اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت
اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت
ایک حدیث میں پیغمبر گرامی اسلامؐ سے آیا ہے:
"من قراء سورۃ نوح کان من المئومنین الذین تدرکھم دعوۃ نوح"
"جو شخص سورۃ "نوح"کو پڑھے گا، وہ ان مومنین میں سے ہوجائے گا جنھیں نوح کی دعوت کی شعاع ڈھانپ لیتی ہے"۔ ؎ 1
ایک اور حدیث میں امام صادقؑ سے آیا ہے:
"من کان یو من باللہ والیوم الاٰخر و یقراء کتابہ فلا یدع ان یقراء سورۃ "ان ارسلنا نوحاً" فای عبد قراء ھا محتسبا صابراً فی فریضۃ او نافلۃ اسکنہ اللہ مساکن الا برار واعطاہ ثلاث جنان مع جنتہ کرامۃ من اللہ"۔
جو شخص خدا اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، اور اس کی کتاب کو پڑھتا ہے، سورۃ نوح کی تلاوت کو ترک نہ کرے ، جو شخص اس سورہ کو، صبر و استقامت کے ساتھ ، خدا کے لیے ، واجب یا مستحب نماز میں پڑھے گا تو خدا اسے نیک افراد کی منازل میں جگہ دے گا اور جنت باغوں میں تین باغ اس کے اپنے باغ کے علاوہ ، اس کے احترام میں مرحمت فرمائے گا۔ ؎2
یہ بات کہے بغیر واضح ہے کہ اس کی تلاوت کا ہدف اور مقصد یہ ہے کہ اس عظیم پیغمبر کے طور طریقوں ، اور حق کی طرف دعوت کی راہ میں ، ان کے یار و انصار کے صبر و استقامت سے ہدایت حاصل کرے اور اس کی دعوت کی شعاع سے روشنی حاصل کرے ، نہ کہ ایسا پڑھنا کہ جس میں غور و فکر نہ ہو،
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎1 مجمع البیان ، جلد 10 ، ص 359
؎2 ایضاً