جب زمین پروردگار کے نور سے روشن ہوجائے گی
وَأَشْرَقَتِ الْأَرْضُ بِنُورِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتَابُ وَجِيءَ بِالنَّبِيِّينَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ ۶۹وَوُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ وَهُوَ أَعْلَمُ بِمَا يَفْعَلُونَ ۷۰
اور زمین اپنے رب کے نور سے جگمگا اٹھے گی اور اعمال کی کتاب رکھ دی جائے گی اور انبیائ علیھ السّلام اور شہدائ کو لایا جائے گا اور ان کے درمیان حق و انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا اور کسی پر ظلم نہیں کیا جائے گا. اور پھر ہر نفس کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور وہ سب کے اعمال سے پورے طور سے باخبر ہے.
تفسیر
جب زمین پروردگار کے نور سے روشن ہوجائے گی
ان آیات میں قیامت سے مربوط وہ گفتگو کو گزشتہ آیات میں شروع ہوئی تھی، اسی طرح جاری ہے۔
ان دونوں آیات میں سات جملے ہیں ، جن میں سے ہرایک معاد کے سلسلہ میں ایک مطلب کو بیان کرتا ہے اس طرح سے کہ ہر ایک دوسرے مطلب کی تکمیل کرتا ہے یا اس کی دالیل بیان کرتا ہے اوران میں ایک خاص نظم پایا جاتا ہے۔
پہلے فرمایاگیا ہے : اس دن زمین اپنے پروردگار کے نور سے روشن ہوجائے گی (واشرقت الارض بنووربها).
اس "اشراق" اور نورالٰہی کی روشنی سے کیا مراد ہے ؟ اس سلسے میں مختلف تفسیرین بیان کی گئی ہیں جن میں سے مندرجہ ذیل میں تین تفسیرین زیادہ اہم ہیں۔
1- ایک جماعت کہتی ہے کہ "نوررب" سے مراد حق و عدالت ہے کہ خدا اس دن صفحۂ زمین کو اس کے ساتھ منور کردے گا۔
مرحوم مجلسی بحارالانوار میں کہتے ہیں:
ای اضائت الارض بعدل ربها يوم القيامة لان نورالارض بالعدل
یعنی قیامت کے دن زمین عدل پروردگار سے روشن ہوجائے گی کیونکہ زمین کا نور عدالت کی
ہی وجہ سے ہے۔ ؎1
بعض دوسروں نے اس مشہور حدیث نبوی کو اس معنی کا شاہد قراردیاہے: .
الظلم ظلمات يوم القيامة ...
ظلم قیامت کے دن تاریکی اور ظلمت کی صورت میں مجسم ہوجائے گا۔ ؎2
زمخشری نے بھی کشاف میں اسی معنی کو اختیار کیا ہے اور کہا ہے؛
اس دن میں عدل قائم ہونے اور سب کتاب میں انصاف کی وسعت اورحسنات وسیئات کا
صلہ ملنے سے روشن ہو جائے گی۔
2- بعض دوسروں کا عقیدہ یہ ہے کہ یہ ایک ایسے نور کی طرف اشارہ ہے جو سورج اور چاند کے نور کے علاوہ ہوگا، جسے خدا خصوصیت کے ساتھ اس دن پیدا کرے گا۔
3- مفسرعالی قدرمولف المیزان کہتے ہیں:
زمین کے نور پروردگار سے روشن ہونے سے مراد جو روز قیامت کی خصوصیات میں سے ہے، ویی
کشف غطاء، پردوں اور حجابوں کا ہٹ جانا ، حقائق اشیاء ، خیروشر، اطاعت و عصیاں اور حق و باطل
میں سے انسانوں کے اعمال کا ظاہر ہو جانا ہے.
اس کے بعد اس معنی پرسورة ق کی آیہ 22 سے استدلال کرتے ہیں۔
لقد كنت في غفلة من هذا فكشفنا عنك غطاءك فبصرك اليوم حديد
تواس بارےمیں غفلت میں تھا۔ ہم نے تیری آنکھ کے سامنے سے پردہ ہٹادیا اورآج تیری آنکھ
اچھی طرح سے دیکھے گی ۔
یہ ٹھیک ہے کہ یہ اشراق اس دن ہر چیز کے بارے میں ہوگا لیکن ان سب میں سے خصوصیت کے ساتھ زمین ہی کا ذکر اس بنا پر ہے کہ اصلی ہدف و مقصد اس دن روئے زمین کے لوگوں کی حالت بیان کرتا ہے۔
البتہ یہ تفسیریں آپس میں تضاد نہیں رکھتیں اور قابل جمع ہیں اگرچہ پہلی اور تیسری تفسیر زیادہ مناسب نظرآتی ہے۔
اس میں شک نہیں کہ یہ آیت قیامت کے ساتھ مربوط ہے اور اگرہم یہ دیکھتے ہیں کہ بعض روایات اہل بیتؑ میں حضرت مہدی کے
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 بحارالانوار ، جلد 6 ص 321
؎2 روح المعاني و روح البیان ، زیر بحث آیت کے ذیل میں
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
قیام سے اس کی تفسیر ہوئی ہے تو یہ حیقیقت میں ایک قسم کی تطبیق تشبیہ ہے اور اسی معنی پر تاکید ہے حضرت مہدی کے وقت دنیا صحن قیامت کا ایک نمونہ ہوجائے گی اور اس امام برحق اور جانشین بپیغمبرؐ اور نماینده پروردگار کے ذریرے روئے زمین میں عدل و داد اس حد تک حکم فرما ہوجائے گا کہ جسے زمین کی طبیت و مزاج قبول کرلے۔
مفضل بن عمر امام صادق سے نقل کرتے ہیں :
اذا قام قائمنا اشرقت الارض بنور ربها واستغنى العباد عن ضوء
الشمس وذهبت الظلمة
جس وقت ہمارے قائم قیام کریں گے تو زمین اپنے پروردگار کے نور سے روشن ہوجائے گی اور بندوں کو
سورج کی روشنی کی ضرورت نہ رہے گی اور ظلمت بطرف ہوجائے گی۔ ؎1
اس آیت کے دوسرے جملے میں نامۂ اعمال کے بارے میں گفتگو ہے، قرآن کہتا ہے : اس دن اعمال نامے آگے رکھ دیئے جائیں گے اور وہ انھیں دیکھیں گے۔ (ووضع الكتاب).
