Tafseer e Namoona

Topic

											

									  شائستہ انسانوں کے اوصاف

										
																									
								

Ayat No : 19-28

: المعارج

إِنَّ الْإِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوعًا ۱۹إِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوعًا ۲۰وَإِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوعًا ۲۱إِلَّا الْمُصَلِّينَ ۲۲الَّذِينَ هُمْ عَلَىٰ صَلَاتِهِمْ دَائِمُونَ ۲۳وَالَّذِينَ فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَعْلُومٌ ۲۴لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ ۲۵وَالَّذِينَ يُصَدِّقُونَ بِيَوْمِ الدِّينِ ۲۶وَالَّذِينَ هُمْ مِنْ عَذَابِ رَبِّهِمْ مُشْفِقُونَ ۲۷إِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمْ غَيْرُ مَأْمُونٍ ۲۸

Translation

بیشک انسان بڑا لالچی ہے. جب تکلیف پہنچ جاتی ہے تو فریادی بن جاتا ہے. اور جب مال مل جاتا ہے تو بخیل ہو جاتا ہے. علاوہ ان نمازیوں کے. جو اپنی نمازوں کی پابندی کرنے والے ہیں. اور جن کے اموال میں ایک مقررہ حق معین ہے. مانگنے والے کے لئے اور نہ مانگنے والے کے لئے. اور جو لوگ روز قیامت کی تصدیق کرنے والے ہیں. اور جو اپنے پروردگار کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں. بیشک عذاب پروردگار بے خوف رہنے والی چیز نہیں ہے.

