بہانہ تراشوں کے بیہودہ اعتراضات
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ سَأَلَ سَائِلٌ بِعَذَابٍ وَاقِعٍ ۱لِلْكَافِرِينَ لَيْسَ لَهُ دَافِعٌ ۲مِنَ اللَّهِ ذِي الْمَعَارِجِ ۳
ایک مانگنے والے نے واقع ہونے والے عذاب کا سوال کیا. جس کا کافروں کے حق میں کوئی دفع کرنے والا نہیں ہے. یہ بلندیوں والے خدا کی طرف سے ہے.
ایک نکتہ
بہانہ تراشوں کے بے ہودہ اعتراضات
عام طور پر وہ موارد، جن میں آیات و روایات ، امیرالمومنین علیؑ کےمخصوص فضائل کی طرف اشارہ کرتی ہیں، ان میں بعض لوگ اتنا اصرار کرتے ہیں کہ جہاں تک ہو سکے مطلب کو اہمیت نہ دی جائے، یا تو اسے نظرانداز کردیا جائےیااس کی کوئی انحرافی توجیہ کر دی جائے اور ایک خاص وسوے اور باریکی کے کے ساتھ مسئلہ کو بیان کیا جائے ، حالانکہ اگر یہ فضائل دوسرے لوگوں کے ہوتے تو دریادلی اور سہولت کے ساتھ انھیں قبول کرتے۔
اس بات کا زندہ ثبوت اور واضح نمونہ وہ سات اعتراضات یہں جو "ابن تیمیہ" نے "کتاب منہاج السنہ" میں ان احادیث کے بارے کیے ہیں جو اوپر والی آیات کے شان نزول میں آئی ہیں، جنھیں ہم اختصار کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔
1- عزیر کا واقعہ،پیغمبر کے حجۃالوداع سے لوٹنے کے بعد یعنی سن دس ہجری میں واقع ہوا جبکہ سُورۃ مکی سورتوں سے ہے جو ہجرت سے پہلے نازل ہوئی ہیں ۔
جواب: جیسا کہ ہم پہلے بھی اشارہ کر چکے ہیں بہت سے سُورے ایسے ہیں جو مکی کے نام سے موسوم ہیں جبکہ ان کی بعض آیات مفسرین کی تصریحکے مطابق مدینہ میں نازل ہوئی ہیں اور اس برعکس کچھ سُورتیں ایسی ہیں جو مدنی کے نام سے موسوم ہیں۔ لیکن ان کی بعض آیات مکہ میں نازل ہوئی ہیں۔
2- اس حدیث میآں آیا ہے کہ "حارث بن نعمان" پیغمبر کی خدمت میں "ابطح" میں پہنچا اور ہم جانتےہیں کہ "ابطح"
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎1 تفسیِرنمونہ جلد 6 ص 202 تا 210 کی طرف رجوع کریں۔
مکہ میں ایک درہ ہے اور یہ امر واقعہ غدیر کےبعد آیت کے نزول کے ساتھ سازگار نہیں ہے۔
جؤاب:- اوؔلاً: "ابطح" کی تعبیر صرف بعض روایات میں ہے نہ کہ سب میں، ثانیاً: "ابطح" یا "بطحاء" ہر اس ریگزار زمین کے معنی میں ہے جس میں سیلاب کا پانی بہتا ہو اور اتفاقاً مدینہ کی سرزمین میں ایسے علاقے ماجود ہیں جنھیں "ابطح" یا "بطحاء" کہا جاتا ہے اور اشعار عرب اور ورایات میں ان کی طرف بہت زیادہ اشارہ ہوا ہے۔
3- آیہ (واذقالواللھم ان کان ھذا ھوالحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السماء) (انفال ـــ32) مسلمہ طور پر جنگ بدر کے بعد نازل ہوئی اور یہ واقعہ غدیر سے کئی سال پہلے ہے۔
جواب: کسی نے یہ نہیں کہا ہے کہ مزکورہ آیت کا شان نزول واقعہ غدیر ہے، بلکہ بحث آیہ (سال سائل بعذاب واقع) کے بارے میں ہے۔
لیکن سورہ انفال کی آیہ 32 ایک ایسی چیز ہے جس حارث بن نعمان نے اپنے کلام میں استفادہ کیا ہے اور اس بات کا شانِ نزول کے ساتھ کوئی ربط نہیں ہے، لیکن افراطی تعصبات کے سبب سے، انسان ایسے واضح مطلب سے غافل ہوجاتا ہے۔
