وہ دن کہ جس میں کوئی مخلص دوست اپنے دوست کی خبر گیری نہیں کرے گا۔
يَوْمَ تَكُونُ السَّمَاءُ كَالْمُهْلِ ۸وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ ۹وَلَا يَسْأَلُ حَمِيمٌ حَمِيمًا ۱۰يُبَصَّرُونَهُمْ ۚ يَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ يَفْتَدِي مِنْ عَذَابِ يَوْمِئِذٍ بِبَنِيهِ ۱۱وَصَاحِبَتِهِ وَأَخِيهِ ۱۲وَفَصِيلَتِهِ الَّتِي تُؤْوِيهِ ۱۳وَمَنْ فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ثُمَّ يُنْجِيهِ ۱۴كَلَّا ۖ إِنَّهَا لَظَىٰ ۱۵نَزَّاعَةً لِلشَّوَىٰ ۱۶
جس دن آسمان پگھلے ہوئے تانبے کے مانند ہوجائے گا. اور پہاڑ دھنکے ہوئے اون جیسے. اور کوئی ہمدرد کسی ہمدرد کا پرسانِ حال نہ ہوگا. وہ سب ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے تو مجرم چاہے گا کہ کاش آج کے دن کے عذاب کے بدلے اس کی اولاد کو لے لیا جائے. اوربیوی اور بھائی کو. اور اس کنبہ کو جس میں وہ رہتا تھا. اور روئے زمین کی ساری مخلوقات کو اور اسے نجات دے دی جائے. ہرگز نہیں یہ آتش جہنمّ ہے. کھال اتار دینے والی.
تفسیر
وہ دن کہ جس میں کوئی مخلص دوست اپنے دوست کی خبر گیری نہیں کریگا
ان آیات میں ، قیامت کے بارے میں ، گزشتہ مباحث کو، مزید تشریح و توضیح کے ساتھ جاری رکھا ہے ،فرماتےہے: "اس دن آسمان پگلی ہوئی دھات کے مانند ہوجائےگا"(یوم تکون السماء کا لعھل)۔ ؎1
ــــــــــــــــــــــــــــــ
اس آسمان پگلی ہوئی دھات کی طرح ہوجائے گا(یوم تکون السماء کالمھل)
"مھل" (برزون قفل) پگلی ہوئی دھات کے معنی میں ہے اور کبھی ایک خاص قسم کی تلچھٹ کے معنی میں ہوتا ہے جو زیتون کے تیل کی تہہ میں بیٹھ جاتا ہے اور اور یہاں وہی پہلا معنی ہی مناسب ہے، اگرچہ تشبیہ کے اعتبار سے آپس میں کوئی خاص فرق نہیں رکھتے۔
"عھن" دھنکی ہوئی رنگین اون کے معنی میں ہے۔
ہاں! اس دن آسمان ایک دوسرے سے جدا ہوکر پگھل جائیں گے اور پہاڑ ایک دوسرے ٹکرا کر ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور پھر تیز آندھی سے فضا میں بکھر جائیں گے، اس اون کی طرح جسے تیز ہوا اپنے ساتھ اڑا کر لےجاتی ہے، اور چونکہ پہاڑوں کے مختلف رنگ ہوتے ہیں، اس لیے انھیں رنگین اون سے تشبیہ دی گئ ہے اور اس ویرانی کے بعد، ایک نیا عالم ایجاد ہوگا اور انسان اپنی حیات نو کو نئے سرے سے حاصل کرے گا۔
ــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎ 1 "یوم" کے حمل اعراب میں کئی احتمال دیئے گئے ہیں لیکن ان میں سے زیادہ بہتر یہ ہے کہ وہ "تقریباً" سے جو گزشتہ آیت میں آیا ہے بدل ہو یا ایک فعل مخدوف سئ متعلق ہو، مثلاً "اذکم"۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جب اس جہانِ نو میں قیامت برپا ہوگی تو اس طرح سے حساب وکتاب اور اعمال کی جانچ پڑتال کی کیفیت وحشت ناک ہوگی، اور ہر شخص کو اپنی فکر ہوگی، کوئی دوسرے کی خبر نہیں لےگا اور کوئی گہرا اور مخلص دوست اپنے دوست کا حال نہیں پوچھے گا (الا یسئل حمیم حمیمًا)۔ ؎1