Tafseer

									  تفسیر
     شائستہ انسانوں کے اوصاف 
             قیامت کے عزابوں کے ایک گوشہ کا ذکر کرنے کے بعد، بےایمان افراد کے اوصاف، اور ان کے مقابلہ میں سچے مومنین کے اوصاف بیان کرتا ہے، تاکہ معلوم ہوجائے کہ ایک گروہ اہلِ نجات کیوں ہے؟
               پہلے فرماتا ہے: "انسان حریص اور کم طاقت پیدا کیاگیاہے"(ان الانسان خلق ھلوعًا)۔
                                                                           ــــــــــــــــــــــــ 
        جب اسے کوئی برائی پہنچے تو جزع و فزع اور بیتابی کرتا ہے (اذا مسہُ الشر جزوعًا)۔
                                                                            ـــــــــــــــــــــــ
       اور جب اسے کوئی بھلائی پہنچے تو دوسروں سے دریغ کرتا ہے(اور روکتا ہے)۔(و اذا مسہ الخیر منوعًا)۔
        بہت سے مفسرین اور اربابِ لغت نے "ھلوع" کا معنی حریص کہا ہے اور ایک گروہ نے اس اس کی  "کم طاقت " کے معنی کے ساتھ تفسیر کی ہے ۔ پہلی تفسیر کی بناء پر یہاں اس قسم کے انسانوں کے وجود میں  تین منفی اخلاقی نکتوں کی طرف اشارہ ہوا ہے "حرص" و "جزع" و "بحل" کیونکہ دوسری اور تیسری آیت "ھلوع" کے معنی کی تفسیر ہے۔
        یہ اعتمال بھی ہے کہ اس لفظ میں دونوں  معانی اکھٹے مراد ہوں ، کیونکہ یہ دونوں صفات ایک دوسرے کے لازم ملزوم ہیں، حریص افراد عام طور پر بخیل ہوتے ہیں اور بُرے حوادیث میں کم تحمل ہوتے ہیں اور اس کا عکس بھی صادق اور سچا ہے۔      
                                                                         ـــــــــــــــــــــــ 
         یہان ایک یا کئی سوالات سامنے آتے ہیں ، کہ اگر خدا نے انسان کو سوادت و کمال کے لیے پیدا کیا ہے، تو پھر اس کی طبیعت میں شر اور بدی کو کیوں قرار دیا ہے؟
          اور پھر یہ بات بھی ہے ، کہ خدا کسی چیز کو ، کسی صفت کے ساتھ پیدا کرے، تو کیا یہ ممکن ہے کہ پھر اپنی خلقت کی مزمت بھی کرے ؟
           اور ان تمام باتوں سے قطع نظر ، قرآن سورہ "تین کی آیہ 4 میں صراحت کے ساتھ کہتا ہے: (لقد خلقنا الانسان فی اخسن تقویم)" "ہم نے انسان کو بہترین شکل و صورت میں اور ساخت میں پیدا کیا ہے"۔
            مسلمہ طور پر اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ انسان کا ظاہر تو اچھا ہے لیکن اس باطن قبیح اور برا ہے، بلکہ انسان کی تمام خلقت "احسن تقویم" کی صورت میں ہے اور اسی طرح وہ دوسری آیات جو انسان کے بلند مقام کی تعریف کرتی ہیں ، تو یہ سب آیات زیرِ بحث آیت کے ساتھ کس طرح سازگار ہیں ؟
             ان تمام سوالات کا جواب ایک ایک نکتہ کی طرف توجہ کرنے سے واضح ہوجاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ خدا نے انسان میں ایسی قوتیں، غرائز اور صفات خلق فرمائی ہیں ، جو اس کے تکامل و ارتکاء اور سعادت کا بالقوہ ذریعہ شمار ہوتی ہیں۔ اس بناء پر مزکورہ صفات و غرائز ذاتی طور پر بُری نہیں ہیں، بلکہ کمال کا وسیلہ اور ذریعہ ہیں لیکن جب یہی صفات انحرافی راہ اختیار کرلیں اور ان سے سوء استفادہ ہونے لگے، تو نکبت، بدبختی اور شروفساد کا سب بن جاتی ہیں۔
