Tafseer e Namoona

Topic

											

									  منافقین اندازِ گفتگو سے پہچانے جاتے ہیں

										
																									
								

Ayat No : 29-31

: محمد

أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ أَنْ لَنْ يُخْرِجَ اللَّهُ أَضْغَانَهُمْ ۲۹وَلَوْ نَشَاءُ لَأَرَيْنَاكَهُمْ فَلَعَرَفْتَهُمْ بِسِيمَاهُمْ ۚ وَلَتَعْرِفَنَّهُمْ فِي لَحْنِ الْقَوْلِ ۚ وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَعْمَالَكُمْ ۳۰وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتَّىٰ نَعْلَمَ الْمُجَاهِدِينَ مِنْكُمْ وَالصَّابِرِينَ وَنَبْلُوَ أَخْبَارَكُمْ ۳۱

Translation

کیا جن لوگوں کے دلوں میں بیماری پائی جاتی ہے ان کا خیال یہ ہے کہ خدا ان کے دلوں کے کینوں کو باہر نہیں لائے گا. اور ہم چاہتے تو انہیں دکھلا دیتے اور آپ چہرہ کے آثار ہی سے پہچان لیتے اور ان کی گفتگو کے انداز سے تو بہرحال پہچان ہی لیں گے اور اللہ تم سب کے اعمال سے خوب باخبر ہے. اور ہم یقینا تم سب کا امتحان لیں گے تاکہ یہ دیکھیں کہ تم میں جہاد کرنے والے اور صبر کرنے والے کون لوگ ہیں اور اس طرح تمہارے حالات کو باقاعدہ جانچ لیں.

Tafseer

									ہم نے بھی پہلی جلدسُورہٴ بقرہ کی آیت ۵۵ کے ذیل میں خدا کی آز مائش کے بارے میں تفصیل سے بحث کی ہے اسی طرح سُورہ عنکبوت کے آغاز میں بھی ( ملاحظہ ہو تفسیر نمونہ جلد ۱اور جلد ۱۶ متعلقہ حِصّے) ۔
ساتھ ہی یہ بتا تے چلیں کہ ” “ ( تاکہ تم میں سے مجا ہدین کی شناخت ہوجائے ) کاجُملہ اس معنی میں نہیں ہے کہ خدا ان لوگوں سے واقف نہیں ہے ،بلکہ اس سے مراد خداکے علم کاخارج میں ظہور اورایسے افراد کونمایاں کرنا ہے ،یعنی اس طرح سے خارج میں بھی خداکا علم حقیقت کی صُورت اختیار کرلے اور حقیقی مجا ہدین کی صفیں بھی دوسر ے نام نہاد مجا ہدین سے علیٰحدہو جائیں گے ۔
۱۔بعض مفسرین نے مندرجہ بالا آیت میں ” ام “ کو ” استفہامیہ “ سمجھا ہے اور بعض دوسرے مفسرین نے نے اسے ” منقطعہ “بمعنی ” بل “سمجھا ہے ،لیکن پہلامعنی زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے ۔
۲۔تفسیر مجمع البیان اسی آیت کے ضمن میں ،ساتھ ہی ہم بھی بتاتے چلیں کہ اس روایت کو اہل سُنت کے بہت سے بزرگوں نے بھی اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے ، جن میں سے چند ایک علماء اوران کی کتابوں کے نام یہ ہیں ، احمد نے کتاب ” فضائل “ میں ، ابن عبدالبرنے ” استیعاب “میں ذہبی نے ” تاریخ اوّل الاسلام “ مین ، ابن اثیر نے ” جامع الاصُول “ میں علامہ گنجی نے ” کفایة الطالب “ میں محب الدین طبری نے ” ریاضالنضرہ “میں سیوطی نے ” درمنثور “ میں ، آلوسی نے ” رُو ح المعانی “میں اور دوسر ے بہت سے علماء نے اپنی اپنی کتابوں میں اسے درج کیا ہے ، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک ایسی مسلمہ روایات میں ہے کہ جوپیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے منقُول ہے ( مزید تفصیل کے لیے ” احقاق الحق “جلد سوم،صفحہ ۱۱۰ ملاحظہ فر مایئے ) ۔
۳۔ نہج البلاغہ کلمات قصار ، جملہ ۲۶۔