ان کی ہدایت کے لیے ہر طرح سے کوشش مگر ...
قَالَ رَبِّ إِنِّي دَعَوْتُ قَوْمِي لَيْلًا وَنَهَارًا ۵فَلَمْ يَزِدْهُمْ دُعَائِي إِلَّا فِرَارًا ۶وَإِنِّي كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوا أَصَابِعَهُمْ فِي آذَانِهِمْ وَاسْتَغْشَوْا ثِيَابَهُمْ وَأَصَرُّوا وَاسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًا ۷ثُمَّ إِنِّي دَعَوْتُهُمْ جِهَارًا ۸ثُمَّ إِنِّي أَعْلَنْتُ لَهُمْ وَأَسْرَرْتُ لَهُمْ إِسْرَارًا ۹
انہوں نے کہا پروردگار میں نے اپنی قوم کو دن میں بھی بلایا اور رات میں بھی. پھر بھی میری دعوت کا کوئی اثر سوائے اس کے نہ ہوا کہ انہوں نے فرار اختیار کیا. اور میں نے جب بھی انہیں دعوت دی کہ تو انہیں معاف کردے تو انہوں نے اپنی انگلیوں کو کانوں میں رکھ لیا اور اپنے کپڑے اوڑھ لئے اور اپنی بات پر اڑ گئے اور شدت سے اکڑے رہے. پھر میں نے ان کو علی الاعلان دعوت دی. پھر میں نے اعلان بھی کیا اور خفیہ طور سے بھی دعوت دی.
تفسیر
ان کی ہدایت کیلئے ہر طرح سے کوشش کی ،مگر.....
ان آیات میں، اپنی قوم کو دعوت دینے کے لیے ، نوح کی رسالت اور ماموریت کے بیان کو جاری رکھتے ہوئے، خود انھیں کی زبان سے کچھ باتیں نقل ہوئی ہیں، جو انھوں نے خدا کی بارگاہ میں شکایت کے طور پر کہی تھیں، جو بہت ہی سبق آموزہیں۔
نوحؑ کی باتیں ایسی باتوں کے سلسہ میں ہیں ، جو تمام دینی مبلغین کے لیے رہنما بن سکتی ہیں، ارشاد ہوتا ہے "نوحؑ نے کہا: پروردگار میں نے اپنی قوم کو رات دن تیری طرف دعوت دی ہے"(قال رب انی دعوت قومی لیلاً و نھارًا)۔
اور ان کی ہدایت و تبلیغ میں ایک لمحہ لے لیے بھی کوتاہی نہیں کی۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــ
لیکن میری اس دعوت وارشاد نے ، حق سے فرار کرنے کے سوا، ان میں کسی چیز کا اضافہ نہیں کیا(فلم یزدھم دعاءی الافرارًا)۔
اور یہ عجیب بات ہے کہ کسی چیز کی دعوت، اسی سے بھاگنے کا سبب بن جائے، لیکن اس بات کی طرف توجہ کرنے سے،کہ دعوتوں کی تاثیر، ایک قسم کی آمادگیاور کشش متقابل کی محتاج ہے، تعجب کی کوئی بات باقی نہیں رہ جاتی کہ وہ معکوس اور منفی اثر ڈالے دوسرے لفظوں میں ہٹ دھرم اور حق دشمن افراد، جب مردان حق کی دعوت کو سنتے ہیں تو اس کے مقابلہ میں اٹھ کھڑے ہوتے ہیں، اور ان کا یہی مقابلہ کےلیے کھڑے ہوجانا، انھیں راہِ حق سے زیادہ دور کر دیتا ہے، اور ان کے کفر و نفاق کو اور بھی زیادہ راسخ بنا دیتا ہے۔
یہ بات ٹھیک اسی چیز کے مانند ہے جو سورہ اسراء کی آیہ 82 میں آئی ہے: " (ونتنزل من القراٰن ماھو شفاء و رحمۃ للمئومنین ولا یزید الظالمین الاخسارًا) ہم نے قرآن میں ایسی آیات نازل کی ہیں جو مومنین کیلیے شفا ء اور رحمت کا سبب ہیں لیکن ظالموں میں سوائے خسارے اور نقصان کے کسی چیز کا اضافہ نہیں کرتیں"۔
اور قرآن آیات میں جو یہ آیا ہے کہ یہ آسمانی کتاب پرہیزگاروں کے لیے باعث ہدایت ہے "ھدًی للمتقین" (بقرہ ـــ6)
اسی وجہ سے ہے کہ انسان میں کچھ نہ کچھ تقوٰی کا وجود ہونا چاہیے تکہ وہ حق کو قبول کرنے کےلیے آمادہ ہو، یہ مرحلہ وہی "حقیقت جوئی کی ورح" اور حق کی گفتگو کو قبول کرنے کی آمادگی ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اس کے بعد نوحؑ اس گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے مزید کہتے ہیں "خداوندا! میں نے جب بھی انھیں دعوت دی کہ وہ ایمان لے آئیں اور تو انھیں بخش دے، تو انھوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیں، اپنے لباسوں کو اپنے اوپر لپیٹ لیا اور ایمان نہ لنے پر اصرار کیا شدت کے ساتھ استکبار کیا"۔ (وانی کلما دوتھم لتغفرلھم جعلوا اصبعھم فی اذانھم واستغشوا ثیابھم واصروا واستکبروا استکبارًا)۔
