2: حقیقت سے فرار کیوں ؟
قَالَ رَبِّ إِنِّي دَعَوْتُ قَوْمِي لَيْلًا وَنَهَارًا ۵فَلَمْ يَزِدْهُمْ دُعَائِي إِلَّا فِرَارًا ۶وَإِنِّي كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوا أَصَابِعَهُمْ فِي آذَانِهِمْ وَاسْتَغْشَوْا ثِيَابَهُمْ وَأَصَرُّوا وَاسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًا ۷ثُمَّ إِنِّي دَعَوْتُهُمْ جِهَارًا ۸ثُمَّ إِنِّي أَعْلَنْتُ لَهُمْ وَأَسْرَرْتُ لَهُمْ إِسْرَارًا ۹
انہوں نے کہا پروردگار میں نے اپنی قوم کو دن میں بھی بلایا اور رات میں بھی. پھر بھی میری دعوت کا کوئی اثر سوائے اس کے نہ ہوا کہ انہوں نے فرار اختیار کیا. اور میں نے جب بھی انہیں دعوت دی کہ تو انہیں معاف کردے تو انہوں نے اپنی انگلیوں کو کانوں میں رکھ لیا اور اپنے کپڑے اوڑھ لئے اور اپنی بات پر اڑ گئے اور شدت سے اکڑے رہے. پھر میں نے ان کو علی الاعلان دعوت دی. پھر میں نے اعلان بھی کیا اور خفیہ طور سے بھی دعوت دی.
2- حقیقت سے فرار کیوں؟
بعض اوقات انسان اس بات پر تعجب کرتا ہے کہ کیا اس آسمان کے نیچے ایسے لوگ پیدا ہوجائیں، جو حق کی بات تک سننے کے لیے تیار نہ ہوں ، اور اس سے دور بھاگیں ؟ بات قبول کرنے کی نہیں ہے، بات صرف سننے کی ہے۔
صرف قوم نوح ہی ایسی نہیں تھی کہ جب آپ انھیں توحید کی دعوت دیتے تھے ، تو وہ کانوں میں انگلیاں ڈال لیتے تھے، سردار چہرے کو ڈھانپ لیتے تھے، تاکہ نہ تو حق کی بات سنیں اور نہ ہی آپ کو دیکھیں، بلکہ قرآن کی صراحت کے مطابق، پیغمبر اسلام کے زمانہ میں بھی ایسا گروہ موجود تھا، جب پیغمبرؐ دل انگیز بلند آواز کے ساتھ آیات قرآنی کی تلاوت کرتے، تع وہ شور و غوغا کرکے اور سیٹیاں بجا کر اس قسم کا ہنگامہ کھڑا کر دیتے تھےکہ کوئی شخص آپ کی آواز کو نہ سن پائے، قال الذین لفرواتسمعوا لھٰزا القراٰن و الغو ا فیہ لعکم تغلبون " کافروں نے کہا : اس قرآن پر کان نہ دھرو اور اس کی تلاوت پر شور و غوغا بلند کرو ، تاکہ تم کامیاب ہوجائو۔ (حٰم سجدۃـــــــ26)
کربلا کی خونی تاریخ میں بھی یہ آیا ہ کہ جب امام حسینؑ سالار شہیدان نے منحرف اور کج فہم دشمنوں کو ، ہدایت و ارشاد ۔ اور بیدار کرنا چاہا ، تو انھوں نے اس طرح شوروغوغا کیا، کہ امام کی آواز اس میں گم ہو کر رہ گئی۔ ؎ 1
آج بھی یہ پروگرام اسی طرح جاری و ساری ہے، البتہ دوسری شکلوں اور صورتوں میں ، باطل کے طرفداروں نے ، قسم قسم کی غلط سرگرمیاں، فاسد اور خراب کرنے والی موسیقوں، خراب مواد اور منشیات کے ذریعہ، اس قسم کی فضا فرہم کر رکھی ہے، کہ لوگ خصوصًا نوجوان، مردانِ حق کی دلنوازآواز سن ہی نہ سکیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــؔــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎ 1 "بحارالانوار" جلد 48 ص 8