آیت 19 تا 28
إِنَّ الْإِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوعًا ۱۹إِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوعًا ۲۰وَإِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوعًا ۲۱إِلَّا الْمُصَلِّينَ ۲۲الَّذِينَ هُمْ عَلَىٰ صَلَاتِهِمْ دَائِمُونَ ۲۳وَالَّذِينَ فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَعْلُومٌ ۲۴لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ ۲۵وَالَّذِينَ يُصَدِّقُونَ بِيَوْمِ الدِّينِ ۲۶وَالَّذِينَ هُمْ مِنْ عَذَابِ رَبِّهِمْ مُشْفِقُونَ ۲۷إِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمْ غَيْرُ مَأْمُونٍ ۲۸
بیشک انسان بڑا لالچی ہے. جب تکلیف پہنچ جاتی ہے تو فریادی بن جاتا ہے. اور جب مال مل جاتا ہے تو بخیل ہو جاتا ہے. علاوہ ان نمازیوں کے. جو اپنی نمازوں کی پابندی کرنے والے ہیں. اور جن کے اموال میں ایک مقررہ حق معین ہے. مانگنے والے کے لئے اور نہ مانگنے والے کے لئے. اور جو لوگ روز قیامت کی تصدیق کرنے والے ہیں. اور جو اپنے پروردگار کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں. بیشک عذاب پروردگار بے خوف رہنے والی چیز نہیں ہے.
19- ان الانسان خلق ھلوعًا
20- اذا مسہُ الشر جزوعًا
21- و اذا مسہ الخیر منوعً
22- الا المصلین
23- الذین ھم علی صلاتھم دائمون
24- والذین فی اموالھم حق معلوم
25- للسائل والمحروم
26- والذین یصدقون بیوم الذین
27- والذین ھم من عذاب ربھم مشفقون
28- ان عذاب ربھم غیر مامون
ترجمہ
19- انسان حریص اور کم طاقت پیدا کیا گیا ہے۔
20- جب اسے کوئی برائی پہنچے تو بےتابی کرتا ہے۔
21- اور جب اسے کوئی بھلائی پہنچے تو دوسروں سے منع کرتا ہے۔
22- سوائے نماز پڑھنے والوں کے۔
23- جو نماز کو بلاناغہ ہمیشہ بجالاتے ہیں۔
24- اور(سوائے ان لوگوں کے) جن کے مال میں حق معلوم ہے۔
25- سوال کرنے والوں اور محروموں کے لیے۔
26- اور وہ لوگ جو جزا کے دن پر ایمان رکھتے ہیں۔
27- اور وہ لوگ جو اپنے پروردگار کے عزاب سے ڈرتے ہیں۔
28- کیونکہ وہ اپنے آپ کو پروردگار کے عزاب سے ہرگز امان میں نہیں سمجتے۔