Tafseer e Namoona

Topic

											

									  بہشتیوں کی خصوصیات کا ایک اور حصہ

										
																									
								

Ayat No : 29-35

: المعارج

وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ ۲۹إِلَّا عَلَىٰ أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ ۳۰فَمَنِ ابْتَغَىٰ وَرَاءَ ذَٰلِكَ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْعَادُونَ ۳۱وَالَّذِينَ هُمْ لِأَمَانَاتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَاعُونَ ۳۲وَالَّذِينَ هُمْ بِشَهَادَاتِهِمْ قَائِمُونَ ۳۳وَالَّذِينَ هُمْ عَلَىٰ صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ ۳۴أُولَٰئِكَ فِي جَنَّاتٍ مُكْرَمُونَ ۳۵

Translation

اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں. علاوہ اپنی بیویوں اور کنیزوں کے کہ اس پر ملامت نہیں کی جاتی ہے. پھر جو اس کے علاوہ کا خواہشمند ہو وہ حد سے گزر جانے والا ہے. اور جو اپنی امانتوں اور عہد کا خیال رکھنے والے ہیں. اور جو اپنی گواہیوں پر قائم رہنے والے ہیں. اور جو اپنی نمازوں کا خیال رکھنے والے ہیں. یہی لوگ جنّت میں باعزّت طریقہ سے رہنے والے ہیں.

