Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ٥۔ گزشتہ کتب میں اعمال کے مقابلہ میں اصل مسئو لیت

										
																									
								

Ayat No : 33-41

: النجم

أَفَرَأَيْتَ الَّذِي تَوَلَّىٰ ۳۳وَأَعْطَىٰ قَلِيلًا وَأَكْدَىٰ ۳۴أَعِنْدَهُ عِلْمُ الْغَيْبِ فَهُوَ يَرَىٰ ۳۵أَمْ لَمْ يُنَبَّأْ بِمَا فِي صُحُفِ مُوسَىٰ ۳۶وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّىٰ ۳۷أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ ۳۸وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ ۳۹وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَىٰ ۴۰ثُمَّ يُجْزَاهُ الْجَزَاءَ الْأَوْفَىٰ ۴۱

Translation

کیا آپ نے اسے بھی دیکھا ہے جس نے منہ پھیر لیا. اور تھوڑا سا راسِ خدا میں دے کر بند کردیا. کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس کے ذریعے وہ دیکھ رہا ہے. یا اسے اس بات کی خبر ہی نہیں ہے جو موسٰی علیھ السّلام کے صحیفوں میں تھی. یا ابراہیم علیھ السّلام کے صحیفوں میں تھی جنہوں نے پورا پورا حق ادا کیا ہے. کوئی شخص بھی دوسرے کا بوجھ اٹھانے والا نہیں ہے. اور انسان کے لئے صرف اتنا ہی ہے جتنی اس نے کوشش کی ہے. اور اس کی کوشش عنقریب اس کے سامنے پیش کردی جائے گی. اس کے بعد اسے پورا بدلہ دیا جائے گا.

Tafseer

									قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ موجودہ تورات میں کتاب حز قیلمیں بھی زیر بحث آیت کاکچھ مضمون آ یاہے ،کیونکہ وہ اس طرح ہے :
وہی جان جوگناہ کرے گی وہی مرے گی ،بیٹاباپ کے گناہ کابوجھ نہیں اٹھا ئے گا، ور باپ بیٹے کے گناہ کابار نہیں اٹھائے گا(۱) ۔
یہی مفہوم خصوصیت کے ساتھ قتل کے بارے میں تورات کے سفر تثنیہ میں بھی آیاہے : باپ اولاد کے بدلے میں قتل نہیں کئے جائیں گے ،اوراولاد بھی باپوں کے بدلے میں قتل نہیں کی جائیں گی ،ہرشخص اپنے گناہ کے سبب ہلاک ہوگا( ۲) ۔
البتہ گزشتہ انبیاء میں مکمل طورپر اس وقت ہمارے پاس نہیں ہیں ،ورنہ اس اصل کے بارے میں بہت سی باتیں ہمیں مل جاتیں ۔
۱۔ کتاب "" حز قیل"" فصل ١٨ صفحہ ٢٠۔
۲۔"" تورات"" سفر "" تثنیہ "" باب ٢٤ شمارہ ١٦۔