٢۔ راہ ِ خُدا میں انفاق کے شرائط
آمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَأَنْفِقُوا مِمَّا جَعَلَكُمْ مُسْتَخْلَفِينَ فِيهِ ۖ فَالَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَأَنْفَقُوا لَهُمْ أَجْرٌ كَبِيرٌ ۷وَمَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ ۙ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ لِتُؤْمِنُوا بِرَبِّكُمْ وَقَدْ أَخَذَ مِيثَاقَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ ۸هُوَ الَّذِي يُنَزِّلُ عَلَىٰ عَبْدِهِ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ لِيُخْرِجَكُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ ۚ وَإِنَّ اللَّهَ بِكُمْ لَرَءُوفٌ رَحِيمٌ ۹وَمَا لَكُمْ أَلَّا تُنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلِلَّهِ مِيرَاثُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ لَا يَسْتَوِي مِنْكُمْ مَنْ أَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ ۚ أُولَٰئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةً مِنَ الَّذِينَ أَنْفَقُوا مِنْ بَعْدُ وَقَاتَلُوا ۚ وَكُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَىٰ ۚ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ ۱۰مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ وَلَهُ أَجْرٌ كَرِيمٌ ۱۱
تم لوگ اللہ و رسول پر ایمان لے آؤ اور اس مال میں سے خرچ کرو جس میں اس نے تمہیں اپنا نائب قرار دیا ہے - تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے راسِ خدا میں خرچ کیا ان کے لئے اجر عظیم ہے. اور تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم خدا پر ایمان نہیں لاتے ہو جب کہ رسو ل تمہیں دعوت دے رہا ہے کہ اپنے پروردگار پر ایمان لے آؤ اور خدا تم سے اس بات کا عہد بھی شلے چکا ہے اگر تم اعتبار کرنے والے ہو. وہی وہ ہے جو اپنے بندے پر کھلی ہوئی نشانیاں نازل کرتا ہے تاکہ تمہیں تاریکیوں سے نور کی طرف نکال کرلے آئے اور اللہ تمہارے حال پر یقینا مہربان و رحم کرنے والا ہے. اور تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم راہ هخدا میں خرچ نہیں کرتے ہو جب کہ آسمان و زمین کی وراثت اسی کے لئے ہے اور تم میں سے فتح سے پہلے انفاق کرنے والا اور جہاد کرنے والا اس کے جیسا نہیں ہوسکتا ہے جو فتح کے بعد انفاق اور جہاد کرے - پہلے جہاد کرنے والے کا درجہ بہت بلند ہے اگرچہ خدا نے سب سے نیکی کا وعدہ کیا ہے اور وہ تمہارے جملہ اعمال سے باخبر ہے. کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے کہ وہ اس کو دوگنا کردے اور اس کے لئے باعزّت اجر بھی ہو.
مندرجہ بالا آ یت میں قرضاً حسناًکی تعبیر اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ قرض دینے کی بھی اقسام ہیں جن میں سے بعض کو قرض ِحسنہ(اچھاقرض)شمار کیاجاتاہے اوربعض کوایساقرض جس کی کوئی اخلاقی قدروقیمت نہ ہو ، قرآن مجید نے اس قرض کوحسنہ کی شرائط بعض آیات میں بیان کی ہیں جوخدا کودیاجائے اوربالفاظ دیگر جو ایسا انفاق ہے جس کی قدر کی جانی چاہیئے ۔
١۔مال کے بہترین حصّہ میں سے اس کاانتخاب ہونہ کہ کم حیثیت مال میں (یا أَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِنْ طَیِّباتِ ما کَسَبْتُمْ وَ مِمَّا أَخْرَجْنا لَکُمْ مِنَ الْأَرْضِ وَ لا تَیَمَّمُوا الْخَبیثَ مِنْہُ تُنْفِقُونَ وَ لَسْتُمْ بِآخِذیہِ ِلاَّ أَنْ تُغْمِضُوا فیہِ وَ اعْلَمُوا أَنَّ اللَّہَ غَنِیّ حَمید) اے ایمان لانے والو!پاکیزہ اموال میں سے ، جو تمہارے ہاتھ آ یاہے یاجسے ہم نیزمین میں سے تمہارے لیے نکالا ہے ، خرچ کرو اور ناپاک حصّوں کوخرچ کرنے کی طرف دھیان نہ دو جب کہ تم خود تیار نہیں ہو کہ انہیں قبول کرو مگر چشم پوشی کے طورپر اورجان لوکہ خدا بے نیاز ہے اورلائق ِ حمد وستائش ہے (بقرہ ۔ ٢٦٧) ۔