Tafseer

									         تفسیر
             بہشتیوں کی خصوصیات کا ایک اور حصہ
                        گزشتہ آیات میں مومنین اور ان لوگوں کی، جو قیامت میں اہل جنت ہوں گے ، مخصوص اوصاف میں سے چار صفات کا بیان ہوا تھا اور ان آیات میں دوسری پانچ صفات کی طرف اشارہ کرتا ہے، جو مجموعی طور پر نو صفات ہوجاتی ہیں۔
          پہلی توصیف کے بارےمیں فرناتا ہے: "وہ لوگ جو اپنی عفت ؎1 کی حفاظت کرتے ہیں"۔(والذین ھم لفروجھم حافظون)۔
                      مگر اپنی بیویوں اور کنیزوں  کی نسبت، جن سے فائدہ اٹھانے میں انھیں کسی قسم کی ملامت اور سرزنش نہیں ہے(الا علٰی ازواجھم اوما ملکت ایمانھم فانھم غیر ملومین)۔
                         اس میں شک نہیں ہے کہ خواہش جنسی، انسان کی سرکش خواہشات میں سے ہے اور بہت سے گناہوں کا سر چشمہ ہے، یہان تک بعض لوگوں کا نظریہ یہ ہے کہ تمام اہم جرائم کے اعمال ناموں میں ، اسی خواہش کا اثر نظر آتا ہے، اس لیے اس پر کنٹرول کرنا اور اس حدود کی حفاظت کرنا ، تقوٰی و پرہیز گاری کی اہم نشانیوں میں سے ہے ، اسی بناء پر نماز ، ضرورت مندوں کی مدد، قیامت کے دن پر ایمان اور عزاب الٰی سے خوف کے ذکر کے بعد ، اسی خواہش پر کنٹرول کا ذکر ہوا ہے۔ 
               وہ استثناء جو اس کے ذیل میں بیان ہوا ہے، وہ اس بات کی نشاندھی کرتا ہے کہ اسلام کی ہرگز یہ منطق نہیں ہے کہ یہ غریزہ اور خواہیش کلی طور پر محو اور نابود ہوجائے اور کوئی شخص راہبوں اور پادریوں کی طرح قانونِ خلقت کے برخلاف قدم اٹھائے، کیونکہ یہ عمل غالباً غیر ممکن ہے اور یہ فرض امکان غیرمنطقی ہے ، اسی لیے راہب بھی اس خواہش کو زندگی کے منظر سے حزف نہیں کرسکے اور اگر وہ رسمی طور پر شادی بیاہ نہیں  کرتے، تو ان میں سے بہت  سے "چون بخلوت ، می روندآں کار دیگرمی کنند" (جب تنہائی میں ہوتے ہیں تو پھر دوسرا ہی کام کرتے ہیں)۔
                 اور اس طریقہ سے جو رسوائیاں ہوئی ہیں وہ کم نہیں ، مسحیی مورخین "ویل دورانت" وغیرہ نے اس حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے۔
                    "ازدواج" کی تعبیر دائمی اور مئوقت دونوں بیویوں کے لیے استعمال ہوتی ہے اور یہ جو بعض نے گمان کیا ہے کہ یہ آیت "ازدواج موقت" (متعہ) کی نفی کرتی ہے، اس بناء پر ہے کہ وہ نہیں جانتے کہ وہ (عقد متعہ)بھی ازدواج (وشادی)کی ایک قسم ہے۔
                                                                                 ـــــــــــــــــــــــــــ
                      بعد والی آیت میں اس موضوع پر مزید تاکید کے لیے اضافہ کرتاہے: "اور جو لوگ اس کے علاوہ طلب کریں وہ تجاوز کرنے والے :، اور خدائی حدود سے خارج ہیں" (فمن ابتغٰی وراء ذالک فاولٰئک ھم العادون)۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ؎ 1    "فروج""فرج" کی جمع ہے۔ عضو تناسل کی طرف کنایہ ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
                    اور اس طرح سے اسلام ایک ایسے معاشرے کی داغ بیل ڈالتا ہے کہ جس میں فطری غرائز وخواہشات کا جواب بھی مل سکے اور وہ فحشاء و فساد جنسی اور اس پیدا ہونے والے مفاسد سے بھی آلودہ نہیں ہے۔
                      البتہ کنیزیں اسلام کے نقطہ نظرسے بیوی کے بہت سے شرئط اور قانونی ضابطوں کی حامل ہیں، اگرچہ ہمارے زمانے میں ان کا موضوع نہ ہونے کے برابر ہے۔
                                                                            ـــــــــــــــــــــــــــ
                     اس بعد ان کے دوسرے اور تیسرے اوصاف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے: "وہ لوگ جو اپنی امانتوں اور عہد و پیمان کی رعایت کرتے ہیں" (والذین ھم لاماناتھم و وہد ھم راعون)۔
                       البتہ "امانت" کا ایک وسیع معنی ہے، جو نہ صرف لوگوں کی ہر قسم کی مادی امانتوں کو اپنے اندر لیے ہوئے ہے، بلکہخدا، پیغمبروں اورائمہ معصومین کی امانتوں کو بھی شامل ہے۔
                          خدا کی تعمتوں میں سے ہر نعمت اس کی ایک امانت ہے، اجتماعی مناسب خصوصاً حکومت کا منصب اہم ترین امانتوں میں سے ہے، اسی لیے امام باقرؑ اور امام صادقؑ کی مشہور حدیث میں آیہ "ان اللہ یا مرکم ان تود واالا مانات الٰی اھلھا" کی تفسیر میں صراحت کے ساتھ آیا ہے کہ "ولایت و حکومت کو اس کے اہل کے سپرد کرو"۔ ؎ 1 
