Tafseer e Namoona

Topic

											

									  نوح کا پہلا پیغام

										
																									
								

Ayat No : 1-4

: نوح

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ إِنَّا أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِ أَنْ أَنْذِرْ قَوْمَكَ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ۱قَالَ يَا قَوْمِ إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ ۲أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاتَّقُوهُ وَأَطِيعُونِ ۳يَغْفِرْ لَكُمْ مِنْ ذُنُوبِكُمْ وَيُؤَخِّرْكُمْ إِلَىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى ۚ إِنَّ أَجَلَ اللَّهِ إِذَا جَاءَ لَا يُؤَخَّرُ ۖ لَوْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ ۴

Translation

بیشک ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا کہ اپنی قوم کو دردناک عذاب کے آنے سے پہلے ڈراؤ. انہوں نے کہا اے قوم میں تمہارے لئے واضح طور پر ڈرانے والا ہوں. کہ اللہ کی عبادت کرو اس سے ڈرو اور میری اطاعت کرو. وہ تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اور تمہیں ایک مقررہ وقت تک باقی رکھے گا اللہ کا مقررہ وقت جب آجائے گا تو وہ ٹالا نہیں جاسکتا ہے اگر تم کچھ جانتے ہو.

Tafseer

									    تفسیر
   ںوح کا پہلا پیغام
        ہم بیان کرچکے ہیں کہ یہ سورہ ںوح کے حالات کے اس حصہ کو بیان کرتا ہے، جو ان کی دعوت سے مربوط ہے، اور وہ راہ حق کے تمام راہ روئوں کو ، خصوصاً ہٹ دھرم قوموں کے مقبالہ میں ، حق کی طرف دعوت کے سلسلہ میں ، بہت سے عمدہ نکات سکھاتی ہے۔ 
        سب سے پہلے ان کی بعثت کے مسئلہ کو شروع کرتے ہوئے فرماتا ہے : "ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا ، اور پم نے اس سے کہا : اس سے پہلے کہ دردناک عذاب ان کی طرف آئے تم اپنی قوم کو ڈرائو"۔(انا ارسلنا نوحاً الٰی قومہ ان انذرقومک من قبل ان یاتیھم عذاب الیم)۔ 
        یہ درد ناک عذاب، ممکن ہے دنیا کا عذاب ہو، یا آخرت کا عذاب ہو، زیادہ مناسب یہ پے کہ دونوں مراد ہوں، اگرچہ اس سورہ کی آخری آیات کے قرینہ سے زیادہ تر مراد دنیا کا عذاب ہے۔
        "انذار"(اور ڈرانے) پر تکیہ ہے، باوجود یہ کہ انبیاء ڈرانے والے بھی تھے، اور بشارت دینےوالے بھی، اس کی بناء پر ہے کہ انذار اور ڈرانا: غالباً زیادہ قوی تاثیر رکھتا ہے، جیسا کہ تمام دنیا میں قوانین کے اجراء کے لیے انذار اور سزا پر تکیہ ہوتا ہے۔
                     ۤ          ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
        نوح ایک "اولوالعزم" پیغمبر، جو پہلی شریعت اور دین الٰہی کے حامل تھے ، عالمی دعوت تکھتے تھے، یہ فرمان حاصل کرنے کے بعد اپنی قوم کی طرف آئے اور ان سے کہا : "اے میری قوم !میں تنھارے لیے ایک واضح ڈرانے والا ہوں"۔(قال یا قوم انی لکم نذیر مبین)۔ 
                             ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
        ہدف و مقصد یہ ہے کہ تم خدائے یکتا و یگانہ کی پرستش کرو، اور جو کچھ اس کے علاوہ ہے اسے دور پھینک دو ، تقوٰی اختیار کرو اور میرے احکام کی جو خدا کے احکام ہیں اطاعت کرو (ان اعبدوا اللہ واتقوہ واطیعون)۔
        حقیقت میں نوح نے اپنی دعوت کے مضمون کا تین جملوں خلاصہ بیان کیا ً خدائے یکتا کی پرستش، تقوٰی کی رعایت اور قوانین و احکام کی، جو وہ خدا کی طرف سے لائے تھے اور جو عقائد و اخلاق و احکام کا مجموعہ تھے ، اطاعت۔
                                ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
        اس کے بعد انھیں شوق دلاتے ہوئے، اور اس دعوت کو قبول کرنے کے اہم نتائج کو دو مختصر سے جملوں میں بیان کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے:اگر تم میری دعوت کو قبول کرلو تو خدا تمھارے گناہوں کو بخش دےگا۔(یغفرلکم من زنوبکم)- ؎1  
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ؎ 1 "من" اس جملہ میں زائدہ اور تاکید کےلیے ہے، کیونکہ خدا پر ایمان تمام گزیشتہ گناہوں کے بخشے جانے کا(بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر دیکھیں)۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

       حقیقت میں مشہور قائدہ کلیہ "الاسلام یجب ما قبلہ" (اسلام اپنے سے پہلے کی چیزوں پر پردہ ڈال دیتا ہےاور انھیں ختم کردیتا ہے)ایک ایسا قانون ہے جو تمام توحیدی اور الٰہی دینوں میں ہے اور اسلام پر ہی منحصر نیہں ہے۔
       اس کے بعد مزید کہتا ہے: اور تمھیں ایک معین زمانہ کت تاخیر میں ڈالتا ہے اور تمھاری عمر کو طولانی کرکے تم سے عذاب کو دور رکھتا ہے۔ (ویئو خرکم الی اجل مسمًی)۔ 
       "کیونکہ جب خدا کی طرف سے اصلی اور آخری اجل آجاتی ہے، تو اس میں تاخیر نہیں ہوتی ، اگر تم جانتے ہو (ان اجل اللہ اذا جاء لایئوخرلوکنتم یعلمون)۔
       اس آیت سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ "اجل" اور انسانی عمر کی مدت دو قسم کی ہے، "اجل مسمی"اور"اجل نہائی یا آخری" یا دوسرے لفظوں میں "اجل ادٰنی" (نزدیک کی مدت والی)اور "اجل اقصی" (دور کی مدت والی)یا "اجل معلق" (مشروط)اور "اجل ختمی" (مطلق) 
       پہلی قسم کی عمر کی مدت تو وہ ہے جو قابلِ تغیر ہے اور وہ انسان کے غلط اعمال کے نتیجے میں ممکن ہے کہ بہ جلدی آجائے جن میں ایک خدائی عزاب بھی ہے اور اس کے برعکس  تقوٰی  نیکوکاری اورتدبیر کی وجہ سے ممکن ہے کہ وہ بہت پیچھے اور تاخیر میں پڑجائے