Tafseer e Namoona

Topic

											

									  پچاس ہزار سال کے برابر دن

										
																									
								

Ayat No : 4-7

: المعارج

تَعْرُجُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ ۴فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِيلًا ۵إِنَّهُمْ يَرَوْنَهُ بَعِيدًا ۶وَنَرَاهُ قَرِيبًا ۷

Translation

جس کی طرف فرشتے اور روح الامین بلند ہوتے ہیں اس ایک دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہے. لہذا آپ بہترین صبر سے کام لیں. یہ لوگ اسے دور سمجھ رہے ہیں. اور ہم اسے قریب ہی دیکھ رہے ہیں.

Tafseer

									 تفسیر
            پچاس ہزار سال کے برابر دن
      ایک شخص کے دنیاوی عزاب کے واقعہ کو بیان کرنے کے بعد جس نے عزاب الہی کا تقاضا کیا تھا۔ معاد اور مجرموں کے اس دن کے اخروی عزابوں کے مباحث کا بیان شروع کرتا ہے، پہلے فرماتا ہے : وہ فرشتے اور روح ، اس دن جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی ، اس (خدا) کی طرف عروج کریں گے (تعرج الملائکہ والروح الیہ فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ)۔
       مسلمہ طورسے "فرشتوں کے عروج" سے مراد جسمانی عروج نہیں ہے بلکہ اس سے مراد روحانی عروج ہے، یعنی وہ خدا کے مقامِ قرب کی طرف بڑھیں گے اور اس دن ، جو قیامت کا دن ہے ، فرمان خداوندی کو حاصل کرنے اور اس کے اجراء کے لیے آمادہ ہوں گے۔ جیسا کہ ہم نے سُورہ "حاقہ" کی آیہ 17 کی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ "والملک علی اوجائھا" (فرشتے آسمان کے اطراف  میں قرار پائیں گے) کے جملے سے مراد یہ ہے کہ اس دن وہ آسمانوں کے گرداگرد کھڑے ہوں گے اور ہر قسم کے فرمان کو انجام دینے کے لیےآمادہ ہوں گے۔ ؎1  
      "روح" سے مراد وہی "روح الامین" ہے جو سب فرشتوں سے بزرگ ہے اور جس کی طرف سُورہ "قدر" میں بھی اشارہ ہوا ہے، جہاں کہتا ہے : تنزل الملائکۃ والروح فیھا باذن ربھم من کل امر :
"شب قدر میں فرشتے اور روح اپنے پروردگار کے حکم سے امور کی تقدیر کے لیے نازل ہوتے ہیں "(قدر ــــ 4)
         البتہ  "روح" کے مختلف معانی ہیں اور ممکن ہے کہ وہ ہر موقع پر موجود قرائن کی مناسبت سے ایک خاص مفہوم دے۔ روح انسان، روح قرآن ، ورح یعنی ورح القدس اور ورح یعنی فرشتے وحی ، یہ سب روح کے معانی ہیں۔ جن کی طرف قرآن کی دوسری آیات میں اشارہ ہوا ہے۔ ؎2 
        اب رہی پچاس ہزار سال کی تعبیر تو وہ اس لحاظ سے ہے کہ زیر بحث دن دنیا کے سالوں کے حساب سے اتنا لاطونی ہوگا اور یہ بات اس چیز سے کہ جو سُورہ سجدہ کی آیہ 15 میں سے ہے کہ اس کی مقدار ایک ہزار سال ہے، اختلاف نہیں رکھتی، کیونک ــــ جیسا کہ ورایات میں وارد ہوا ہے  ـــــــ قیامت میں پچاس موقف ہوں گے اور ہر موقف ایک ہزار سال کی مقدار کے برابر ہوگا۔ ؎ 3 
        بعض نے یہ احتمال بھی دیا ہےکہ "پچاس ہزار سال" کا عدد تکثیر کے لیے ہے، نہ کہ تعداد کے لیے، یعنی وہ دن بہت طولانی ہوگا بہرحال  یہ مجرموں ، ظالموں اور کافروں کے لیے ہوگا، اسی لیے ایک حدیث میں "ابو سعید خدری" سے آیا ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد کسی نے عرض کی اے اللہ کے رسولؐ ! وہ دین کتنا طولانی ہوگا ؟۔ آپؐ نے فرمایا:
        والذین نفس محمد بیدہ انہ لیخف علی المئومن حتی یکون اخف علیہ من صلاۃ مکتوبۃ یصلیھا فی الدنیا
          "اس ذات کی قسم جس کی قبضہ قدرت میں محمدؐ کی جان ہے وہ دن مومن کے لیے بہت ہلکا اور آسان ہوگا، یہاں تک کہ وہ ایک واجب نماز سے بھی آسان ہوگا، جو وہ دنیا میں پڑھا کرتا تھا"۔ ؎ 4    
              