کانوں میں انگلیاں ڈالنا اس لیے تھا کہ حق کی آواز کو نہ سنیں ، اور ان کا اوپر لباس لپیٹ لینا، یا اس معنی میں تھا کہ وہ لباس کو سر پر ڈال لیتے تھے تاکہ وہ کانوں میں ڈالی ہوئی انگلیوں کو ڈھانپ لیں اور آواز کی معمولی سے معمولی لہر بھی کانوں کے پردے سے نہ ٹکرائے، اور وہاں سے کوئی پیغام دماغ کی طرف منتقل نہ ہو، یا وہ یہ چاہتے تھے کہ اپنے چہرے کو ڈھانپ لیں، تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی نگاہیں اس بزرگ پیغمبر نوحؑ کے ملکوتی چہرے پر جا پڑیں۔ حقیقت میں انھیں یہ اصرار تھا، کہ نہ تو وہ اپنے کانوں سے ان کی کوئی بات نہیں، اور نہ ہی اپنی آنکھوں سے انھیں دیکھیں۔
واقعًا یہ ایک حیرت انگیز چیز ہے کہ انسان حق کی عدوت اور دشمنی میں اس حد تک پہنچ جائے کہ خود دیکھنے ، سننے اور سوچنے تک کی بھی اجازت کی نہ دے۔
بعض اسلامی تفاسیر میں آیا ہے کہ اس منحرف قوم میں سے بعض لوگ اپنے بیٹوں کے ہاتھ پکڑ کر نوحؑ کے پاس لے جایا کرتے تھے اور ان سے یہ کہتے تھے: اس شخص سے ڈرتے رہنا کہیں یہ تمھیں گمراہ نہ کردے، یہ وہ وصیت ہے جو میرے باپ نے مجھے کی تھی اور میں اب وہی وصیت تمھیں کررہا ہوں (تاکہ میں وصیت اور خیر خواہی کا حق ادا کر دوں)۔ ؎1
اور ضمنی طور پر اس بات کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ نوحؑ اپنی طولانی عمر میں، کئی نسلوں کے درمیان اسی طرح دعوتِ الٰہی کی تبلیغ کرتے رہے تھے اور بالکل نہیں تھکے تھے۔
اور ضمنی طور پر اس بات کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ ان کی بدبختی کا ایک اہم عامل استکبار اور غرور تھا، کیونکہ وہ اپنے آپ کو اس سے بالاتر سمجھتے تھے کہ اپنے جیسے انسان کے سامنے سر تسلیم خم کریں ، چاہے وہ خدا کا نمائندہ ہو اور اس کا دل علم و دانش اور تقوٰی و پرہیزگاری کا مرکز ہو۔
یہ کبر و غرور ہمیشہ ہی حق کی راہ میں ایک اہم رکاوٹ رہا ہے اور ہم نے بشر کی تمام تاریخ میں اس کا شوم و منحوس نتیجہ، بےایمان افراد کی زندگی میں مشاہدہ کیا ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــ
نوحؑ اپنی باتوں کو پروردگار کی بارگاہ میں جاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں:
"خداوندا! میں نے انھیں آشکار اور ظاہر طور پر تیری توحید اور عبادت کیطرف دعوت دی۔"(ثم انی دعوتھم جھارًا)۔
میں نے انھیں عمومی جلسوں میں اور بلند آواز کے ساتھ ایمان کی طرف بلایا۔
اس پر ہی قناعت نہیں کی "آشکاراوپنہاں، توحید و ایمان کی حقیقت ان سے بیان کی ہے"۔(ثم انی اعلنت لھم واسررت لھم اسرارًا)۔
بعض مفسرین کے قول کے مطابق، نوحؐ نے اس ہٹ دھرم اور خود غرض جمیعت میں اپنی دعوت کے نفوذ کے لیے تین مختلف طریقے اختیارکیے۔ کبھی تو صرف مخفی طور پر دعوت کرتے تھے، تو چار قسم کے ردعمل کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔(کانوں میں انگلیاں ڈالیں، اپنے اوپر کپڑے لپیٹ لیے، کفر پر اصرار کیا اور استکبار و غرور سے کام لیا)۔ کبھی علی الاعلان اور آشکارا دعوت دیتے اور کبھی آشکارا اور پنہاں دونوں طریقوں کی دعوت سے فائدہ اٹھتے، لیکن ان میں سے کوئی بھی موثر ثابت نہیں ہوئی۔ ؎2
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎1 مجمع البیان جلد 10 ص 321
؎2 تفسیر "فخررازی" جلد 30 ص 132
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اصولی طور پر انسان کی ساخت اور بناوٹ کچھ اس قسم کی ہے کہ اگر وہ باطل کی راہ میں اس قدر آگے بڑھ جائے ۔ کہ فساد کی جڑیں اس کے وجود میں مستحکم ہوجائیں، اور اس کے وجود کی گہائیوں میں نفوذ کرتے ہوئے ، طبعیت ثانوی کی شکل اختیار کرلیں، تو پھر نہ تو مردانِ حق کی دعوت کچھ اثر کرتی ہے اور نہ ہی خدا کے پیغامہائےرسا ان کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــ