سوره النجم/ آیه 42- 49
وَأَنَّ إِلَىٰ رَبِّكَ الْمُنْتَهَىٰ ۴۲وَأَنَّهُ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَىٰ ۴۳وَأَنَّهُ هُوَ أَمَاتَ وَأَحْيَا ۴۴وَأَنَّهُ خَلَقَ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنْثَىٰ ۴۵مِنْ نُطْفَةٍ إِذَا تُمْنَىٰ ۴۶وَأَنَّ عَلَيْهِ النَّشْأَةَ الْأُخْرَىٰ ۴۷وَأَنَّهُ هُوَ أَغْنَىٰ وَأَقْنَىٰ ۴۸وَأَنَّهُ هُوَ رَبُّ الشِّعْرَىٰ ۴۹
اور بیشک سب کی آخری منزل پروردگار کی بارگاہ ہے. اور یہ کہ اسی نے ہنسایا بھی ہے اور ----- فِلایا بھی ہے. اور وہی موت و حیات کا دینے والا ہے. اور اسی نے نر اور مادہ کا جوڑا پیدا کیا ہے. اس نطفہ سے جو رحم میں ڈالا جاتا ہے. اور اسی کے ذمہ دوسری زندگی بھی ہے. اور اسی نے مالدار بنایا ہے اور سرمایہ عطا کیا ہے. اور وہی ستارہ شعریٰ کا مالک ہے.
قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ موجودہ تورات میں کتاب حز قیلمیں بھی زیر بحث آیت کاکچھ مضمون آ یاہے ،کیونکہ وہ اس طرح ہے :
وہی جان جوگناہ کرے گی وہی مرے گی ،بیٹاباپ کے گناہ کابوجھ نہیں اٹھا ئے گا، ور باپ بیٹے کے گناہ کابار نہیں اٹھائے گا(۱) ۔
یہی مفہوم خصوصیت کے ساتھ قتل کے بارے میں تورات کے سفر تثنیہ میں بھی آیاہے : باپ اولاد کے بدلے میں قتل نہیں کئے جائیں گے ،اوراولاد بھی باپوں کے بدلے میں قتل نہیں کی جائیں گی ،ہرشخص اپنے گناہ کے سبب ہلاک ہوگا( ۲) ۔
البتہ گزشتہ انبیاء میں مکمل طورپر اس وقت ہمارے پاس نہیں ہیں ،ورنہ اس اصل کے بارے میں بہت سی باتیں ہمیں مل جاتیں ۔
۱۔ کتاب "" حز قیل"" فصل ١٨ صفحہ ٢٠۔
۲۔"" تورات"" سفر "" تثنیہ "" باب ٢٤ شمارہ ١٦۔