                         سُورہ احزاب کی آیہ 72 میں بھی یہ آیا ہے کہ تکہیف و مسئولیت(فرئض و واجبات) کا مسئلہ، خدا کی ایک عظیم امانت ہے: (انا عرضنا الا مانۃ علی السماوات والارض) اور سب سے اہم ترین، خدا دین و آئین اور اس کی کتاب قرآن، اس کی عظیم امانت ہے، جس کی حفاظت کی کوشش کرنا چاہیے ۔
                       "عہد" بھی ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے ، جو لوگوں کے عہد اور پیمانوں کو بھی شامل ہے اور خدا کے عہد اور پیمانوں کو بھی۔
                        کیونکہ "عہد" ہر وہ اقرار اور وعدہ ہے جو انسان دوسرے کے ساتھ کرتا ہے اوراس میں شک نہیں کہ جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر  پر ایمان لاتا ہے ، تو اس نے اس سے ایمان کے ساتھ ہی بہت وسیع ذمہ داریوں کو قبول کرلیا ہے۔
                     اسلام میں امانت کی حفاظت اور معاہدوں کا پابند ہونے کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے اور اسے اسلام کی اہم ترین نشانیوں میں بتایا گیا ہے۔ 
                     ہم سلسلہ میں تفسیر نمونہ کی جلد 2 ، سُورہ نساء کی آیہ 58 کے ذیل میں تفصیلی بحث کرچکے ہیں۔
                                                                                      ــــــــــــــــــــــ
         چوتھی صفت کے بارے میں مزید کہتا ہے: "وہ لوگ جو شہادت حق کی ادائیگی کے لیے قیام کرتے ہیں(والذین ھم بشھاداتھم قائمون)۔
         کیونکہ عادلانہ شہادت کو قائم کرنا اور اس کونہ چھپانا انسانی معاشرے میں قیام عدالت کی اہم ترین بنیادوں میں سے ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ؎ 1    تفسیر برہان، جلد 1 ص 380
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
        آخری صفت میں جو حقیقت میں اس مجموعہ صفات کی نویں صفت ہے، پھر دوبارہ نماز کے مسئلہ کی طرف لوٹتا ہے، جیسا کہ ان کا آغاز بھی نماز ہی سے ہوا تھا، فرماتا ہے:"وہ لوگ جو نماز کی حفاظت کرتے ہیں"(والذین ھم علٰی صلاتھم یحافظون)۔
         اور جیسا کہ ہم پہلے بھی اشارہ کر چکے ہیں، بعض قرائن کی طرف توجہ کرتے ہوئے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہاں "نماز""واجب نماز" کی طرف اشارہ ہے اور گزشتہ آیت میں "نماز نافلہ" کی طرف اشارہ ہے۔               
          البتہ پہلی صفت میں، نماز کے قائم رکھنے کی طرف اشارہ تھا، لیکن یہان اس کے آداب و شرائط ، ارکان و خصوصیات کی حفاظت کے متعلق گفتگو ہے، ایسے آداب جو نماز کے ظاہر کو بھی اس چیز سے کہ جو باعث فساد ہے محفوظ رکھتے ہیں اور روحِ نماز کو بھی، جو حضور قلب ہے۔ تقویت دیتے ہیں اور اخلاقی رکاوٹوں کو بھی جو اس کی قبولیت کی راہ میں مانع ہوتے ہیں، دور کر دیتے ہیں ، تو اسی بناء پر یہ ہرگز تکرار شمار نہیں ہوگا۔
            یہ آغاز و اختتام اس بات کی نشاندھیکرتا ہے، کہ ان تمام اوصاف میں ، نماز کی طرف توجہ، ان سب سے زیادہ برتر اور سب سے زیادہ اہم ہے، ایسا کیوں نہ ہو، جبکہ "نماز تربیت کا عالی مکتب" اور تہزیبِ نفوس اور معاشرہ کی پاکسازی کا اہم ترین وسیلہ ہے۔
             اور اس گفتگو کے آخر میں، ان اوصاف والوں کی اصلی راہ کو بیان کرتا ہے، جیسا کہ گزشتہ آیات میں مجرموں کی اصلی راہ کی تشیح کی تھی، یہان ایک مختصر اور پُر معنی جملہ میں فرماتا ہے: "وہ لوگ جو ان اوصاف کے حامل ہیں، ان جا ٹھکانا جنت کے باغات ہیں اور انھین ہر لحاظ سے عزت کے ساتھ رکھا جائے گا۔"(اولئک فی جنات مکرمون)۔ ؎ 2
              وہ محترم اور معزز کیوں نہ ہوں؟ جبکہ وہ خدا کے مہمان ہیں اور خدائے قادر و رحمٰن نے ، تمام ضروری وسائل ان کےلیے فراہم کر دیئے ہیں ، اور حقیقت میں یہ دونوں تعبیریں ("جنات"و"مکرمون")مادی و معنوی دونوں قسم کی نعمتوں کی طرف اشارہ ہے جو اس گروہ کے شامل حال ہوں گی۔
  ؎ 1    بقرہ 283 - 140 مائدہ 106، طلاق 2
  ؎ 2    "فی جنات"،"اولئک" کی خبر ہے اور "مکرمون" دوسری خبر ہے، یا یہ کہ "مکرمون" خبر ہے اور "فی جنات" اس سے متعلق ہے (غور کیجیے)۔