٦۔ استثنائی مواقع
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ عَسَىٰ أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِنْهُمْ وَلَا نِسَاءٌ مِنْ نِسَاءٍ عَسَىٰ أَنْ يَكُنَّ خَيْرًا مِنْهُنَّ ۖ وَلَا تَلْمِزُوا أَنْفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ ۖ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيمَانِ ۚ وَمَنْ لَمْ يَتُبْ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ ۱۱يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ ۖ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا ۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَحِيمٌ ۱۲
ایمان والو خبردار کوئی قوم دوسری قوم کا مذاق نہ اڑائے کہ شاید وہ اس سے بہتر ہو اور عورتوں کی بھی کوئی جماعت دوسری جماعت کا مسخرہ نہ کرے کہ شاید وہی عورتیں ان سے بہتر ہوں اور آپس میں ایک دوسرے کو طعنے بھی نہ دینا اور اِرے اِرے القاب سے یاد بھی نہ کرنا کہ ایمان کے بعد بدکاریً کا نام ہی بہت اِرا ہے اور جو شخص بھی توبہ نہ کرے تو سمجھو کہ یہی لوگ درحقیقت ظالمین ہیں. ایمان والو اکثر گمانوں سے اجتناب کرو کہ بعض گمان گناہ کا درجہ رکھتے ہیں اور خبردار ایک دوسرے کے عیب تلاش نہ کرو اور ایک دوسرے کی غیبت بھی نہ کرو کہ کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مفِدہ بھائی کا گوشت کھائے یقینا تم اسے اِرا سمجھو گے تو اللہ سے ڈرو کہ بیشک اللہ بہت بڑا توبہ کا قبول کرنے والا اور مہربان ہے.
غیبت کے بارے میں آخری بات یہ ہے کہ قانون غیبت میں بھی، ہردوسرے قانون کی طرح ، کچھ باتیں مستثنیٰ ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے ، کہ بعض اوقات مشورہ کے طورپر مثلاً بیوی یاشوہرکے انتخاب میں، یاکسب وکاروغیرہ میں شریک ہونے کے لیے کوئی شخص کسی سے سوال کرتاہے، تو مشورت میں امانت کاجواسلام کا ایک مسلمہ قانون ہے و تقاضایہ ہے کہ اگرطرفِ مقابل میں اُسے کوئی عیب معلو م ہو، تووہ اُسے تبادے، کہیں ایسانہ ہو کہ ایک مُسلمان جال میں پھنس جائے ، اوراس قسم کی غیبت جواس قسم کی نیّت سے انجام پائے حرام نہیں ہے ۔
البتہ جوشخص علی الاعلان اور آشکار ا گناہ کرتاہے اوراصطلاح کے مطابق متجاھربہ فسق ہے وہ موضوع غیبت سے خارج ہے اوراگرکوئی اس کے گناہ کواس کے پیٹھ پیچھے بیان کرے تواس پرکوئی اعتراض نہیں ہے،لیکن اس بات کی طرف توجہ رکھنی چاہیئے کہ یہ حکم اُسی گناہ کے ساتھ مخصوص ہے ، جس کے بارے میں وہ متجاہرہے ۔
یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ نہ صرف غیبت کرناحرام ہے ، بلکہ غیبت کاسننا بھی حرام ہے ،اور غیبت کی مجلس میں حاضر ہونابھی حرام کاموں میں سے ہے، بلکہ کچھ روایات کے مطابق تو مسلمانوں پر غیبت کارد کرناواجب ہے ،یعنی غیبت کے مقابلہ میں دفاع کے لیے کھڑے ہوں، اور اس مسلمان بھائی کا ، جس کی حیثیت وشخصیّت خطرے میں پڑ گئی ہے،دفاع کریں، اورکتنازیبا اور خوبصورت ہوگا ،وہ معاشرہ ، جس میں یہ اخلاقی اصُول دقیقاًاجراء ہوں ۔