمران و آبادی" میں ربط :
            قرآن کی مختلف آیات سے ، منجملہ ان کے اوپر والی آیات سے یہ نکتہ اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے، کہ ایمان و عدالت ، معاشروں کی آبادی کا باعث ہیں اور کفر ، ظلم اور گناہ ویرانی و تبائی کا سبب ہیں۔
             سورہ اعراف کی آیہ 96 میں آیا ہے: وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰٓى اٰمَنُـوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْـهِـمْ بَـرَكَاتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ"  اگرشہروں اور بستیوں رہنے والے ایمان لے آتے اور تقوٰی اختیار کرتے تو ہم آسمان و ذمین کی برکتوں کے دروازے ان پر کھول دیتے۔"
              اور سورہ روم کی آیہ 41 میں آیا ہے:ظَهَرَ الْفَسَادُ فِى الْبَـرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِى النَّاسِ۔ خشکی اور سمندر میں، لوگوں کے اعمال کی وجہ سے فساد برپا ہوگیا ہے۔
                 اور سورہ شورٰی کی آیت 30 میں آیا ہے : وَمَآ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِيْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَيْدِيْكُمْ "جو مصیبت بھی تمھیں پہنچتی ہے ، وہ تمھارے اعمال کی وجہ سے ہوتی ہے"۔
                    اور سورہ مائدہ کی آیہ 66 میں آیا ہے : وَلَوْ اَنَّـهُـمْ اَقَامُوا التَّوْرَاةَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْـهِـمْ مِّنْ رَّبِّـهِـمْ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِـمْ وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِـمْ۔"اگر وہ توریت اور انجیل کو اور کو کچھ تمھارے پروردگار کی طرف سے ان پر نازل ہوا ہے اسے قائم رکھتے، تو وہ آسمان و زمین سے روزی کھاتے"۔ (اور آسمان اور زمین کی برکتیں انھیں گھیرلیتیں)، اور اسی قسم کی دوسری آیات مزید ہیں۔
                    یہ "رابطہ" صرف ایک باطنی و معنوی رابطہ ہی نہیں ہے ، بلکہ معنوی رابطہ کے علاوہ ـــــــــ جس کہ آثار اچھی طرح دکھائی دیتے ہیں ـــــــــــــ ایک واضح مادی رابطہ بھی ہے۔ 
                      کفر و بے ایمانی: مسئولیت کے عدم احساس ، قانون شکنی اور اخلاقی اقدار کو فراموش کرنے کا سرچشمہ بھی ہے اور یہ امور معاشروں کی وحدت کے ختم ہونے، اعتماد و اطمینان کے پایوں کے متزلزل ہونے، اقتصاد و انسانی قوتوں کے ضائع ہونے، اور اجتماعی اعتدال کے درہم برہم ہونے کاسبب بھی ہیں۔
                    واضح رہے کہ وہ معاشرہ جس پر ان امور کی حکمرانی ہو وہ بہت جلد پیچھے چلا جاتا ہے، اور سقوط و نابودی کی راہ پر چل پڑتا ہے اور اگر ہم کچھ معاشروں کو دیکھتے ہیں، کہ وہ ایمان و تقوٰی کے نہ ہونے کے باوجود ، مادی حالت کے سلسلہ میں ، پیش رفت کر رہے ہیں تواسے بھی بعض اخلاقی اصولوں کی رعایت کا مرہون منت سمجھنا چاہیے ، جو گزشتہ انبیاء کی میراث اور خدائی رہبروں ، علماء اور دانش مندوں کی صدیوں کی طویل زحمتوں کا نتیجہ ہے۔ 
                     اوپر والی آیات کے علاوہ اسلامی روایات میں بھی اس معنی پر بہت زیادہ تکیہ ہوا ہے کہ استغفار اور ترکِ گناہ، روزی کی کثرت اور زندگی کی بہبود کا سبب ہیں، منجملہ ان کے: 
                  ایک حدیث میں علیؑ سے آیا ہے ، کہ آپ نے فرمایا :
                                اکثر الاستغفار تجلب الرزق۔               
                                 زیادہ استغفار کر، تاکہ تو روزی کو جلب کرے۔ ؎ 1
                 ایک اور حدیث میں پیغمبراکرمؐ سے اس طرح نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا :
                                     من انعم اللہ علیہ نعمۃ فلیحمد اللہ تعالٰی، ومن استبطا الرزق فلیستغفراللہ ، ومن حزنہ امر فلیقل، لا حول ولا قوۃ الا باللہ

                       "جسے خدا نے نعمت بخشی ہے ، وہ خدا شکر بجا لائے، اور جس کی روزی میں کچھ تاخیر ہو تو وہ استغفار اور طلب بطخشش کرے ، اور جو کسی حادثہ کی وجہ سے غمگین ہو تو وہ ""  لا حول ولا قوۃ الا باللہ" کہے۔ ؎ 2
                         وقد جعل اللہ سبحانہ الاستغفار سببًا لدرورالرزق و رحمۃ الخق، فقال سبحانہ استغفار وا ربکم انہ کان غفارًا یرسل السماء علیکم مدرارًا..........."
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ؎ 1     تفسیر نورالثقلین جلد 5 ص 426
  ؎2      ایضاً
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
                        "خداوند سبحان نے استغفار کو روزی کی زیادتی ، اور مخلوق کے لیے رحمت قرار دیا ہے، اور فرمایا ہے کہ اپنے پروردگار سے بخشش طلب کرو، کہ وہ بہت بخشنے والا ہے، اور وہ آسمانوں کی برکتوں والی بارش تم پر برساتاہے"؎1
             حقیقت یہ ہے کہ بہت سے گناہوں کی سزا ، اسی جہان کی محرومیاں ہیں اور جب انسان اس سے توبہ کرکے پاکیزگی اور تقوٰی کی راہ اختیار کرلیتا ہے  تو خدا اس عزاب اور سزا کو اس سے بر طرف کر دیتا ہے۔ ؎ 2
                                                                                ــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ؎1     "نہج البلاغہ" خطبہ 142
  ؎2     ہم نے اس سلسلہ میں "گناہ اور معاشروں کی تبائی" کے عنوان کے تحت ، سورہ کی آیہ 52 کے ذیل میں، ایک دوسری تشریح بھی کی ہے تفسیر نمونہ جلد 9 ص 121