٥۔ غیبت کاعلاج اور اس سے توبہ
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ عَسَىٰ أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِنْهُمْ وَلَا نِسَاءٌ مِنْ نِسَاءٍ عَسَىٰ أَنْ يَكُنَّ خَيْرًا مِنْهُنَّ ۖ وَلَا تَلْمِزُوا أَنْفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ ۖ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيمَانِ ۚ وَمَنْ لَمْ يَتُبْ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ ۱۱يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ ۖ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا ۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَحِيمٌ ۱۲
ایمان والو خبردار کوئی قوم دوسری قوم کا مذاق نہ اڑائے کہ شاید وہ اس سے بہتر ہو اور عورتوں کی بھی کوئی جماعت دوسری جماعت کا مسخرہ نہ کرے کہ شاید وہی عورتیں ان سے بہتر ہوں اور آپس میں ایک دوسرے کو طعنے بھی نہ دینا اور اِرے اِرے القاب سے یاد بھی نہ کرنا کہ ایمان کے بعد بدکاریً کا نام ہی بہت اِرا ہے اور جو شخص بھی توبہ نہ کرے تو سمجھو کہ یہی لوگ درحقیقت ظالمین ہیں. ایمان والو اکثر گمانوں سے اجتناب کرو کہ بعض گمان گناہ کا درجہ رکھتے ہیں اور خبردار ایک دوسرے کے عیب تلاش نہ کرو اور ایک دوسرے کی غیبت بھی نہ کرو کہ کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مفِدہ بھائی کا گوشت کھائے یقینا تم اسے اِرا سمجھو گے تو اللہ سے ڈرو کہ بیشک اللہ بہت بڑا توبہ کا قبول کرنے والا اور مہربان ہے.
غیبت بہت سے مذمو م صفات کے مانند آ ہستہ آہستہ ایک نفسیاتی بیماری کی شکل اختیار کرلیتی ہے، اوراس طرح سے کہ غیبت کرنے والا اپنے کام سے لذّت اٹھانے لگتاہے اوراس سے کہ ہمیشہ کسی نہ کسی کی آبروریزی کرے ، راضی اور خوش ہوتاہے اور یہ ایک بہت ہی خطرناک اخلاقی مرحلہ ہے ۔
یہی وہ موقع ہے ، جب غیبت کرنے والے کوہرچیزسے پہلے غیبت کے اندرونی محرکات کا علاج کرناچاہیئے ،جواس کی رُوح کی گہرائیوں میں ہیں اورگناہ پرابھاررہے ہیں، ایسے محرکات جیسے کہ بخل وحسد و کینہ پروری و عداوت اور خود کوافضل وبرتر سمجھناہیں ۔
اسے چاہیئے کہ خود سازی کے طریق سے اوران بُرے صفات کے نتائج بد اوران کے بُرے ثمرات کے بارے میں غور وفکر کرنے سے ، اوراسی طرح ریاضت نفس کے طریقہ سے ، ان آلود گیوں کو اپنے جا ن ودل سے دھوڈالے ، تاکہ اپنی زبان کوغیبت کی آلودگی سے باز رکھ سکے ۔
اس کے بعد تو بہ کے مقام میں آئے ، اورچونکہ غیبت حق الناس کاپہلو رکھتی ہے اگرصاحبِ غیبت تک رسائی ہو اوراس سے کوئی نئی مشکل پیدانہ ہوتی ہو، تواس سے عذ رخواہی کرے ،چاہے وہ سربستہ شکل میں ہی ہو مثلا کہے میں بعض اوقات نادانی اور بے خبری میں آپ کی غیبت کربیٹھا ہوں مجھے معاف کردو، اوراس سے زیادہ تشریح نہ کرے، تاکہ کہیں تازہ فساد کاسبب نہ بن جائے ۔
اوراگر طرفِ مقابل تک دسترس نہیں ہے ، یااُسے پہچانتانہیں ہے ، یا وہ فوت ہوگیا، تواس کے لیے استغفار کرے اورنیک عمل انجام دے ،شایداس کی برکت سے خداوند متعال اس کوبخش دے، اور طرفِ مقابل کوراضی کرلے ۔