خدا کے غیرئی لشکر
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۖ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ۱هُوَ الَّذِي أَخْرَجَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ مِنْ دِيَارِهِمْ لِأَوَّلِ الْحَشْرِ ۚ مَا ظَنَنْتُمْ أَنْ يَخْرُجُوا ۖ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ مَانِعَتُهُمْ حُصُونُهُمْ مِنَ اللَّهِ فَأَتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوا ۖ وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ ۚ يُخْرِبُونَ بُيُوتَهُمْ بِأَيْدِيهِمْ وَأَيْدِي الْمُؤْمِنِينَ فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ ۲وَلَوْلَا أَنْ كَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الْجَلَاءَ لَعَذَّبَهُمْ فِي الدُّنْيَا ۖ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابُ النَّارِ ۳ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ شَاقُّوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ ۖ وَمَنْ يُشَاقِّ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ ۴مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَىٰ أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللَّهِ وَلِيُخْزِيَ الْفَاسِقِينَ ۵
اللہ ہی کے لئے محہُ تسبیح ہے جو کچھ بھی زمین و آسمان میں ہے اور وہی صاحب هعزت اور صاحب هحکمت ہے. وہی وہ ہے جس نے اہل کتاب کے کافروں کو پہلے ہی حشر میں ان کے وطن سے نکال باہر کیا تم تو اس کا تصور بھی نہیں کررہے تھے کہ یہ نکل سکیں گے اور ان کا بھی یہی خیال تھا کہ ان کے قلعے انہیں خدا سے بچالیں گے لیکن خدا ایسے رخ سے پیش آیا جس کا انہیں وہم و گمان بھی نہیں تھا اور ان کے دلوں میں رعب پیدا کردیا کہ وہ اپنے گھروں کو خود اپنے ہاتھوں سے اور صاحبان هایمان کے ہاتھوں سے اجاڑنے لگے تو صاحبانِ نظر عبرت حاصل کرو. اور اگر خدا نے ان کے حق میں جلاوطنی نہ لکھ دی ہوتی تو ان پر دنیا ہی میں عذاب نازل کردیتا اور آخرت میں تو جہنّم کا عذاب طے ہی ہے. یہ اس لئے کہ انہوں نے اللہ اور رسول سے اختلاف کیا اور جو خدا سے اختلاف کرے اس کے حق میں خدا سخت عذاب کرنے والا ہے. مسلمانو تم نے جو بھی کھجور کی شاخ کاٹی ہے یا اسے اس کی جڑوں پر رہنے دیا ہے یہ سب خدا کی اجازت سے ہوا ہے اور اس لئے تاکہ خدا فاسقین کو فِسوا کرے.
اہل دُنیا کامیابی حاصل کرنے کے لیے اپنی ظاہری اورمادّقوّ توں پرانحصار کرتے ہیں لیکن خداپر ستوں کاانحصار خدائی مدد پرہوتاہے اس کاایک نمونہ ہم نے بنو نظیر کے شکست کھانے اور مدینہ سے باہر نکلنے کے سلسلہ میں مندرجہ بالاآ یتوں میں دیکھاہے ،ان آیتوں میں ہم نے پڑھاہے کہ کامیابی کاایک مؤثر سبب وہی خوف تھاجوخدانے یہودیوں کے دلوں میں ڈالا تھا یہاں تک کہ وہ اپنے گھروں کواپنے ہی ہاتھوں سے توڑ نے لگے اوراس بات پرآمادہ ہوگئے کہ اپنے اموال کونظر انداز کردیں اوراس علاقہ سے باہر نکل جائیں ، اِن معانی کی نظیر قرآنی آیات میں چند مرتبہ آئی ہے منجملہ دُوسرے مواقع کے ایک موقع پرجب کہ معلمان بنو قریظہ سے جنگ احزاب میں آ منے سامنے ہوئے تھا خدا وند ِ عالم فرماتاہے:
