٢۔ موجودہ زمانے میں یہودیوں کی سازشیں
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۖ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ۱هُوَ الَّذِي أَخْرَجَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ مِنْ دِيَارِهِمْ لِأَوَّلِ الْحَشْرِ ۚ مَا ظَنَنْتُمْ أَنْ يَخْرُجُوا ۖ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ مَانِعَتُهُمْ حُصُونُهُمْ مِنَ اللَّهِ فَأَتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوا ۖ وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ ۚ يُخْرِبُونَ بُيُوتَهُمْ بِأَيْدِيهِمْ وَأَيْدِي الْمُؤْمِنِينَ فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ ۲وَلَوْلَا أَنْ كَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الْجَلَاءَ لَعَذَّبَهُمْ فِي الدُّنْيَا ۖ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابُ النَّارِ ۳ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ شَاقُّوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ ۖ وَمَنْ يُشَاقِّ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ ۴مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَىٰ أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللَّهِ وَلِيُخْزِيَ الْفَاسِقِينَ ۵
اللہ ہی کے لئے محہُ تسبیح ہے جو کچھ بھی زمین و آسمان میں ہے اور وہی صاحب هعزت اور صاحب هحکمت ہے. وہی وہ ہے جس نے اہل کتاب کے کافروں کو پہلے ہی حشر میں ان کے وطن سے نکال باہر کیا تم تو اس کا تصور بھی نہیں کررہے تھے کہ یہ نکل سکیں گے اور ان کا بھی یہی خیال تھا کہ ان کے قلعے انہیں خدا سے بچالیں گے لیکن خدا ایسے رخ سے پیش آیا جس کا انہیں وہم و گمان بھی نہیں تھا اور ان کے دلوں میں رعب پیدا کردیا کہ وہ اپنے گھروں کو خود اپنے ہاتھوں سے اور صاحبان هایمان کے ہاتھوں سے اجاڑنے لگے تو صاحبانِ نظر عبرت حاصل کرو. اور اگر خدا نے ان کے حق میں جلاوطنی نہ لکھ دی ہوتی تو ان پر دنیا ہی میں عذاب نازل کردیتا اور آخرت میں تو جہنّم کا عذاب طے ہی ہے. یہ اس لئے کہ انہوں نے اللہ اور رسول سے اختلاف کیا اور جو خدا سے اختلاف کرے اس کے حق میں خدا سخت عذاب کرنے والا ہے. مسلمانو تم نے جو بھی کھجور کی شاخ کاٹی ہے یا اسے اس کی جڑوں پر رہنے دیا ہے یہ سب خدا کی اجازت سے ہوا ہے اور اس لئے تاکہ خدا فاسقین کو فِسوا کرے.
تاریخِ اسلام اپنے آغاز ہی سے یہودیوں کی سازشوں سے بھری پڑی ہے ۔ اور ہم بہت سے دردناک حوادث میں میدان کے اندر یاپس منظر میں ان کا مشاہدہ کرتے ہیں ۔تعجب کی بات ہے کہ پیغمبرموعود کے عشق ومحبت میں سرزمین ِ حجاز میں آئے تھے لیکن ان کے عظیم ظہور کے بعد بد ترین دشمن ہوگئے اورموجودہ زمانے میں بھی اسلام کے خلاف ہونے والی سازشوں میں ہم یہودیوں کومنظر یاپس منظر میں دیکھتے ہیں اوریہ صاحبان ِ بصیرت کے لیے سامانِ عبرت ہے ۔
جیساکہ کہ پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی تاریخ بتاتی ہے ،یہودیوں کوپسپاکرنے کاواحد راستہ ان سے براہ ِ راست مقابلہ کرناہے ، خصوصاًصیہونیت جس کی لغت میں عدل وانصاف اورنرمی کاکوئی لفظ ہی نہیں ہے ، طاقت ان کی زبان ہے ، سوائے قوّت وطاقت کے ان سے بات نہیں کی جاسکتی لیکن اس کے باوجود وہ سچّے مومنین سے بہت ڈرتے ہیں ۔ اگر موجودہ زمانے کے مسلمان اصحاب ِ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی طرح ایمان واستقامت سے کافی حد تک بہرہ ور ہوں توان کاخوف خوار دشمنوں پر آجائے اوراسی لشکر خدا ئی کے ذریعہ یہودیوں کومقبوضہ علاقوں سے باہر نکالا جاسکتا ہے ۔ یہ ایسا درس ہے جورسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے ہمیں چودہ سو سال پہلے دیاتھا ۔