           بعد والی آیت میں پیغمبر اکرمؐ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے: "صبر جمیل اختیار کر اور ان کے استہزاء ، تکزیب اور آزاد کے مقابلہ میں صبر سے کام لے (فاصبرًاجمیلاً)"۔
       ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ؎ 1     "فرشتوں کے عروج " کی اور بھی تفسیر بیان کی گئی ہیں جن میں سے کوئی بھی مناسب نظر نہیں آتی ۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ اس سے مراد فرشتوں کے نزول صعود کا زمانہ ہے جو آغاز دنیا سے لےکر اس کے اختتام تک ہے اور وہ مجموعی طور پر پچاس ہزار سال ہے، جو دنیا کی تمام عمر ہے  لیکن بعد والی آیات اچھی طرح بتاتی ہیں کہ گفتگو قیامت کے دن کے بارے میں ہے نہ کے دنیا کے متعلق (غور کیجئے)۔
  ؎ 2     تفسیر نمونہ جلد 12 ص 250 تا 253 کی طرف رجوع کریں۔
  ؎ 3     ہی حدیث املی شیخ میں امیر المومین علیؑ سے نقل ہوئی ہے ، بمطابق نقل ہوئی نورالثقلین جلد 5 ص 413
  ؎ 4     "مجمع البیان" جلد 10 ص 353 ، اور "قرطبی" جلد 10 ص 61 تا 67

                  "صبر جمیل" کا معنی خوبصورت اور قابلِ توجہ صبروشکیبائی ہے اور وہ وہی صبرواستقامت ہے جس میں دوام و استمرار ہو ، جس میں یاس و ناامیدی نہ ہو، اور وہ بےتابی ، جزع وفزع و شکوہ اور آہ نل سے تو ام نہ ہو، اس صورت کےعلاوہ وہ جمیل نہیں ہے۔ ؎1  
                                                                         ـــــــــــــــــــــــــــــ
اس کے بعد مزید کہتا ہے : "کیونکہ وہ اس قسم کے دن کو بعید اور دور سمجھتے ہیں"(التھم یروتہ بعیدًا)۔
                                                                          ــــــــــــــــــــــــــ
                  اور ہم اسے قریب اور نزدیک سمجھتے ہیں (وتراہ قریباً)۔
                           وہ بالکل باورہی نہیں کرتے کہ اس قسم کا دن بھی ہوگا جس میں تمام مخلوق کا حساب لیا جائے گا اور ان کی چھوٹی سے چھوٹی گفتار و رفتار کا بھی محاسبہ ہوگا۔ وہ بھی ایسے دن میں جو پچاس ہزار سال لاطونی ہوگا لیکن حقیقت میں ایسے لوگوں نے خدا کو پہچانا نہیں اور وہ اس کی قدرت میں شک اور ترود رکھتے ہیں۔
                             وہ یہ کہتے ہیں : کیا یہ ممکن ہے کہ بوسیدہ ہڈیاں اور وہ مٹی جس کا ہر ذرہ مختلف گوشوں میں پراگندہ ہو جائے گا، دوبارہ جمع ہوکر زندگی کا لباس زیب تن کرلیں گی -(جیسا کہ قرآن نے اپنی آیات میں یہ تعبیریں ان سے نقل کی ہیں)۔ اس کے علاوہ کیا پچاس ہزار سال کا دن ممکن ہے ؟ ! ۔
                قابل توجہ بات یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کا علم یہ کہتا ہے کہ آسمانی کرات میں ، دن کی مقدار ہر کُرہ کی دوسری کُرہ سے مختلف ہے، کینکہ وہ اس زمانہ کی مقدار کی تابع ہوتی ہے ، جس میں وہ کُرہ اپنے محور کے گرد چکر لگاتا ہے، اس لیے چاند کے کُرہ کا دن زمین کے دو ہفتوں کے برابر ہے، یہان تک کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ ممکن ہے کہ زمین زمانہ کے گزرنے کے ساتھ اپنی وضعی حرکت کی سرعت اور تیزی میں کمی کردے اور اس کے ایک دن کی مقدار ایک ماہ یا ایک سال یا کئی سوسال کے برابر ہوجائے۔
                ہم یہ نہیں کہتے کہ قیامت کا دن اس طرح ہوگا ، بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ پچاس ہزار سال کے بعد دن، اس دنیا کے اندازوں کے ساتھ بھی کوئی عجیب و غریب چیز نہیں ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 ؎ 1       "صبر جمیل" کے سلسلہ میں ہم نے تفسیر نمونہ (جلد 5) میں یعقوب و یوسف کی داستان میں تفصیل سے بیان کیا ہے.