(وَ أَنْزَلَ الَّذینَ ظاہَرُوہُمْ مِنْ أَہْلِ الْکِتابِ مِنْ صَیاصیہِمْ وَ قَذَفَ فی قُلُوبِہِمُ الرُّعْبَ فَریقاً تَقْتُلُونَ وَ تَأْسِرُونَ فَریقاً) خدانے اہل کتاب میں سے ایک گروہ کوجس نے مشرکین عرب کی حمایت کی اس کے محکم قلعوں سے نیچے اُتار ا اوران کے دل میں خوف ڈال دیا ۔ یہاں تک کہ اِن میں سے ایک گروہ کوتم نے قتل کیا اورایک گروہ کواسیر کیا (احزاب ٢٦) ۔
یہی مفہوم جنگ ِ بدر کے واقعہ میں بھی موجود ہے جہاں کہاگیاہے (سالقی فی قلوب کفرو االرعب ) میں عنقریب کافروں کے دلوں میں رُعب ڈال دوں گا اسی رُعب کاایک حصّہ جوخداکے ایک غیرمرئی لشکر کاحکم رکھتاہے ،طبیعی ہے اگرچہ اس کاایک حصّہ پُراسرار ہے اوراس کے روابط عام وسائل کے ذریعہ ہم پرمنکشف نہیں ہیں ،جوچیز طبعی وفطری ہے کہ مومنین ہمیشہ ہرحالت میں اپنے آپ کو کامیاب سمجھیں چاہے قتل ہوکرشہید ہو جائیں اور چاہے دشمن کی سرکوبی کریں ۔ جس کی یہ منطق ہووہ خوف اور وحشت کواپنے دل میں جگہ دیتا بلکہ اس قسم کا عجیب انسان اپنے دشمن کے لیے باعث ِ خوف ووحشت ہوتاہے ۔جیساکہ دُنیا میں ہم بڑے بڑے ممالک کودیکھتے ہیں کہ باوجود جدید ترین ہتھیار رکھنے کے اور بہت عظیم ہونے کے سچّے مومنوں کے ایک چھوٹے گروہ سے ڈرتے ہیں اوران سے جنگ کرنا کے لیے خوف کاباعث ہوتاہے اوران کی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی ہے کہ ان سے نہ اُلجھیں ۔رسو ل ِ خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک حدیث ہمیں ملتی ہے ۔ اپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا:( نصرت بالرعب مسیرة شھر ) میری خداکی جانب سے ایک ماہ کے فاصلہ سے خوف ووحشت سے مدد کی گئی ہے (٩) ۔
یعنی نہ صرف وہ لوگ جومیدان ِ جنگ میں میرے سامنے ہوتے ہیں مجھ سے خوف کھاتے ہیں بلکہ جن علاقوں میں دشمن مجھ سے ایک ماہ سے فاصلے پرہوتے ہیں ان پر بھی وحشت واضطراب طاری رہتاہے ۔حضرت مہدی علیہ السلام کی فوج کے بارے میں بھی ہم پڑھتے ہیں کہ تین لشکر آپ کی مدد کریں گے ( الملائکة والمؤ منون والرعب) فرشتے مومن اورخوف (١٠) ۔
حقیقت میں وہ تو کوشش کرتے ہیں کہ انہیں باہر سے کوئی ضرب نہ لگے لیکن خداانہیں اندرسے لگاتاہے اورہم جانتے ہیں کہ اندرونی ضرب زیادہ جانکاہ اورناقابلِ تلافی ہوتی ہے اس لیے کہ اگر تمام دنیا کے ہتھیار اورلشکرکسی کے قبضہ میں ہوں لیکن اس میں جنگ کرنے کا جذبہ اورحوصلہ نہ ہو تُو اُسے ضرور شکست ہوگی ۔
٩۔مجمع البیان ،جلد ٦،صفحہ ٥١٩(آل عمران کی آ یت ١٥١ کے ذیل میں ) ۔
١٠۔ اثبات الہداة جلد ٧ ،صفحہ ١٢٤۔