              مثلاً یہ حرص ایک ایسی قوت ہے جو انسان کو اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ وہ جلدی سعی و کوشش سے رک جائے اور کسی نعمت تک پہنچ کر سر ہوجائے ۔ یہ ایک بھڑکی ہوئی پیاس ہے ، جو انسان کے وجود پر مسلط ہے۔ اگر یہی صفت تخصیل علم و دانش کی راہ میں استعمال ہو، اور انسان علم حصول میں حریص ہوجائے یا دوسرے لفظوں میں علم کا پیاسا اور عاشق بےقرار ہوجائے تو مسلمہ طور پر یہ بات ، اس کے کمال کا سبب بنے گی، لیکن اگر وہ مادیات کی راہ میں استعمال ہونے لگے، تو پھر شر وبدی اور بخل کا سبب بنے گی۔ 
                 دوسرے لفظوں میں ، یہ صفت حُب ذات کی ایک شاخ ہے اور ہم جانتے ہیں کہ حب ذات ایک ایسی چیز ہے ، جو انسان کو کمال کی طرف لے جاتی ہے۔ لیکن اگر یہ انحرافی راہ پر پڑجائے تو انحصار طلبی(خودغضی) و بخل و حسد وغیرہ کی طرف لے جاتی ہے۔
                 دوسرے مواہب کے بارے میں بھی مطلب اسی طرح سے ہے، خداوندتعالے نے ایٹم کے اندر ایک عظیم قوت پیدا کی ، مسلمہ طور پر مفید اور سود مند ہے لیکن اگر ایٹم کی اس ادرونی قوت سے سوءاستفادہ ہونے لگے اور اس سے ویران و تباہ کرنےوالے ایٹم بم بنئے جانے لگیں ، نہ کہ بجلی کے پاورہائوس اور دوسری صنعتوں وسائل ، تو پھر یہی شر وفساد کا سبب بن جائے گا۔  
                  اوپر والے بیان کی طرف توجہ کرتے ہوئے، ان تمام آیات کے معانی و مطالب کو ـــــــــــــ جو قرآن مجید میں انسان کے بارے میں آئی ہیں ــــــــــ جمع کیا جاسکتا ہے۔ ؎1 
                                                                      ــــــــــــــــــــــــــــــ
                  اس کے بعد شائستہ اور لائق انسانون کا بیان ــــــــــ ایک استثنائی صورت میں ـــــــــ نو(9) عمدہ صفات کے ضمن میں پیش کرتے ہوئے کہتا ہے : 
                   "مگر نماز پڑھنے والے" (الاالمصلین)۔
                                                                              ــــــــــــــ
               وہی نماز گزار جو اپنی نمازوں کو دوام بخشے ہیں(الذین ھم علٰی صلاتھم دائمون)۔ 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ؎1    ہم نے تفسیر نمونہ جلد 5 کے ص 96 تا 98 پر "انسان در قرآن کریم" کے عنوان کے تحت (یونس آیہ 12 کے ذیل میں) ایک اور وضاحت بھی کی ہے۔ 
 ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ    
       یہ ان کی پہلی خصوصیت ہے ، جو خداوند تعالٰی کی بارگاہ میں مسلسل اور دائی طور پر ارتباط رکھتے ہیں اور یہ ارتباط نماز کے ذریعے پورا ہوتا ہے وہ نماز جو انسان کو مخشاء و منکر سے روکتی ہے، وہ نماز جو انسان کی روح اور جان کی پرورش    کرتی ہے ، اور اس کو ہمیشہ خدا کی یاد دلاتی رہتی ہے ، یہ مسلسل اور دائمی توجہ، غفلت، غرور اور دریائے شہوت میں ڈوب جائے، اور شیطان اور ہوائے نفس کے چنگل میں اسیر ہونے سے باز رکھتی ہے۔
        یہ بات واضح ہے کہ نمازپر مدادمت سے مراد یہ نہیں ہے کہ وہ ہمیشہ حالتِ نماز میں رہیں ، بلکہ مراد یہ ہے کہ وہ متعین اوقات میں نماز کو انجام دیتے ہیں۔ 
        اصولی طور پر ہر کارِ خیر اس وقت انسان میں مثبت اثر کرتا ہے ، جب کہ اس کی مدادمت ہو، اور اسی لیے پیغمبراکرامؐ سے ایک حدیث میں آیا ہے: 
              ان حب الاعمال الی اللہ مادام و ان قل
         خدا کے ہاں محبوب ترین عمل وہ ہے کہ جس میں مدادمت ہو ، چاہے وہ کم ہی کیوں نہ ہو۔ ؎1 
     قابل توجہ بات یہ پے کہ ایک حدیث میں امام باقرؑ سے آیا ہے کہ : "اس سے مراد یہ ہے کہ اگر کوئی انسان نوافل میں سے کوئی چیز اپنے اوپر فرض کرے تو ہمیشہ اس کی مدادمت کرتا رہے"۔ ؎ 2
