فوری عذاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ سَأَلَ سَائِلٌ بِعَذَابٍ وَاقِعٍ ۱لِلْكَافِرِينَ لَيْسَ لَهُ دَافِعٌ ۲مِنَ اللَّهِ ذِي الْمَعَارِجِ ۳
ایک مانگنے والے نے واقع ہونے والے عذاب کا سوال کیا. جس کا کافروں کے حق میں کوئی دفع کرنے والا نہیں ہے. یہ بلندیوں والے خدا کی طرف سے ہے.
البتہ بعض مفسرین و محدثین جو علی کے فضائل کو خوشی سے قبول نہیں کرتے، انھوں نے اس شان نزول پر اعتراضات کیے ہیں جن کی طرف انشاءاللہ بحث کے آخر میں اشارہ ہوگا۔
تفسیر
فوری عزاب
سورہ معارج یہاں سے شروع ہوتی ہے: "ایک سوال کرنے والے نے عزاب کا تقاضا کیا جو واقع ہوگیا(سال سائل بعذاب واقع)"۔
یہ سوال کرنے والا جیسا کہ ہم نے شان نزول میں بیان کیا ہے "نعمانبن حارث" یا "نضربن حارث" جو علی کے "عزیر خم" کے مقام پر خلافت و ولایت پر منصوب ہونے ، اور اس خبر کے تمام شہروں میں منتشر ہونے پر بہت غصہ میں بھرا ہوا تھا، پیغمبرؐ کی خدمت میں آیا اور کہا: کیا یہ بات آپ نے اپنی طرف سے کہی ہے ؟ پیغمبرؐ نے صراحت کے ساتھ فرمایا: یہ بات خدا کی طرف سے ہے تو وہ اس سے اور بھی زیادہ پریشان ہو گیا اور اس نے کہا: خداوندا! اگر یہ بات حق ہے اور تیری طرف سے ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر نازل فرما ، اسی وقت ایک پتھر گرا اور اس کے سر پر لگا اور اسے مار ڈالا۔ ؎1
اس تفسیر کے مقابلہ میں ایک اور تفسیر بھی ہے۔ اس تفسیر کے مطابق مراد یہ ہے کہ کسی شخص نے پیغمبرؐ سے سوال کیا کہ یہ عزاب جو آپ کہتے ہیں کس پر واقع ہوگا تو بعد والی آیت جواب دیتی ہے کہ کافروں کے لیے ہوگا۔
اور تیسری تفسیر کے مطابق یہ سوال کرنے والے خود پیغمبر ہیں جنھوں نے کفار کے لیے عزاب کا تقاضا کیا اور وہ نازل ہوا۔
لیکن پہلی تفسیر، علاوہ اس کے کہ خود آیت کے ساتھ سازگار ہے، ان متعدد روایات پر منطبق بھی ہے جو شان نزول میں وارد ہوئی ہیں۔
اس کے بعد مزید کہتا ہے: "یہ عزاب کافروں کے لیے مخصوص ہے اور کوئی بھی اسے نہیں روک سکتا"(للکافرین لیس لہ دافع)- ؎2
بعد والی آیت میں اس ذات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جس کی طرف سے یہ عزاب ہے، کہتا ہے: "یہ عزاب اس خدا کی طرف
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎1 اس تفسیر کے مطابق "بعذاب واقع" میں "باء" زائد اور تاکید کے لیے ہے اور بعض کے نظریہ کے مطابق "عن" کے کے معنی میں ہے اور دوسری تفسیر کے مطابق ہے (اس پر توجہ رہے کہ اگر سوال، تقاضا اور درخواست کے معنی میں ہو تو پھر دو مفعولوں کی طرف معتدی ہگا اور اگر "استخبار" کے معنی میں ہو تو پھر اس کا دوسرا مفعول یقیناً "ؑن" کے ساتھ ہوگا)
؎2 "واقع"عزاب کی صفت ہے اور"للکافرین" دگسری صفت ہے اور "لیس لہ دفع" تیسری صفت۔ یہ احتمال بھی دیاگیاہے کہ"للکافرین""عزاب" سے متعلق ہو اور اگر"لام""علی" کے معنی میں ہو تو پھر "واقع" سے متعلق ہوگا۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سے ہے، جو ان آسمانوں کا مالک ہے جم کیظرف فرشتے صعود کرتے ہیں (من اللہ ذی المعارج)-
"معارج""معرج" کی جمع ہے، جو سیڑھی یا اس جگہ کے معنی میں ہے جہاں سے صعود کرتے اور اوپر جاتے ہیں اور چونکہ خدا نے فرشتوں کے لیے مختلف مقامات قرار دیئے ہیں کہ وہ مراتب کے لحاظ سے قرب خدا کی طرف پیش رفت کرتے ہیں، لہزا خدا کی "ذی المعارج" کے ساتھ توصیف کی گئی ہے۔
ہاں فرشتے ہی کافروں اور مجرموں کے عزاب پر مامور ہوتے ہیں اور وہ بھی فرشتے ہی تھے جو ابراہیم خلیل پر نازل ہوئے تھے اور انھیں یہ خبر دی تھی کہ ہم قوم لوط کی بربادی پر مامور ہوئے ہیں اور صبح کے وقت انھوں نے اس آلودہ جرائم قوم کے شہروں کو تہ و بالا کردیا ؎1 وہی فرشتے دوسرے مجرموں پر عزاب نازل کرنے کا فریضہ بھی انجام دیتے ہیں۔
بعض مفسرین نے "معارج" کی فضائل و مواہب الہیہ کے معنی میں اور بعض نے "فرشتوں" کے بارے میں تفسیر کی ہے لیکن پہلا معنی زیادہ مناسب اور اس لفظ کے لغوی معنی کے ساتھ زیادہ سازگار ہے،