سب کے سب اپنے کام میں مشغول ہوں گے، ہر ایک کو اپنی ہی نجات کی فکر ہوگی ، جیسا کہ سورہ عبس کی آیہ 37 میں آیا ہے: (امری منھم یومئذ شاًن یغنیہ) اس دن ان میں سے ہر ایک اس طرح گرفتار ہوگا کہ اسے صرف اپنی ہی اپنی فکر ہوگی- ؎1
ـــــــــــــــــــــــــــ
ایسا نہیں ہوگا کہ دوست وہاں پر دوستوں کو پہچانیں گے نہیں بلکہ خصوصیت کے ساتھ "ان کے دوست انھیں دکھائے جائیں گے، لیکن اس باوجود ہر شخص اپنی ہی مصیبت میں مبتلا ہوگا" (یبصرونھم)۔ ؎2
مسئلہ یہ ہے کہ ہول و وحشت ناک منظر کی تصویر کشی کرتے ہوئے مزید کہتا ہے : حالت یہ ہوگی کہ مجرم و گنہگار یہ چاہے گا کہ اپنی اولاد کو اس دن کے بدلے میں فدا کردے (یودالمجرم لو یفتدی من عذاب یومئذ ببنیہ)۔
ـــــــــــــــــــــــــــ
نہ صرف اپنی اولاد کو ، بلکہ وہ یہ چائے گا کہ "اپنی بیوی کو بھی اور اپنے بھائی کو بھی فدا کر دے" (اصاحبتہ و اخیہ)۔
ـــــــــــــــــــــــــــ
اور اسی بناء پر اس خاندان اورقبیلہ کو بھی جو اس سے تعلق رکھتا تھا اور اس کی حمایت کیا کرتا تھا(وفصیلتہ التی تویہ)
ـــــــــــــــــــــــــــ
بلکہ تممام لوگوں کو جو روئے زمین میں ہیں ، سب کو فدا کر دے تاکہ اس کی نجات ہوجائے (ومن فی الارض جمیعًا ثم ینجیہ)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎1 "حمیم" جیسا کہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیاہے، اصل میں گرم اور جلانے والے پانی کے معنی میں ہے، اس کے بعد یہ لفظ گرم جوشی دکھانے والے مخلص اور دلی دوستوں پر بھی بولا جانے لگا۔
؎2 اوپر والی آیت کے لیے اور دوسری تفاسیر بھی بیان کی گئی ہیں، منجملہ ان کے یہ ہے کہ کوئی شخص دوسرے کے حالات کے متعلق سوال نہیں کرے گا، کیونکہ سب کی وضع و کیفیت ان کے چہرے سے عیاں ہوگی(وآنجا کہ عیاں است چہ حاجت بہ بیان است)؟ دوسری یہ کہ کوئی شخص دوسرے سے یہ نہیں کہے گا وہ اس کے اعمال کی ذمہ داری اٹھائے، کیونکہ یہ بات ممکن ہی نہیں ہے ، لیکن صحیح وہی اوپر والی تفسیر ہے۔
؎ 3 باوجود اس کے کہ "حمیم" دونوں مرحلوں میں مفرد کی صورت میں ہے، لیکن "یبصرونھم" میں دونوں ضمیریں جمع کی صورت میں آتی ہیں، کیونکہ وہ جنس کی صورت میں ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ہاں! اس دن خدا کا عزاب اتنا ہولناک ہوگا، کہ انسان یہ چائے گا کہ وہ اپنے عزیز ترین رشتہ داروں کو------جن کا یہاں چار گروہوں (اولاد، بیویاں، بھائی اور قریبی رشتہ دار جو اس کے یار و مددگار تھے)میں خلاصہ کیا گیاہے------اپنی نجات کے لیے قربان ہوجائیں ۔ !
