ایمان کی دنیاوی جزا
فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا ۱۰يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا ۱۱وَيُمْدِدْكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَلْ لَكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَلْ لَكُمْ أَنْهَارًا ۱۲مَا لَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقَارًا ۱۳وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْوَارًا ۱۴
اور کہا کہ اپنے پروردگار سے استغفار کرو کہ وہ بہت زیادہ بخشنے والا ہے. وہ تم پر موسلا دھار پانی برسائے گا. اور اموال و اولاد کے ذریعہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے لئے باغات اور نہریں قرار دے گا. آخر تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم خدا کی عظمت کا خیال نہیں کرتے ہو. جب کہ اسی نے تمہیں مختلف انداز میں پیدا کیا ہے.
تفسیر
ایمان کی دنیاوی جزا
نوح اس ہٹ دھرم اور سرکش قوم کی ہدایت کہ لیے ، اپنے مئوثر بیانات کو جاری رکھتے ہوئے ، اس مرتبہ بشارت و تشویق پر تکیہ کرتے ہیں اور انھیں تاکید کے ساتھ یہ وعید دیتے ہیں کہ اگر وہ شرک و گناہ سے توبہ کرلیں، تو خدا ان پر اپنی رحمت کے دروازے ہر طرف سے کھول دے گا، ارشاد ہوتا ہے : "خداوندا! میں ان سے کہا کہ تم اپنے پروردگار سے بخشش طلب کرو وہ بہت ہی بخشنے والا ہے"۔(فقلت استغفرط ربکم انہ کان غفارًا)۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
نہ صرف یہ کہ وہ تمھیں گناہوں سے پاک کردے گا ، بلکہ" اگر تم ایسا کرو تو وہ تم پر آسمان سے برکتوں والی بارشیں پےدرپے نازل کرے گا"۔ (یرسل السماء علیکم مدرارًا)۔ ؎1
خلاصہ یہ کہ اس کی معنوی رحمت کی بارش بھی ، اور مادی برکت پر برکت بارش بھی نازل ہوگی۔ص
قابل توجہ بات یہ کے کہ کہتا ہے: "آسمان کو تم پر بھیجے گا" یعنی اس قدر بارش ہوگی گویا آسمان بس رہا ہے: لیکن چونکہ وہ رحمت کی بارش ہوگی ، لہذا نہ تو اس کوئی ویرانی اور تبائی ہوگی، اور نہ ہی کوئی تکلیف پہنچھے گی، بلکہ وہ ہر جگہ خوشی و خرمی اور سر سبز و شادابی کا باعث ہوگی۔
_________________
اس کے بعد مزید کہتا ہے :" اور تمھارے مال والاد میں زیادتی کریگا"۔(ویمد دکم باموال و بنین)۔
"اور تمھارے لیے سرسبز و شاداب باغ ، اور رواں پانی کی نہریں قرار دےگا"(ویجعل لکم جنات و یجعل لکم انھارًا)۔
اس طرح سے انھیں ایک عظیم معنوی نعمت، اور پانچ عظیم مادی نعمتوں کی وعید دی ہے، معنوی عظیم نعمت تو گناہوں کی بخشش اور کفر و عصیان کی آلودگی سے پاک ہونا ہے۔ باقی رہی مادی نعمتیں تو مفید ، برموقع اور پُر برکت بارشوں کا نازل ہونا ، مال کی زیادتی ، اولاد کی فراوانی ، (انسانی سرمایہ) پر برکت باغات اور جاری پانی کی نہریں۔
ہاں قرآن مجید کی گواہی کے مطابق ، ایمان و تقوٰی ، دنیا کی آبادی کا سبب بھی ہے اور آخرت کی آبادی کا موجب بھی۔
بعض ورایات میں آیا ہے کہ جب اس ہٹ دھرم قوم نے نوح کی دعوت کو قبول کرنے سے منہ پھیر لیا، تو خشک سالی اور قحط نے انھیں گھیر لیا، اور ان کے بہت سے اموال واولاد تباہ و ہلاک ہوگئے، عورتیں بانجھ ہوگیئں اور ان کے کوئی بچہ پیدا نہ ہوا تو نوحؑ نے ان سے کہا: اگر تم ایمان لے ائو تو یہ تمام مصیبتیں اور بلائیں تم سے دور ہوجائیں گی۔ لیکن انھوں نے اس کی کوئی پرواہ نہ کی اور اسی طرح سے سختی پر قائم رہے یہاں تک کہ آخری عزاب آ پہنچا جس نے سب کا خاتمہ کردیا۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اس کے بعد پھر دوبارہ ڈرانے کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور کہتے ہیں: "تم خدا سے ڈرتے کیوں نہیں اور خدا کی عظمت کے قائل کیوں نہیں ہوتے"۔(مالکم لا ترجون للہ و قارًا)۔ ؎ 2
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
"حا لانکہ خدا نے تمھیں گوناگوں طریقے کی خلقتیں دی ہیں" (وقد خلقکم اطوارًا)۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎1 "مدرار" "در" (بروزن جر) کے مادہ سے اصل میں پستان مادر سے "دودھ" کے گرنے کے معنی میں ہے اور پھر بارش برسنے کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ "مدرار" مبالغہ کا صیغہ ہے۔
؎ 2 "وقار" وزن اور عظمت معنی میں ہے اور "ترجون""رجاء" کے مادہ سے، امید کے معنی میں ہے جو بعض اوقات خوف سے تو اُم ہوتا ہے۔ اور سارے جملہ کا معنی یہ ہے کہ تم عظمت خدا کے مقابلہ میں خضوع کیوں نہیں کرتے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
پہلے تم ایک بے قدر و قیمت "نطفہ" تھے زیادہی وقت نہ گزرا تھا کہ تمھیں "علقہ" بنادیا اور اس کے بعد "مضغہ" کی صورت میں لے آیا، اس کے بعد اس نے تمھیں انسانی شکل وصورت اور جسم کو لباس حیات پہنایا اور تمھیں روح اور حس وحرکت دی، اسی طرح سے تم نے یکے بعد دیگرے مختلف جنینی مراحل طے کیے، یہاں تک کہ تم ایک مکمل انسان کی شکل و صورت میں ، ماں سے پیدا ہوگئے ، اس کے بعد زندگی کے مختلف اطوار اور زندگی کی مختلف شکلیں شروع ہوگیئں۔ تم ہمیشہ اس کی ربوبیت کے ماتحت رہے ہو اور ہمیشہ نئی سے نئی حالت اختیار کرتے ہو اور ایک جدید خلقت حاصل کرتے ہو، تو پھر تم اپنے خالق کے با عظمت آستانے پر سر تعظیم کیوں نہیں جھکاتے۔
نہ صرف جسمانی لحاظ سے تم مختلف شکلیں بدلتے ہو بلکہ تمھاری روح اور جان بھی ہمیشہ تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ تم میں سے ہر ایک ، ایک نئی استعداد رکھتا ہے ، اور ہر سر میں ایک نیا ذوق اور ہر دل میں نی شوق ہے اور تم سب کے سب ہمیشہ بدلتے رہتے ہو، بچپنے کے احساسات اپنی جگہ، جونی کو دے دیتے ہیں اور جوانی اپنے احساسات ادھیڑ عمر اور بڑھاپے کے احساسات کے حوالے کردیتی ہے ۔
اس طرح سے وہ جگہ تمھارے ساتھ ہے اور ہر قدم پر تمھاری رہبری اور ہدایت کرتا ہے اور اس کے سارے لطف و عنایت کے باوجود یہ کفران اور بے حرمتی کس بناء پر ہے۔ ؟
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