١۔انفاق کے اسباب
آمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَأَنْفِقُوا مِمَّا جَعَلَكُمْ مُسْتَخْلَفِينَ فِيهِ ۖ فَالَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَأَنْفَقُوا لَهُمْ أَجْرٌ كَبِيرٌ ۷وَمَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ ۙ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ لِتُؤْمِنُوا بِرَبِّكُمْ وَقَدْ أَخَذَ مِيثَاقَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ ۸هُوَ الَّذِي يُنَزِّلُ عَلَىٰ عَبْدِهِ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ لِيُخْرِجَكُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ ۚ وَإِنَّ اللَّهَ بِكُمْ لَرَءُوفٌ رَحِيمٌ ۹وَمَا لَكُمْ أَلَّا تُنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلِلَّهِ مِيرَاثُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ لَا يَسْتَوِي مِنْكُمْ مَنْ أَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ ۚ أُولَٰئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةً مِنَ الَّذِينَ أَنْفَقُوا مِنْ بَعْدُ وَقَاتَلُوا ۚ وَكُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَىٰ ۚ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ ۱۰مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ وَلَهُ أَجْرٌ كَرِيمٌ ۱۱
تم لوگ اللہ و رسول پر ایمان لے آؤ اور اس مال میں سے خرچ کرو جس میں اس نے تمہیں اپنا نائب قرار دیا ہے - تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے راسِ خدا میں خرچ کیا ان کے لئے اجر عظیم ہے. اور تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم خدا پر ایمان نہیں لاتے ہو جب کہ رسو ل تمہیں دعوت دے رہا ہے کہ اپنے پروردگار پر ایمان لے آؤ اور خدا تم سے اس بات کا عہد بھی شلے چکا ہے اگر تم اعتبار کرنے والے ہو. وہی وہ ہے جو اپنے بندے پر کھلی ہوئی نشانیاں نازل کرتا ہے تاکہ تمہیں تاریکیوں سے نور کی طرف نکال کرلے آئے اور اللہ تمہارے حال پر یقینا مہربان و رحم کرنے والا ہے. اور تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم راہ هخدا میں خرچ نہیں کرتے ہو جب کہ آسمان و زمین کی وراثت اسی کے لئے ہے اور تم میں سے فتح سے پہلے انفاق کرنے والا اور جہاد کرنے والا اس کے جیسا نہیں ہوسکتا ہے جو فتح کے بعد انفاق اور جہاد کرے - پہلے جہاد کرنے والے کا درجہ بہت بلند ہے اگرچہ خدا نے سب سے نیکی کا وعدہ کیا ہے اور وہ تمہارے جملہ اعمال سے باخبر ہے. کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے کہ وہ اس کو دوگنا کردے اور اس کے لئے باعزّت اجر بھی ہو.
قابلِ توجہ بات یہ کہ گزشتہ آ یتوں میں انفاق کی تشویق کے لیے ، عام اس سے کہ جہاد کے سلسلہ میں مدد کی جائے یاحاجت مندوں کی ، ددسرے موضوعات کی تعبیر یں بھی نظر آتی ہیں جن میں سے ہرایک اس مقصد کے حصول کی طرف بڑھنے کاسبب بن سکتاہے ،ساتویں ا یت میں لوگوں کے ایک دوسرے کے جانشین بننے کے مسئلہ کی طرف اشارہ ہے یااُن ثروتوں کے سلسلہ میں خداکے جانشین ہونے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے ۔حقیقی مالکیت کوخداسے مخصوص کیاگیاہے اورتمام لوگوں کوامول کے سلسلہ میں خدا کا نمائندہ تصوّر کیاگیاہے ۔ یہ اندازِ فکر ممکن ہے کہ انسان کے ہاتھ اوردل کوانفاق کے معاملہ میں کُشادہ رکھے اوراس کام پر آمادہ ہونے کا سبب بنے دسویں ا یت میں ایک اورتعبیر آ ئی ہے جوسرمائے کی ناپائیداری اور تمام اِنسانوں کے فنا ہوجانے کے بعداس کی طرف اشارہ کرتی ہے اوروہ تعبیر میراث ہے ، پروردگار ِ عالم فرماتاہے :آسمانوں اورزمین کی میراث خداکے لیے ہے گیارہویں آ یت میں جوتعبیر ہے وہ سب سے زیادہ حسّاس اس میں خدا کوقرض لینے والا شمارکیا گیاہے اووہ ایساقرض ہے کہ جس میں سُود کادخل نہیں ہے اوریہ قرض کئی ہزارگنا کرکے واپس کیاجائے گا۔ وہ عظیم اجراس کے علاوہ ہے جس کاتصوّر بھی محال ہے ۔ یہ سب کچھ اس بناپرہے کہ حسنِ عمل سے انحراف رکھنے والے افکار ، حرص وحسد، خود خواہی یااورطویل خواہشات کواُبھارنے والے ان جذبوں کوختم کرے جوانفاق کی راہ میں حائل ہوتے ہیں اورایک ایسے معاشرہ کوتشکیل دے جن میں اجتماعی رُوح کافر ماہو، محبت پرمبنی رشتوں کااحساس ہو اور جس میں بہت زیادہ تعاون کی بنیاد موجود ہو۔