Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ٢۔ رہبری اوراطاعت

										
																									
								

Ayat No : 6-8

: الحجرات

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ ۶وَاعْلَمُوا أَنَّ فِيكُمْ رَسُولَ اللَّهِ ۚ لَوْ يُطِيعُكُمْ فِي كَثِيرٍ مِنَ الْأَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الْإِيمَانَ وَزَيَّنَهُ فِي قُلُوبِكُمْ وَكَرَّهَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الرَّاشِدُونَ ۷فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَنِعْمَةً ۚ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ۸

Translation

ایمان والو اگر کوئی فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کرو ایسا نہ ہو کہ کسی قوم تک ناواقفیت میں پہنچ جاؤ اور اس کے بعد اپنے اقدام پر شرمندہ ہونا پڑے. اور یاد رکھو کہ تمہارے درمیان خدا کا رسول موجود ہے یہ اگر بہت سی باتوں میں تمہاری بات مان لیتا تو تم زحمت میں پڑ جاتے لیکن خدا نے تمہارے لئے ایمان کو محبوب بنادیا ہے اور اسے تمہارے دلوں میں آراستہ کردیا ہے اور کفر, فسق اور معصیت کو تمہارے لئے ناپسندیدہ قرار دے دیا ہے اور درحقیقت یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں. یہ اللہ کا فضل اور اس کی نعمت ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا بھی ہے اور صاحب هحکمت بھی ہے.

Tafseer

									یہ آ یات ایک بار پھر اس بات کی تاکید کرتی ہیںکہ خدائی رہبر کاوجود ایک جمعیت کی نشو ونما اور شد وہدایت کے لازمی وضروری ہے ،اس شرط کے ساتھ کہ وہ مطاع ہونہ کہ اپنے پیرو کاروں کا مطیع اس کے فرمان کوسرآنکھوں پر رکھیں،نہ یہ کہ اس پراپنے محدُود مقاصد وافکار کے لیے دباؤ ڈالیں ۔
یہ بات نہ صرف خدائی رہبروں کے بارے میں ثابت ہے، بلکہ مسئلہ مدیریت اور فرماندہی میں ہرجگہ یہی امر کار فرماہونا چاہیئے ۔ 
یہ حکم رہبروں کے استبداد کے معنی میں نہیں ہے اورنہ ہی ترکِ شوریٰ کے لیے ہے ، جیساکہ اُوپر بھی اشارہ ہوچکاہے ۔