Tafseer e Namoona

Topic

											

									  سورہ نوح کے مطالب و مضامین

										
																									
								

Tafseer

									             سورہ نوح کے مطالب و مضامین
         یہ سورہ جیسا کہ اس کے نام سے واضح ہے ، نوحؑ پیغمبر کی سرگزشت بیان کرتی ہے۔ قرآن مجید کی کئی سورتوں میں اس عظیم پیغمبر کی سرگزشت کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ ان میں سورہ شعراء ، مومنون ، اعراف اور انبیاء ہیں ،اور سب سے زیادہ تفصیل سورہ ہود میں آئی ہے، جس میں تقریباً 25 آیات اس اولوالعزم پیغمبر کے بارے میں ہیں (آیہ 25تا 49).
         لیکن سورہ نوح میں جو کچھ آیا ہے ، وہ ان کی زندگی کا ایک خاص حصہ ہے ، جو دوسری جگہ پر اس طرح نہیں آیا، اور یہ حصہ ان کی طرف توحید کی دعوت دینے۔ اس کی کیفیت ، اس دعوت کے عناصر ، اور ان کی جزئیات کے باے میں جو اس اہم مسئلہ میں بوئے کا رائے ہیں........ اور وہ بھی اس ہٹ، خودغرض اور متکبر قوم کے مقابلہ قوم میں جو حق کے سامنے سر جھکانے کے لیے بالکل تیار نہ تھی......پے درپے اور مسلسل دعوت حق دینے کے ساتھ مربوط ہے۔
                   اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ یہ سورہ مکہ میں نازل ہوئی ہے اور پیغمبراکرمؐ اور اس زمانہ کے تھوڑے سے مسلمان، نوح اور ان کے اصحاب کے زمانہ کے حالات سے مشابہ حالات رکھتے تھے، انھیں بہت سے مسائل کی تعلیم دیتا ہے اور اس واقعہ کے بیان کرنے کےکے اہداف و مقاصد میں ایک یہی ہے ، منجملہ ان کے:
   1-      انھیں یہ بتانہ ہے کہ منطقی استدلال کے طریق سے ، جو دشمنوں کے ساتھ محبت اور مکمل دلسوزی سے تواُم ہو، کس طرح تبلیغ کریں اور اس راہ میں ہر مفید اور مدثر ذریعہ سے کیسے فائدہ اٹھائیں۔
   2-     انھیں یہ سکھاتا ہے کہ خدا کی طرف دعوت دینے کی راہ میں ہرگز نہ تھکیں ، چاہے سالہاسال گزرجائیں اور دشمن کتنا بھی مزاحم کیوں نہ ہو۔
   3-     انھیں یہ سبق دیتا ہے کہ ایک طرف تو شوق دلانے کے وسائل ہوں اور دوسری طرف ڈرانے کے عوامل ، اور دعوت کرنے کے لیے دونوں طریقوں سے فائدہ اٹھایا جائے۔
   4-     اس سورہ کی آخری آیات ، ہٹ دھرم مشرکین کے لیے ایک تنبیہ ہے کہ اگر وہ حق کے سامنے نہ جھکے اور خدا کے حکم کے سامنے انھوں نے گودن خم نہ کی ، تو ان کا انجام بہت دردناک ہوگا۔
   5-     ان سب باتوں کے علاوہ یہ سورہ پیغمبر اور پہلے مامنین اور ان سے مشابہ افراد کے لیے دل کی تسلی کا سبب ہے کہ وہ خدا کے لطف و کرم سے اپنے پروگراموں میں سرگرم اور مشکلات اور سختیوں میں صبر و شکیبار ہیں۔
             دوسرے لفظوں میں یہ سورہ ، حق و باطل کے طرف داروں میں دائمی مبارزہ کے بیان اور ان پروگراموں کی ، جن پر حق کے طرف داروں کو اپنی راہ میں کار بند ہونا چاہیے ، تصویر کشی کرتا ہے۔