         ایک اور حدیث میں اسی امام سے نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا:  
                          یہ آیات نافلہ کی طرف اشارہ ہے اور آیہ (والذین ھم علی صلاتھم یحافظون)  
                              (جو کچھ آیات کے بعد آئے گی) نماز فریضہ کو بیان کرتی ہے۔ ؎3
         یہ فرق ممکن ہے اس بناء پر ہو کہ محافظت کی تعبیر تو واجب نمازوں کے ساتھ مناسب ہے اور انھیں خاص طور پر متعین میں ہی انجام دینا چاہیے، باقی رہی مدام کی تعبیر تو یہ مستحب نمازوں کے ساتھ مناسب ہے، کیونکہ انسان انھیں انجام بھی دے سکتا ہے اور کبھی چھوڑ بھی سکتا ہے۔
                                                                        ـــــــــــــــــــــــ
     بہرحال نماز کے ذکر کے بعد ـــــــــ جو بہترین عمل اور مومنین کی بہترین حالت ہے ـــــــ ان کی دوسری خصوصیت پیش کرتے ہوئے مزید کہتا ہے: "وہ لوگ کہ جن کےاموال میں ایک حق معلوم ہے" (والذین فی اموالھم حق معلوم)۔
                                                                            ــــــــــــــــــــــــــــ
          "سوال کرنے والوں اور محروموں کے لیے" (السائل ولمحروم)۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ؎1     المعجم المفھرس لالفاظ الحدیث جلد 6 ص120 (مادہ دوام)
  ؎2      نورالثقلین جلد 5 ص 415
  ؎3      نورالثقلین جلد 5 ص 416 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
       اس طرح سے وہ خالق سے اپنے ارتباط کی بھی حفاظت کرتے ہیں ، اور مخلوقِ خدا کے ساتھ بھی اپنے رشتہ اور تعلق کو برقرار رکھتے ہیں۔
       بعض مفسرین کا نظریہ یہ ہے کہ یہاں "حق معلوم" سے مراد وہی "زکات"ہے۔ جس ایک مقدار معین ہے اس کے مصارف میں سے "سائل" اور "محروم" ہیں ، جبکہ ہم جانتے ہی کہ یہ سُورہ مکی ہے، اور زکوٰۃ کا حکم مکہ میں نازل نہیں ہوا تھا یا اگر نازل ہوا تھا تو اس کی کوئی مقدار معین نہیں تھی ، لہزا بعض دوسروں کا نظریہ یہ ہو کہ "حق معلوم" سے مراد زکات کے علاوہ کوئی اور چیز ہے ،جسے انسان اپنے اوپر لازم قرار دیتا ہے کہ وہ حاجت مندوں کو دے گا، اس تفسیر شاہدو گواہ وہ حدیث ہے جو امام صادقؑ نقل ہوئی ہے، کہ جس قوت لاگوں نے اس آیت کی تفسیر کے بارے میں سوال کیا کہ کیا وہ زکات کے علاوہ کوئی چیز ہے ؟ تو آپ نے فرمایا :
                                "ھوالرجل یئوتیہ اللہ الثروۃ من المال فیخرج منہ الالف والا لفین
                                 والثلاثۃ اٰلاف و الا قل والا کثر، فیصل بہ رحمہ ، و بحمل بہ 
                                       الکل عن قومہ":
                   ہاں! یہ اس شخص کے بارےمیں ہے، جسے خدا مال و ثروت وعطا فرماتا ہے، اور وہ اس میں سے ایک ہزار، دو                    ہزرا اور تین ہزار یا اس سے زیادہ یا کم الگ کر دیتا ہے اور اس سے صلہ رحمی کرتا ہے ، اور اس ذریعے اپنی 
                     قوم سے مشقت اور بوجھ کو اٹھا لیتا ہے۔ ؎ 1 
        "سائل" اور "محروم" کے کے درمیان فرق یہ ہے کہ سائل تو اس شخص کو کہتے ہیں، جو اپنی حاجت پیش کرکے تقاضا اور سوال کرتا ہے اور "محروم" وہ شخص ہے جسے شرم و حیا ، سوال و تقاضا کرنے سے مانع ہوتی ہے، اور اور ایک حدیث میں  امام صادق سے آیا ہے: 
                       "محروم" وہ شص ہے جو کسب و کار میں زحمت و تکلیف اٹھاتا ہے لیکن اس کی زندگی پیچیدہ ہوگئی ہے ؎ 2
