Tafseer e Namoona

Topic

											

									  عمر کی زیادتی اور کمی کے معنوی اسباب

										
																									
								

Ayat No : 1-4

: نوح

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ إِنَّا أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِ أَنْ أَنْذِرْ قَوْمَكَ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ۱قَالَ يَا قَوْمِ إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ ۲أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاتَّقُوهُ وَأَطِيعُونِ ۳يَغْفِرْ لَكُمْ مِنْ ذُنُوبِكُمْ وَيُؤَخِّرْكُمْ إِلَىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى ۚ إِنَّ أَجَلَ اللَّهِ إِذَا جَاءَ لَا يُؤَخَّرُ ۖ لَوْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ ۴

Translation

بیشک ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا کہ اپنی قوم کو دردناک عذاب کے آنے سے پہلے ڈراؤ. انہوں نے کہا اے قوم میں تمہارے لئے واضح طور پر ڈرانے والا ہوں. کہ اللہ کی عبادت کرو اس سے ڈرو اور میری اطاعت کرو. وہ تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اور تمہیں ایک مقررہ وقت تک باقی رکھے گا اللہ کا مقررہ وقت جب آجائے گا تو وہ ٹالا نہیں جاسکتا ہے اگر تم کچھ جانتے ہو.

Tafseer

									      ایک نکتہ
       عمر کی زیادتی اور کمی کے معنوی اسباب
            ایک دوسرا نکتہ جو اس آیت سے بخوبی معلوم ہوتا ہے ، وہ عمر کے کم ہونے میں گناہوں کی تاثیر ہے، کیونکہ ارشاد ہوتا ہے: اگر تم ایمان لے ائو اور تقوٰی اختیار کرو ، تو خدا تمھاری موت کو تاخیر میں ڈال دے گا ۔ اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہتا ہے گناہ ہمیشہ انسان کے جسم اور روح پر ہولناک ضربیں وارد کرتے ہیں ، اس مطلب کو سمجھنا آسان ہوجاتا ہے۔
             روایات اسلامی میں بھی اس کے معنی پر بہت زیادہ تاکید ہوئی ہے،  ان میں سے ایک پرمعنی حدیث میں امام صادقؑ سے آیا ہے:
                    من یموت بالذنوب کثر ممن یموت بالا جال، ومن یعیش بلاحسان اکثر ممن یعیش بلا عمار:
                       "وہ لوگ جو گناہ کے اثر سے مرتے ہیں وہ ان سے بہت زیادہ ہیں ، جو خدائی موت سے دنیا سے رخصت ہوتے ہیں، اور وہ لوگ جو نیکوکار کی بناء پر لاطونی عمر پاتے ہیں ، ان سے بہت زیادہ ہیں، جن کی عمر طبیعی عوامل کی بناء پر زیادہ ہوتی ہے"۔