٤۔ صحف ابراہیم وموسیٰ
أَفَرَأَيْتَ الَّذِي تَوَلَّىٰ ۳۳وَأَعْطَىٰ قَلِيلًا وَأَكْدَىٰ ۳۴أَعِنْدَهُ عِلْمُ الْغَيْبِ فَهُوَ يَرَىٰ ۳۵أَمْ لَمْ يُنَبَّأْ بِمَا فِي صُحُفِ مُوسَىٰ ۳۶وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّىٰ ۳۷أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ ۳۸وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ ۳۹وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَىٰ ۴۰ثُمَّ يُجْزَاهُ الْجَزَاءَ الْأَوْفَىٰ ۴۱
کیا آپ نے اسے بھی دیکھا ہے جس نے منہ پھیر لیا. اور تھوڑا سا راسِ خدا میں دے کر بند کردیا. کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس کے ذریعے وہ دیکھ رہا ہے. یا اسے اس بات کی خبر ہی نہیں ہے جو موسٰی علیھ السّلام کے صحیفوں میں تھی. یا ابراہیم علیھ السّلام کے صحیفوں میں تھی جنہوں نے پورا پورا حق ادا کیا ہے. کوئی شخص بھی دوسرے کا بوجھ اٹھانے والا نہیں ہے. اور انسان کے لئے صرف اتنا ہی ہے جتنی اس نے کوشش کی ہے. اور اس کی کوشش عنقریب اس کے سامنے پیش کردی جائے گی. اس کے بعد اسے پورا بدلہ دیا جائے گا.
صحف جمع ہے صحفہ کی جواصل میں ہروسیع چیزکے معنی میں ہے ،اس لیے صورت کو صحیفة الوجہ کہتے ہیں اس کے بعد کتاب کے صفحات پربھی اطلاق ہواہے ۔
صحف موسیٰ سے مراد اوپر والی آیت میں وہی تورات ہے ،اور صحف ابراہیم بھی ان کی آسمانی کتاب کی طرف اشارہ ہے ۔
مرحوم طبرسی نے مجمع البیانمیں سورئہ اعلیٰ کی تفسیر میں ایک حدیث پیغمبرگرامی اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے نقل کی ہے ، جس کاخلاصہ اس طرح ہے :
ابو ذرسوال کرتے ہیں: خدا کے پیغمبر کتنے ہوئے ہیں؟
آپ نے فرمایا:ایک لاکھ چوبیس ہزار
پھرسوال کیا: ان میں سے رسول کتنے ہیں؟
آپ نے فرمایا:تین سوتیرہ ہیں اورباقی نبی ہیں(رسول وہ ہوتا ہے جوابلاغ وانذار پرمأ مور ہوجب کہ نبی کامفہوم عام ہے )
پھر سوال کیا: کیاآدم پیغمبر تھے ؟
آپ نے فرمایا:ہاں!خدانے ان سے کلام کیااورانہیں اپنے دست قدرت سے پیداکیا ۔
پھرپوچھا :خدا نے کتنی کتابیں نازل کیں؟
آپ نے فرمایا:ایک سوچار کتابیں:دس صحیفے آدم پر ، بچاس صحیفے شیث پر ،تیس صحیفے ادریس پر ،دس صحیفے ابراہیم پر (جومجموعی طورپر ایک سو صحیفے بنتے ہیں( اور تورات وانجیل وزبور وقرآن (۱) ۔
۱۔""مجمع البیان "" جلد ١٠ ،صفحہ ٤٧٦اس حدیث کو"" روح البیان"" نے بھی جلد ٩،صفحہ ٢٤٦ پرنقل کیاہے ۔