        مزکورہ حق کی مزید تشریح اور "سائل" و "محروم" کی تفسیر، تفسیر نمونہ کی جلد 12 ص 572 میں آچکی ہے۔ (ذاریات آیہ 19 کے ذیل میں)۔
                  بہرحال اس کام انجام دینا ایئک طرف تو اجتماعی اثر رکھتاہے اور فقر و فاقہ اور محرومیت کے ساتھ مبارزہ کرتا ہے، اور دوسری طرف ان لوگوں پر جو اس پر عمل کرتے ہیں ، اخلاقی اثر چھوڑتا ہے اور ان کے دل وجان کو حرص و بخل اور دنیا پرستی سے پاک کرتا ہے۔
                                                                         ـــــــــــــــــــــــــــ
                  بعد والی آیت ان کی تیسری خصوصیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہتی ہے :"وہ لگ جو روز جزا ایمان رکھتے ہیں"۔ (والذین یصدقون بیوم الدین)۔
                   اور چوتھی خصوصیت میں کہتا ہے : "اور وہ لوگ جو اپنے پروردگار کے عذاب سے ڈرتے ہیں"(والذین ھم من عذاب ربھم مشفقون )۔ 
                                                                      ـــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ؎ 1   "نورالثقلین" جلد 5 ص 417 (حدیث 25-27)
  ؎ 2   ایضاً
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
            "کیونکہ وہ کسی شخص  کو پروردگار کے عذاب سے امان میں نہیں سمجھتے"(ان عذاب ربھم غیر مامون)۔
              وہ ایک طرف تو روز جزا پر ایمان رکھتے ہیں ، اور "یصدقون" کی تعبیر کی طرف توجہ کرتے ہوئے ، جو فعل مضارع ہے اور استمرار پر دالالت کرتا ہے ، وہ ہمیشہ اس بات پر توجہ رکھتے ہیں کہ حساب و کتاب اور جزا و سزا سے واسطہ پڑے گا۔
         بعض مفسرین نے اس کی "تصدیق عملی" کے معنی میں، یعنی انجام و وظائف اور ترک محرمات سے تفسیر کی ہے، لیکن آیت کا ظاہر مطلق ہے جو علمی اورعملی دونوں تصدیقوں کو شامل ہے۔ 
لیکن چونکہ یہ ممکن ہے کہ کوئی شخص ورز جزا پر ایمان تو رکھتا ہو ۔ لیکن وہ اپنے آپ کو سزا کا مشمول نہ سمجھتا ہو، اس لیے کہتا ہے: وہ ہر گز اپنے آپ کو امان میں نہیں سمجھتے"۔ یعنی وہ ہمیشہ بازپرس کا احساس رکھتے ہیں۔ اپنے حسنات اور ناچیز اور اپنی برائیوں کو بڑا شمارکرتے ہیں۔ اس لیے ایک حدیث میں امیرالمومنین علیؑ سے آیا ہے کہ آپ نے اپنے فرزند کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا :
                             خف اللہ خوفاً انک لواتینہ بحسنات اھل الارض لم یقبلھا منک، و 
                             ارج اللہ رجاءًاانک لواتیتہ بسیئات اھل الارض غفرھالک:
                 اے میرے فرزند! تو خدا سے اس طرح خائف رپ  کہ اگر تو روئے زمین کے لوگوں کی نیکیاں لے کر بھی آئے تو بھی یہ احتمال دے کہ (شاید) خدا تجھ سے قبول نہ کرے، اور اس طرح اس سے امید وار رہ کہ اگر تو تمام اہل زمین کے ھناہ بھی رکھتے ہو تو بھی یہ احتمال دے کہ وہ تجھے بخش دے"۔ ؎ 1
                  یہاں تک کہ خود پیغمبر یہ فرمایا کرتے تھے:
               لن ید خل الجنۃ احدًا عملہ قالوا الا انت یا رسول اللہ قال ولالنا، الا ان یتغمدنی اللہ برحمتہ !:
              "کوئی شخص اپنے عمل کی وجہ سے جنت میں داخل نہیں ہوگا، لوگوں نے عرض کیا اے رسولؐ خدا کیا آپ بھی؟
                فرمایا: ہان میں بھی اسی طرح ہوں مگر یہ کہ خدا کی رحمت میرے شامل حال ہو"۔  
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ؎ 1   جامع الاخبار ، ص 113