٢۔ ایسے اموال میں سے ہو جس کی انسان کوضرورت ہوجیساکہ فرماتاہے:(وَ یُؤْثِرُونَ عَلی أَنْفُسِہِمْ وَ لَوْ کانَ بِہِمْ خَصاصَة) وہ دوسروں کوخُود پرترجیح دیتے ہیں جب کہ وہ خُود شدّت کے ساتھ اس کے حاجت مند ہوں ( حشر۔ ٩) ۔
٣۔ایسے لوگوں پر انفاق کروجنہیں شدید ضرورت لاحق ہواوراولویت کو نظر میں رکھو(لِلْفُقَراء ِ الَّذینَ أُحْصِرُوا فی سَبیلِ اللَّہِ) تمہارا انفاق ایسے ضرورت مندوں کے ساتھ مخصوص ہوجوراہ ِ خدا میں محصور ہوگئے ہوں ( بقرہ ۔ ٢٧٣) ۔
٤۔انفاق اگرپوشیدہ طورپر ہوتوبہتر ہے ۔(وَ ِنْ تُخْفُوہا وَ تُؤْتُوہَا الْفُقَراء َ فَہُوَ خَیْر لَکُمْ ) اگر ضرورت مندوں کودو اور چھُپا کردو تو بہترہے ( بقرہ ۔ ٢٧١) ۔
٥۔کسِی طرح کا احسان جتانا اورآزارپہنچانا اس کے ساتھ نہ ہو ( یا أَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا لا تُبْطِلُوا صَدَقاتِکُمْ بِالْمَنِّ وَ الْأَذی) اے ایمان لانے والو صدقات کواحسان جتانے اورتکلیف پہنچانے سے باطل نہ کرو(بقرہ ۔٢٦٤) ۔
٦۔انفاق اخلاص اورحسن نیّت کے ساتھ کیاجائے ۔(یُنْفِقُونَ أَمْوالَہُمُ ابْتِغاء َ مَرْضاتِ اللَّہِ ) وہ لوگ جواپنا مال خوشنودی ٔ خدا کے لیے صرف کرتے ہیں (بقرہ ۔ ٢٦٥) ۔
٧۔ جوکچھ انفاق کرواسے چھوٹا اورکم اہم شمارکیا جائے خواہ وہ بظا ہربہت بڑا ہو (ولا تمنن تستکثر)(مدثر ۔ ٦ ) (1) ۔
٨۔ انفاق ایسے مال میں سے ہوجس سے اُسے دلی لگاؤ ، اور عشق ہو (لَنْ تَنالُوا الْبِرَّ حَتَّی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ) نیکی کی حقیقت کواس وقت تک نہیں یاسکو گے جب تک اس مال میں سے انفاق نہ کرو جسے عزیزرکھتے ہو ( آل عمران ۔ ٩٢) ۔
٩۔آدمی کوچاہیئے کہ اپنے کوکبھی مالک ِ حقیقی تصوّر نہ کرے بلکہ اپنے آپ کوخالق ومخلوق کے درمیان واسط سمجھے ۔(وَ أَنْفِقُوا مِمَّا جَعَلَکُمْ مُسْتَخْلَفینَ فیہِ )اس مال سے انفاق کرو جس میں خدانے تمہیں اپنانمائندہ قرار دیاہے (حدید۔ ٧) ۔
١٠۔اورہر چیز سے پہلے انفاق مال حلال میں سے ہونا چاہیئے کیونکہ خداصرف ایسے ہی انفاق کوپسند کرتاہے(لِنَّما یَتَقَبَّلُ اللَّہُ مِنَ الْمُتَّقین)(مائدہ ۔ ٢٧) ۔
ایک حدیث میں آ یاہے کہ پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)فرمایا: ( لا یقبل اللہ صدقة من غلول ) خدا اس انفاق کوکبھی قبول نہیں کرتاجس میں خیانت کادخل ہو (2) ۔
شرائط انفاق کے سلسلہ میں جوکچھ عرض کیاگیاہے وہ اس موضوع کانہایت اہم حصّہ ہے لیکن ان شرائط کویہیں تک محدود نہیں سمجھناچاہیئے ۔اگر آیاتِ کلام مجیداورروایات ِ اسلامی پرزیادہ تفکّر کیاجائے تواور بھی شرائط دستیاب ہوسکتے ہیں ۔ جوکچھ عرض کیاگیاہے ان میں سے بعض شرائط انفاق واجب شمار ہوتے ہیں (مثلاً احسان نہ جتانا،تکلیف نہ پہنچانا، ریاکاری سے اجتناب کرنا)بعض شرائط ِ کمال میں مثلاً خُود ضرورت مند ہونے کے باوجود دوسروں کواپنے اُوپرترجیح دینا، اس شرط کانہ ہونا انفاق کی قیمت کوکم نہیں کرتااگرچہ اس کواعلیٰ سطح پربھی قرار نہیں دیتا۔
جوکچھ کہاگیاہے اگرچہ انفاق کے موضوع پرتھالیکن ان میں سے بہت سی شرطیں عام قرضوں پربھی صادق آتی ہیں اوراصطلاکے مطابق قرضِ حسنہ کی شرائط لازم یاشرائط کمال میں سے ہیں، راہِ خدا میں انفاق کی اہمیّت کے بارے میں مبسوط تشریح سورہ بقر ہ کی آ یت ٢٦١سے لے کر ٢٦٧ تک کے ذیل میں ہم عرض کرچکے ہیں ۔(تفسیر نمونہ جلد ١) ۔
1۔اس آ یت کی کئی تفسیریں ہیں جن میں سے ایک وہی ہے جوہم نے اُوپر بیان کی ،مزید تشریح اِنشاء اللہ آپ سُورہ مدثر کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں لے ۔
2۔ان دس اوصاف کومرحوم طبرسی نے مجمع البیان میں اورفخرازی نے تفسیر کبیر میں اور آلوسی نے رُوح المعانی میں نقل کیاہے اور ہم نے مختصر سے تغیر اورتکمیل کے کے ساتھ اس کااُوپر ذکرکیاہے ۔