"یود" "ود" کے مادہ سے(ٓجو حب کے وزن پر ہے)۔ "تمنی" سے تو اُم "دوست رکھنے" کے معنی میں ہے اور بقول "راغب" ان دونوں معانی میں سے ہر ایک کے لیے (بلکہ دونوں معانی میں) بھی استعمال ہوتا ہے۔
"یفتدی" "فداء" کے مادہ سے ، کوئی چیز دے کر اپنے آپ کو مصائب و مشکلات سے محفوظ کرنے کے معنی میں ہے۔
"فصیلۃ" برمعنی "عشیرہ" اس خاندان اور قبیلہ کو کہتے ہیں جس انسان مقصل اور جدا ہوا ہو۔
"تویہ" "ایواء"کے مادہ سے ، ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ ضم کرنے کے معنی میں ہے، اس کے بعد پناہ دینے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔
بہت سے مفسرین نے یہ کہا ہے کہ "ثم ینجیہ" کے جملہ میں "ثم" کی تعبیر یہ بتاتی ہے، کہ وہ یہ جانتے ہیں کہ ان فدیوں اورقربانیوں کا اثر کرنا بہت بعید ہے (کیونکہ "ثم" عام طور پر، بعد، فاصلہ اور تراخی کے لیے آتا ہے)۔
ـــــــــــــــــــــــــــ
لیکن ان تمام تمنائوں اور آرزوئوں کے مقابلہ میں فرماتا ہے : "ہر گز نہیں ہوگا" کوئی فدیہ اور قربانی قبول نہیں کی جائے گی۔
ہمیشہ اس کے شعلے بھڑکتے رہتے ہیں اور چیز بھی اس کے پاس یا اس کی راہ میں آتی ہے اسے جلادیتی ہے ۔ "ہاتھ، پائوں اور سر کے چمڑے کو اکھاڑ کر اپنے ساتھ لے جاتی ہے" (نزاعۃ للشوی)۔
"لظی" آگ کے خالص شعلہ کے معنی ہے اور جہنم کے ناموں میں سے ایک نام بھی ہے، اور اوپر والی آیات میں دونوں معنی ممکن ہیں۔
"نزاعۃ" اس چیز کے معنی میں ہے جو پے درپے جدا کرتی ہے۔
اور "شوی" ہاتھ، پائوں اور اطرافِ بدن کے معنی میں ہے اور بعض اوقات بریاں کرنے اور بھوننے کے معنی میں بھی آتا ہے ۔ لیکن یہاں وہی پہلا معنی مراد ہے ، کیونکہ جس وقت جلانے والی اور شعلہ ور آگ کسی چیز کو لگتی ہے تو پہلے اس کے اطراف جوانب اور شاخ و برگ کو جلاتی ہے اور اس سے جدا کر دیتی ہے۔
بعض مفسرین نے یہاں "شوی" کی بدن کی جلد کے معنی میں، اور بعض نے سر کی جلد کے معنی میں، اور بعض نے پنڈلی کے گوشت کے معنی میں تفسیر کی ہے، اور یہ سب معانی ، اس وسیع مفہوم میں جو ہم نے بیان کیا ہے، جمع ہیں اور تعجب کی بات یہ ہے کہ اس ساری مصیبت اور تکلیف کے باوجود موت اور مرنا درمیان میں نیہں ہے۔
اس کے بعد ان لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، جو اس قسم کی آگ کا لقمہ ہیں، فرماتا ہے : "یہ جلانے والا شعلہ ان لوگوں کو، کہ جنھوں نے حکم خدا سے پشت پھیری اور اس کی اطاعت سے روگردانی کی، آواز دیتا ہے اور اپنی طرف بلاتا ہے" (تد عوامن ادبروتولی)۔
ـــــــــــــــــــــــــــ
اور انھیں بھی، کہ جنھوں نے مال جمع کیے اور ان کا ذخیرہ کیا، اور خدا کی راہ میں خرچ نہیں کیا (وجمع فاوعی) اس طرح سے یہ جلانے والی آگ، زبان حال سے ، اور اس مخصوص کشش کے ساتھ، جو مجرموں کے لیے رکھتی ہے، یا زباںِ قال سے خدا نے اسے دی ہے ، مسلسل انھیں آواز دیتی ہے، اور انھیں اپنی طرف بلاتی ہے، انھیں کو جو ان دو صفات کے حامل ہیں، ایمان کی طرف سے پشت کیے ہوئے اور خدا اور رسولؐ کی اطاعت سے سرتابی کیے ہوئے ، اور دوسری طرف سے، ہمیشہ حرام و حلال سے جمع کرنے اور اسے ذخیرہ کرنے میں لگے ہوئے تھے ، اور فقراء و مساکین کے حقوق کی طرف کوئی توجہ نہیں کیا کرتے تھے، یا اصلاً اس نعمت الہی ، یعنی مال کے فلسفہ کو سمجھتے ہی نہ تھے۔