Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ٣۔ ایمان "" عشق"" کی ایک نوع ہے نہ کہ صرف ادراک عقل

										
																									
								

Ayat No : 6-8

: الحجرات

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ ۶وَاعْلَمُوا أَنَّ فِيكُمْ رَسُولَ اللَّهِ ۚ لَوْ يُطِيعُكُمْ فِي كَثِيرٍ مِنَ الْأَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الْإِيمَانَ وَزَيَّنَهُ فِي قُلُوبِكُمْ وَكَرَّهَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الرَّاشِدُونَ ۷فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَنِعْمَةً ۚ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ۸

Translation

ایمان والو اگر کوئی فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کرو ایسا نہ ہو کہ کسی قوم تک ناواقفیت میں پہنچ جاؤ اور اس کے بعد اپنے اقدام پر شرمندہ ہونا پڑے. اور یاد رکھو کہ تمہارے درمیان خدا کا رسول موجود ہے یہ اگر بہت سی باتوں میں تمہاری بات مان لیتا تو تم زحمت میں پڑ جاتے لیکن خدا نے تمہارے لئے ایمان کو محبوب بنادیا ہے اور اسے تمہارے دلوں میں آراستہ کردیا ہے اور کفر, فسق اور معصیت کو تمہارے لئے ناپسندیدہ قرار دے دیا ہے اور درحقیقت یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں. یہ اللہ کا فضل اور اس کی نعمت ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا بھی ہے اور صاحب هحکمت بھی ہے.

Tafseer

									یہ آ یات ضمنی طورپر اس حقیقت کی طرف اشارہ ہیں ، کہ ایمان ایک قسم کاشدید خدائی اورمعنوی علاقہ اورلگاؤ ہے ، اگرچہ اس کی بنیاد یں عقلی استد لالات سے قائم ہوتی ہیں، اسی لیے امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ لوگوں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا: کیا حب وبغض بھی ایمان میں سے ہیں؟آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب میں فرمایا:
وھل الایمان الّا الحب والبغض؟ ! ثمّ تلا ھذہ الٰا یة : حبّب الیکم الایمان وزینہ فی قلو بکم وکرّہ الیکم الکفر والفسوق والعصیان اولٰیئِک ھم الراشدون۔
کیا ایمان حب وبعض کے علاوہ کوئی اور چیزہے، پھر امام علیہ السلام نے زیر بحث آیت سے استدلال فرمایا جویہ کہتی ہے کہ : خدانے تمہارے لیے ایمان کو محبُوب قرار دے دیاہے اوراُسے تمہارے دلوں میں مزین کردیاہے، اورکفرو فسق وعصیان کوتمہارے لیے قابلِ نفرت بنادیاہے، اورجولوگ ایسے ہوں وہی ہدایت یافتہ ہیں ( ۱) ۔
ایک دوسری حدیث میں امام محمد باقرعلیہ السلام سے اس طرح آ یاہے : 
وھل الدین الّا الحب؟!
کیا دین محبت کے علاوہ کوئی اور چیزہے ؟!
اس کے بعد آپ نے قرآن مجید کی آیات سے استدلال فرمایا: جن میں سے ایک زیربحث آیت تھی ،اورآخر میں مزیدفرمایا: 
الدین ھوالحبّ والحبّ ھوالدین : 
دین محبت ہے اورمحبت دین ہے ( ۲) ۔
لیکن اس میں شک نہیں ہے . جیساکہ ہم نے بیان کیاہے کہ اسے استدلال اورمنطقی اصولوں سے بھی سیراب و بارور ہوناچاہیئے ۔
۱۔ اصول کافی جلد٢،باب الحب فی اللہ والبغض فی اللہ حدیث ٥۔
۲۔ تفسیرنورالثقلین ، جلد ٥،صفحہ ٨٣، ٨٤۔