سوره حدید/ آیه 12- 15
يَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ يَسْعَىٰ نُورُهُمْ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ بُشْرَاكُمُ الْيَوْمَ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ۱۲يَوْمَ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالْمُنَافِقَاتُ لِلَّذِينَ آمَنُوا انْظُرُونَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُورِكُمْ قِيلَ ارْجِعُوا وَرَاءَكُمْ فَالْتَمِسُوا نُورًا فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُورٍ لَهُ بَابٌ بَاطِنُهُ فِيهِ الرَّحْمَةُ وَظَاهِرُهُ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُ ۱۳يُنَادُونَهُمْ أَلَمْ نَكُنْ مَعَكُمْ ۖ قَالُوا بَلَىٰ وَلَٰكِنَّكُمْ فَتَنْتُمْ أَنْفُسَكُمْ وَتَرَبَّصْتُمْ وَارْتَبْتُمْ وَغَرَّتْكُمُ الْأَمَانِيُّ حَتَّىٰ جَاءَ أَمْرُ اللَّهِ وَغَرَّكُمْ بِاللَّهِ الْغَرُورُ ۱۴فَالْيَوْمَ لَا يُؤْخَذُ مِنْكُمْ فِدْيَةٌ وَلَا مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا ۚ مَأْوَاكُمُ النَّارُ ۖ هِيَ مَوْلَاكُمْ ۖ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ ۱۵
اس دن تم باایمان مرد اور باایمان عورتوں کو دیکھو گے کہ ان کا نور هایمان ان کے آگے آگے اور داہنی طرف چل رہا ہے اور ان سے کہا جارہا ہے کہ آج تمہاری بشارت کا سامان وہ باغات ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں اور تم ہمیشہ ان ہی میں رہنے والے ہو اور یہی سب سے بڑی کامیابی ہے. اس دن منافق مرد اور منافق عورتیں صاحبان هایمان سے کہیں گے کہ ذرا ہماری طرف بھی نظر مرحمت کرو کہ ہم تمہارے نور سے استفادہ کریں تو ان سے کہا جائے گا کہ اپنے پیچھے کی طرف پلٹ جاؤ اور اپنے شیاطین سے نور کی التماس کرو اس کے بعد ان کے درمیان ایک دیوار حائل کردی جائے گی جس کے اندر کی طرف رحمت ہوگی اور باہر کی طرف عذاب ہوگا. اور منافقین ایمان والوں سے پکار کر کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں تھے تو وہ کہیں گے بیشک مگر تم نے اپنے کو بلاؤں میں مبتلا کردیا اور ہمارے لئے مصائب کے منتظر رہے اور تم نے رسالت میں شک کیا اور تمہیں تمناؤں نے دھوکہ میں ڈالے رکھا یہاں تک کہ حکم خدا آگیا اور تمہیں دھوکہ باز شیطان نے دھوکہ دیا ہے. تو آج نہ تم سے کوئی فدیہ لیا جائے گا اور نہ کفار سے تم سب کا ٹھکانا جہنمّ ہے وہی تم سب کا صاحب هاختیار ہے اور تمہارا بدترین انجام ہے.
١٢۔یَوْمَ تَرَی الْمُؤْمِنینَ وَ الْمُؤْمِناتِ یَسْعی نُورُہُمْ بَیْنَ أَیْدیہِمْ وَ بِأَیْمانِہِمْ بُشْراکُمُ الْیَوْمَ جَنَّات تَجْری مِنْ تَحْتِہَا الْأَنْہارُ خالِدینَ فیہا ذلِکَ ہُوَ الْفَوْزُ الْعَظیمُ۔
١٣۔یَوْمَ یَقُولُ الْمُنافِقُونَ وَ الْمُنافِقاتُ لِلَّذینَ آمَنُوا انْظُرُونا نَقْتَبِسْ مِنْ نُورِکُمْ قیلَ ارْجِعُوا وَراء َکُمْ فَالْتَمِسُوا نُوراً فَضُرِبَ بَیْنَہُمْ بِسُورٍ لَہُ باب باطِنُہُ فیہِ الرَّحْمَةُ وَ ظاہِرُہُ مِنْ قِبَلِہِ الْعَذابُ۔
١٤۔ یُنادُونَہُمْ أَ لَمْ نَکُنْ مَعَکُمْ قالُوا بَلی وَ لکِنَّکُمْ فَتَنْتُمْ أَنْفُسَکُمْ وَ تَرَبَّصْتُمْ وَ ارْتَبْتُمْ وَ غَرَّتْکُمُ الْأَمانِیُّ حَتَّی جاء َ أَمْرُ اللَّہِ وَ غَرَّکُمْ بِاللَّہِ الْغَرُورُ۔
١٥۔ فَالْیَوْمَ لا یُؤْخَذُ مِنْکُمْ فِدْیَة وَ لا مِنَ الَّذینَ کَفَرُوا مَأْواکُمُ النَّارُ ہِیَ مَوْلاکُمْ وَ بِئْسَ الْمَصی۔
ترجمہ
١٢۔یہ عظیم اَجر اس دن کاہے جب تو صاحبان ِ ایمان مردوں اورعورتوں کودیکھے گا کہ ان کا نُور ان کے سامنے اوران کے دائیںطرف تیزی سے چل رہا ہوگا( اور ان سے کہیںگے)آج تمہارے لیے بشارت ہوجنّت کے ایسے باغوں کی جن کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں۔وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے اوریہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے ۔
١٣۔وہ دن کہ جس میں منافق مرد اورعورتیں مومنین سے کہیں گے کہ ہماری طرف نظر کروتاکہ ہم تمہارے نُور سے روشنی حاصل کریں، تو ان سے کہاجائے گاکہ اپنے پیچھے کی طرف پلٹ جاؤاورکسب ِ نُور کرو، تواس وقت ان کے درمیان دیوار کھڑی کردی جائے گی جس میں دروازہ ہوگا ۔جس کے اندر رحمت اورباہر عذاب ہے ۔
١٤۔انہیںپُکارکرکہیں گے کہ کیاہم تمہارے ساتھ نہیں تھے؟ وہ کہیں گے ہاں لیکن تم نے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال دیااورپیغمبر کی موت کے منتظر رہے اورہرچیزمیں شک اورتردّد رکھتے تھے اورتمہیں تمہاری لمبی چھوڑی آرزو ؤں نے دھو کے میں رکھا،یہاں تک کہ خدا کافرمان آن پہنچا اور شیطان نے تمہیں خدا کے مقابلہ میں فریب دیا۔
١٥۔اس لیے آج تم سے اور کفّار سے کوئی تاوان قبول نہیں کیاجائے گا اور تمہارے رہنے کی جگہ آگ ہے ۔وہ تمہاری سرپرست ہے اورکیاہی بُری جگہ ہے ۔