Tafseer e Namoona

Topic

											

									  1: تبلیغ کے طریقے

										
																									
								

Ayat No : 5-9

: نوح

قَالَ رَبِّ إِنِّي دَعَوْتُ قَوْمِي لَيْلًا وَنَهَارًا ۵فَلَمْ يَزِدْهُمْ دُعَائِي إِلَّا فِرَارًا ۶وَإِنِّي كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوا أَصَابِعَهُمْ فِي آذَانِهِمْ وَاسْتَغْشَوْا ثِيَابَهُمْ وَأَصَرُّوا وَاسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًا ۷ثُمَّ إِنِّي دَعَوْتُهُمْ جِهَارًا ۸ثُمَّ إِنِّي أَعْلَنْتُ لَهُمْ وَأَسْرَرْتُ لَهُمْ إِسْرَارًا ۹

Translation

انہوں نے کہا پروردگار میں نے اپنی قوم کو دن میں بھی بلایا اور رات میں بھی. پھر بھی میری دعوت کا کوئی اثر سوائے اس کے نہ ہوا کہ انہوں نے فرار اختیار کیا. اور میں نے جب بھی انہیں دعوت دی کہ تو انہیں معاف کردے تو انہوں نے اپنی انگلیوں کو کانوں میں رکھ لیا اور اپنے کپڑے اوڑھ لئے اور اپنی بات پر اڑ گئے اور شدت سے اکڑے رہے. پھر میں نے ان کو علی الاعلان دعوت دی. پھر میں نے اعلان بھی کیا اور خفیہ طور سے بھی دعوت دی.

Tafseer

									     چند نکات
       1- تبلیغ کے طریقے:
           اوپر والی آیات میں، نوح کی دعوت کے سلسہ میں کچھ بیان ہوا ہے، وہ پیغمبر اور مکہ میں رہنے والے ان تھوڑے سے مومنین کے لیے ، جو آپ کے ساتھ مل گئے تھے، دلی تسلی  کاذریعہ ہونے کے ساتھ ساتھ راہ خدا کے تمام مبلغین کےلیے ایک عمومی پروگرام بھی پیش کیا گیا ہے۔
           نوحؑ کو ہرگز اس بات کی توقع نہ تھی کہ لوگ آپ کی دعوت کو قبول کرتے ہوئے شہر کے ایک عمومی مرکز میں جمع ہوجائیں گے، پھر وہ اطمینان قلب کے ساتھ ، اس حالت میں کہ وہ سب کے سب آپ کے چہرے پر نظریں جمائے ہوئے اور کان آپ کی باتوں پر لگائے ہوئے ہوں اور پھر وہ خدا کا پیغام انھیں پہنچائیں گے، بلکہ آیات لب و لہجہ سے معلوم ہوتا ہے(اور بعض روایات میں آیا بھی ہے )کہ آپ بعض اوقات لوگوں کے گھروں میں ان کے پاس جاتے ، یاکوچہ و بازار میں خصوصی طور پر انھیں آواز دیتے اور حوصلہ کے ساتھ اور محبت آمیز لب و لہجہ میں انھیں تبلیغ کرتے اور کبھی آپ ان عمومی مجالس میں ، جو دوسرے مقاصد مثلاً جشن یا تعزیت کےلیے قائم ہوتی تھیں چلے جاتے اور بلد آواز میں