٣۔ایمان،جہاد اورانفاق میں پیش قدمی کرنے والے
آمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَأَنْفِقُوا مِمَّا جَعَلَكُمْ مُسْتَخْلَفِينَ فِيهِ ۖ فَالَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَأَنْفَقُوا لَهُمْ أَجْرٌ كَبِيرٌ ۷وَمَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ ۙ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ لِتُؤْمِنُوا بِرَبِّكُمْ وَقَدْ أَخَذَ مِيثَاقَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ ۸هُوَ الَّذِي يُنَزِّلُ عَلَىٰ عَبْدِهِ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ لِيُخْرِجَكُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ ۚ وَإِنَّ اللَّهَ بِكُمْ لَرَءُوفٌ رَحِيمٌ ۹وَمَا لَكُمْ أَلَّا تُنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلِلَّهِ مِيرَاثُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ لَا يَسْتَوِي مِنْكُمْ مَنْ أَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ ۚ أُولَٰئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةً مِنَ الَّذِينَ أَنْفَقُوا مِنْ بَعْدُ وَقَاتَلُوا ۚ وَكُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَىٰ ۚ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ ۱۰مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ وَلَهُ أَجْرٌ كَرِيمٌ ۱۱
تم لوگ اللہ و رسول پر ایمان لے آؤ اور اس مال میں سے خرچ کرو جس میں اس نے تمہیں اپنا نائب قرار دیا ہے - تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے راسِ خدا میں خرچ کیا ان کے لئے اجر عظیم ہے. اور تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم خدا پر ایمان نہیں لاتے ہو جب کہ رسو ل تمہیں دعوت دے رہا ہے کہ اپنے پروردگار پر ایمان لے آؤ اور خدا تم سے اس بات کا عہد بھی شلے چکا ہے اگر تم اعتبار کرنے والے ہو. وہی وہ ہے جو اپنے بندے پر کھلی ہوئی نشانیاں نازل کرتا ہے تاکہ تمہیں تاریکیوں سے نور کی طرف نکال کرلے آئے اور اللہ تمہارے حال پر یقینا مہربان و رحم کرنے والا ہے. اور تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم راہ هخدا میں خرچ نہیں کرتے ہو جب کہ آسمان و زمین کی وراثت اسی کے لئے ہے اور تم میں سے فتح سے پہلے انفاق کرنے والا اور جہاد کرنے والا اس کے جیسا نہیں ہوسکتا ہے جو فتح کے بعد انفاق اور جہاد کرے - پہلے جہاد کرنے والے کا درجہ بہت بلند ہے اگرچہ خدا نے سب سے نیکی کا وعدہ کیا ہے اور وہ تمہارے جملہ اعمال سے باخبر ہے. کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے کہ وہ اس کو دوگنا کردے اور اس کے لئے باعزّت اجر بھی ہو.
اِس میں شک نہیں کہ جوایمان اوراعمال ِخیر میں دوسروں سے مقدم ہوتے ہیں ان میں شجاعت بھی ہوتی ہے اورانہیں زیادہ آگاہی بھی حاصل ہے اور ان میں جذبۂ ایثار وقربانی بھی زیادہ ہوتاہے ۔اس بناپر وہ سب درگاہِ خدامیں برابر نہیں ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ مذ کورہ بالاآ یات میں اس مسئلہ پرانحصار کیاگیاتھا کہ وہ لوگ جنہوں نے (فتح مکّہ یافتح حدیبیہ )سے پہلے یامطلق فتوحاتِ اِسلام میں انفاق کیاہے اورجہاد کیاہے ،بارگا ہِ خدامیںدوسرے ان کے برابرنہیں ہیں۔ ایک حدیث میں ابوسعید خدری سے منقول ہے وہ کہتے ہیں کہ حدیبیہ کے سال ( چھ ہجری )ہم رسول ِ خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے ،جس وقت ہم عسفان (مکّے کے قریب ایک جگہ ہے )پہنچے تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا:
ہوسکتاہے کہ عنقریب ایسی قوم آئے جو اپنے اعمال کاتمہارے اعمال سے موازنہ کرتے ہوئے تمہیں چھوٹا تصوّر کرے ۔
ہم نے کہا وہ کون ہیں؟اے خدا کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! کیا اس سے مراد قریش ہیں؟ فرمایا:
نہیں ،وہ اہل یمن ہیں جن کے دل تم سے زیادہ رقیق اورنرم ہیں( اوران کے اعمال تم سے زیادہ ہیں) ۔
ہم نے عرض کیاکہ کیا وہ ہم سے بہترہیں ۔فرمایا:
اگران میں سے کسی ایک کے پاس سونے پہاڑ ہواوروہ اس کاراہِ خدامیں انفاق کرے توایک مدّ(1) یااس سے نصف جوتم خرچ کرتے ہووہ اس کے برابر بھی نہیںہے ۔ جان لوکہ یہ فرق ہے ہمارے اور دوسرے لوگوں کے درمیان اورخدا کایہ ارشاد اس کاشاہد ہے کہ (لایستوی منکم من انفق من قبل الفتح و قاتل ...(2) ۔
یہ نکتہ بھی قابل ِ توجہ ہے کہ پروردگار ِ کوقرض دینے سے مراد اس کی راہ میں ہرقسم کاانفاق ہے جس کاایک اہم مصداق پیغمبراِسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اورامام المسلمین کی مدد کرنا ہے تاکہ وہ حکومت ِاسلامی کے قیام وانصرافی کے سلسلہ میں اسے ضروری مصارف میں خرچ کرے ۔اسی لیے کافی کی ایک حدیث میں امام جعفرصادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا :
(ان اللہ لم یسئل خلقہ ممافی ایدیھم قرضاً من حاجة بہ الیٰ ذالک و ماکان للہ من حق فانما ھو لولیہ ) ۔ خدانے اپنے بندوں سے کسِی احتیاج کی بناپرقرض کامطالبہ نہیں کیا،جو خداکے حقوق ہیںوہ اس کے ولی اورنمائندہ کے لیے ہیں (۳) ۔
ایک اورحدیث میں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے :
(من ذاالذی یقرض اللہ ... ) کے ذیل میں مروی ہے کہ ( نزلت فی صلة الامام ) یہ آ یت امام کو ہدیہ دینے کے بارے میں نازل ہوئی ہے (۴) ۔
۱۔ظاہر ا مراد ایک مد طعام ہے جوکلو سے بہت کم ہے ۔
۲۔درالمنثور ،جلد ٦،صفحہ ١٧٢۔
۳۔تفسیر صافی ،صفحہ ٥٢٢۔
۴۔تفسیر صافی ،صفحہ ٥٢٢۔