4- قرآن مجید کہتا ہے: (وما کان اللہ لیعذبھم وانت فیھم وما کان اللہ معذبھم و ھم یستغفرون)۔ خدا انھیں سزان نہیں کرے گا جبکہ تم ان میں موجود ہو اورخدا انھیں عزاب نیہں کرے گا ۔ درآنحالیکہ دہ استغفار کرتے ہیں۔ (انفال ــــ 33)۔ یہ آیت کہتی ہےکہ : پیغمبر کی موجودگی میں ہرگز کوئی عزاب نازل نہیں ہوگا۔
جواب: وہ ب ات قابل قبول ہے، یہ ہے کہ پیغمبر کے ہوتے ہوئے عمومی اور سب لوگوں کے لیے عزاب نہیں تھا۔ لیکن خصوصی اور شخصی عزاب باہا بعض لوگوں پر نازل ہوئے، جیسا کہ تاریخ اسلام گواہ ہے کہ کئی افراد مثلاً "ابوزمعہ" و "مالک بن طلالہ" و "حکم بن ابی العاص"وغیرہ پیغمبر کی نفرین سے یا اس کے بغیر عزاب میں گرفتار ہوئے۔
ملادہ ازیں اوپر والی آیات کی اور تفاسیر بھی ہیں ، جن کے مطابق اس مقام پر اس آیت سئ استدلال ممکن نہیں (تفسیر نمونہ جلد 7 ص 154 میں آیہ 133 انفال کے ذیل میں رجوع کیا جائے)۔
5- اگر اس قسم کا شان نزول صحیح ہوتا تو اصحاب فیل کی طرح مشہور ہوتا۔
جواب:- یہ شان نزول بقدر کافی مشہور و معروف ہے اور ہم اوپر اشارہ کرچکے ہیں کہ یہ کم ازکم تیس کتب تفسیر و حدیث میں آیا ہے اور تعجب کی بات یہ ہے کہ ہم یہ توقع رکھیں کہ ایک شخصی واقعہ ، اصحاب فیل جیسے عمومی واقع کی طرح مشہور ہو، کیونکہ وہ داستان ایک عمومی پہلو رکھتی تھی سارا مکہ اس کی لپیٹ میں تھا اور ایک بہت بڑا لشکر اس کے اندر نابود ہوا تھا۔ لیکن "حارث بن نعمان" کا واقعہ صرف ایک ہی شخص کے ساتھ مربوط تھا۔
6- اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ "حارث بن نعمان" کو صبانی اسلام قبول تھے، تو کسی مسلمان کا عصر پیغمبر میں ، اس قسم عزاب میں گرفتار ہوجانا کیسے ممکن ہوسکتا ہے۔
جواب:- یہ اعتراض بھی شدید تعصب کی پیداوار ہے کیونکہ اوپر والی احادیث اچھی طرح سے بتاتی ہیں کہ وہ نہ صرف پیغمبرؐ کے ارشاد کو قبول نہیں کرتا تھا بلکہ خدا پر بھی معترض تھا کہ اس نے اس قسم کا حکم علیؑ کے بارے میں کیوں دیا، اور یہ کفروارتداد کا شدید ترین مرتبہ شمار ہوتا ہے۔
7- "استیعاب" جیسی مشہور کتاب، جن میں "صحابہ" کئ نام آئے ہیں "حارث بن ںعمان" کا نام نہیں ہے۔
جواب:- اس کتاب میں یا اسی جیسی دوسری کتابوں میں صحابہ کے جتنے نام آئے ہیں وہ صحابہ کے صرف ایک حصہ کی تعداد کو ظاہر کر رہے ہیں۔ مثلاً کتاب "اسداالغایہ" میں جو ایک اہم ترین کتاب ہے جس نے اصحاب پیغمبرؐ کو شمار کیا ہے صرف سات ہزار پانچ سو چون(7554) افراد کے نام آئے ہیں- حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ صرف حجتہ الوداع میں ایک لاکھ یا اس سے بھی زیادہ افراد بارگاہ پیغمبر میں حاضر تھے۔ اس بناء پراس میں کوئی شک نہیں ہے کہ بہت سے اصحاب پیغمبر کے نام ان کتب میں نہیں آئے۔ ؎1
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎1 اوپر والے جوابات کے سلسلے میں ، اور ہر ایک کے تاریخی یا روایتی شواہد کے بارے میں کتاب نفیس "الغدیر" کی جلد1 ص 247 تا 266 کا مطالعہ فرمائیں۔