Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ١۔ خدا کی ہدایت اور ارادہ کی آ زادی

										
																									
								

Ayat No : 6-8

: الحجرات

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ ۶وَاعْلَمُوا أَنَّ فِيكُمْ رَسُولَ اللَّهِ ۚ لَوْ يُطِيعُكُمْ فِي كَثِيرٍ مِنَ الْأَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الْإِيمَانَ وَزَيَّنَهُ فِي قُلُوبِكُمْ وَكَرَّهَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الرَّاشِدُونَ ۷فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَنِعْمَةً ۚ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ۸

Translation

ایمان والو اگر کوئی فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کرو ایسا نہ ہو کہ کسی قوم تک ناواقفیت میں پہنچ جاؤ اور اس کے بعد اپنے اقدام پر شرمندہ ہونا پڑے. اور یاد رکھو کہ تمہارے درمیان خدا کا رسول موجود ہے یہ اگر بہت سی باتوں میں تمہاری بات مان لیتا تو تم زحمت میں پڑ جاتے لیکن خدا نے تمہارے لئے ایمان کو محبوب بنادیا ہے اور اسے تمہارے دلوں میں آراستہ کردیا ہے اور کفر, فسق اور معصیت کو تمہارے لئے ناپسندیدہ قرار دے دیا ہے اور درحقیقت یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں. یہ اللہ کا فضل اور اس کی نعمت ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا بھی ہے اور صاحب هحکمت بھی ہے.

Tafseer

									اوپر والی آ یت ، اسلام کے نکتہ نظرسے جبرو اختیار اور ہدایت واضلال کے بارے میں ایک واضح تصویر پیش کرتی ہیں،کیونکہ یہ اس نکتہ کوبخوبی واضح کرتی ہیں کہ خدا کا کام رشد وہدایت کے اسباب کافراہم کرناہے ۔ 
ایک طرف تو رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کولوگوں کے درمیان قرار دیتاہے،اورقرآن جوہدایت و نُور کاایک پروگرام ہے نازل فرماتاہے اور دوسری طرف سے ایمان سے عشق اورکفر وعصان سے تنفروبیزاری زمین تیار کرنے کے انداز میں دل وجان کے اندر قراردیتاہے.لیکن انجام کار آزادی ارادہ اختیار خودانہیں کے سپرد کرتے ہُوئے ، ان کی ذمہ دا ریوں کواس سلسلہ میں شریعت کے قانون ان پر نافذ کرتاہے ۔ 
اوپروالی آ یات کے مطابق ایمان کے ساتھ عشق اورکفر سے نفرت ، بغیر کسی استثناء کے ،تمام انسانوں کے دل میں موجود اوراگر کچھ لوگوں میں یہ سلسلہ موجود نہیں ہے تووہ غلط قسم کی تربیتوں اورخود انہیں کے اعمال کی وجہ سے ہے .خدا نے کسی بھی شخص کے دل میں عصیان کی محبت اور ایمان سے بغض خلق نہیں کیاہے ۔