Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ٣۔ چند سوالات کاجواب

										
																									
								

Ayat No : 33-41

: النجم

أَفَرَأَيْتَ الَّذِي تَوَلَّىٰ ۳۳وَأَعْطَىٰ قَلِيلًا وَأَكْدَىٰ ۳۴أَعِنْدَهُ عِلْمُ الْغَيْبِ فَهُوَ يَرَىٰ ۳۵أَمْ لَمْ يُنَبَّأْ بِمَا فِي صُحُفِ مُوسَىٰ ۳۶وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّىٰ ۳۷أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ ۳۸وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ ۳۹وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَىٰ ۴۰ثُمَّ يُجْزَاهُ الْجَزَاءَ الْأَوْفَىٰ ۴۱

Translation

کیا آپ نے اسے بھی دیکھا ہے جس نے منہ پھیر لیا. اور تھوڑا سا راسِ خدا میں دے کر بند کردیا. کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس کے ذریعے وہ دیکھ رہا ہے. یا اسے اس بات کی خبر ہی نہیں ہے جو موسٰی علیھ السّلام کے صحیفوں میں تھی. یا ابراہیم علیھ السّلام کے صحیفوں میں تھی جنہوں نے پورا پورا حق ادا کیا ہے. کوئی شخص بھی دوسرے کا بوجھ اٹھانے والا نہیں ہے. اور انسان کے لئے صرف اتنا ہی ہے جتنی اس نے کوشش کی ہے. اور اس کی کوشش عنقریب اس کے سامنے پیش کردی جائے گی. اس کے بعد اسے پورا بدلہ دیا جائے گا.

Tafseer

									یہاں چند سوال سامنے آ تے ہیں جن کاجواب دیناضروری ہے :
پہلایہ کہ اگرہرانسان کاحصہ قیامت میں صرف اس کی سعی وکوشش کاماحصل ہے ۔توپھر شفاعت کیامعنی رکھتی ہے ؟
دوسرایہ کہ سورئہ طور کی آ یت ٢١ میں اہل بہشت کے بارے میں آیاہے :الحقنا بھم ذریتھم:ہم ان کی اولاد کوبھی ان کے ساتھ ملحق کردیں گے ،حالانکہ ذ ریة نے تواس راہ میں کوئی کوشش نہیں کی ۔
اس کے علاوہ اسلامی روایات میں آ یاہے کہ جس وقت کوئی شخص اعمال خیرانجام دے تواس کانتیجہ اس کی اولاد کو پہنچے گا ۔
ان سب سوالات کاجواب صرف ایک جملہ ہے ،اوروہ یہ ہے کہ :قرآن یہ کہتاہے کہ انسان اپنی سعی وکوشش سے زیادہ کاحق نہیں رکھتا، لیکن یہ چیز اس بات میں مانع نہیں ہوگی کہ پروردگار کے لطف اورفضل کے طریق سے لائق افراد کونعمتیں دی جائیں ۔
استحقاق ایک مفہوم ہے اور تفضل ایک الگ مفہوم ہے جیساکہ وہ نیکیوں کی دس گنا، کبھی سوگنا، یاہزار وں گناہ جزا دیتاہے ۔
اس کے علاوہ شفاعت جیساکہ ہم اس کے اپنے مقام پر بیان کرچکے ہیں کہ بے حساب نہیں ہوگی ،بلکہ وہ بھی ایک قسم کی سعی وکوشش اور شفاعت کرنے والے کے ساتھ معنوی رابط پیداکرنے کی محتاج ہے ،اسی طرح اہل جنت کی اولاد کے ان سے ملحق ہونے کے بارے میں بھی قرآن اسی آ یت میں کہتاہے : واتبعتھم ذر یتھم بایمان یہ اس صور ت میںہے جب کہ ان کی اولاد ایمان میں ان کی پیروی کرے ۔