وہ اعمال نامے جن میں انسان کے تمام چھوٹے بڑے عمل جمع ہوں گے اور قرآن میں سورہ کہف کی آیه 49 کے بیان کے مطابق۔
لايغادر صغيرة ولا كبيرة الا احصاها
کوئی چھوٹی یا بڑی معصیت ایسی ہوگی جو اس میں شمارنہ کی گئی ہو۔
اور بعد والے جملے میں گواہوں کے بارے میں گفتگو رہی ہے اور قران مزیدکہتا ہے ، اس دن پیغمبروں اور گواہوں کو حاضر کریں گے (وجایء بالنبيين والشهداء ).
پیغمبروں کو اس لیے حاضر کیا جائے گا تاکہ وہ مجرمین کو اپنے فریضیۂ رسالت کی ادائیگی کے بارے میں بنائیں ۔ جیسا کہ سوره اعراف کی آیہ 6 میں بیان ہواہے:
ولنسئلن المرسلين .
ہم رسولوں سے قطعی طور پر سوال کریں گے۔
اور "گواہوں" کو اس بنا پر حاضر کیا جائے گا تا کہ وہ عدالت میں گواہی دیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ خدا ہرچیز سے آگاہ ہے ، لیکن مراتب عدالت کی تاکید کے لیے گواہوں کی
حاضری ضروری ہے۔
یہ گواہ کون لوگ ہیں ؟ اس بارے مفسرین کے درمیان بحث ہے۔
بعض نے انھیں امت کے نیک ، پاک اور عادل افراد سمجھا ہے جو انبیاء کے فریضۂ رسالت کی ادائیگی کی بھی گواہی دیں گے اوران لوگوں کے اعمال کی بھی جان کے زمانے میں زندگی بسر کرتے تھے جن میں سے افضل واشرف معصومینؑ ہیں۔
۔-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 ارشاد مفید (تفسیرصافی اور نور الثقلین کے مطابق زیربحث آیات کے ذیل میں) - یہی معنی مرحوم علام مجلسی نے بحارالانوار جلد 52 ص 330 پرتھوڑے سے فرق کے ساتھ نقل کیا ہے.
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
بحض دوسروں نے انھیں فرشتوں تفسیر کیا ہے کہ وہ انسانوں کے اعمال پرگواہ ہیں۔ انھوں نے سورة ق کی آیہ 21 کو اس معنی کا گواہ بنایا ہے ، جس میں یہ بیان کیا گیا ہے۔
وجاءت كل نفس معها سائق و شهید
ہر شخص صحن محشر میں اس حالت میں وارد ہوگا کہ اس کے ساتھ ایک توعدالت الٰہی کی طرف ہانک کر بجانے والا ہوگا اور دوسرا گواہ ہوگا۔
بعض نے ان سے مرداعضاء بدن اور اطاعت و معصیت مکان و زمان لیے ہیں کہ جو قیامت کے دن کے گواہوں میں سے ہوں گے ۔
لیکن ظاہر یہ ہے کہ "شہداء" (گواہ) ایک وسیع معنی رکھتا ہے اور مفرین میں سے ہرایک نے اس کے ایک حصے کی طرف اشارہ کیا ہے۔
بعض نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ اس سےخصوصیت کے ساتھ " شہیدان راہِ خدا" مراد ہیں لیکن یہ بعید نظر آتا ہے کیونکہ گفتگو عدالت الٰہی کے گواہوں کے بارے میں ہورہی ہے نہ کہ راہ حق کے شہیدوں کے بارے میں۔ اگرچہ ممکن ہے کہ وہ بھی شہود (گواہوں) کی صف میں ہوں۔
چوتھا جملہ کہتا ہے: ان کے درمیان کے حق ساتھ فیصلہ ہوگا ( وقضى بينهم بالحق).
پانچویں جملہ میں مزید فرمایا گیا ہے : اور ان پرظلم نہیں ہوگا (وهم يظلمون). .
یہ بات ظاہرواضع ہے کہ جس وقت عالم خدا ہو اور زمین اس کی عدالت کے نور سے روشن ہوجائے اور نامۂ اعمال جو صحیح طور پر بالتفصيل انسان کے اعمال بیان کرراہا ہو پیش کر دیا گیا ہو اور پیغمبراور سارے گوہان عدالت حاضر ہوں تو حق کے علاوہ اور کوئی فیصلہ نہیں ہوگا اوراس قسم کی عدالت میں ظلم و بیداد گری کا کوئی مفہوم ہی نہیں ہے۔
چھٹاجملہ بعد والی آیت میں اس بات کی تکمیل کرتا ہے اور کہتا ہے: ہرشخص کو جو عمل اس نے انجام دیا ہے، بے کم و کاست پورا پورا دیا جائے گا (ووفيت كل نفس ماعملت).
ان کے اعمال کا بدلہ ، صلہ ، جزا اور پاداش نہیں بلکہ خود ان کے اعمال ہی ان کے حوالے کر دیئے جائیں گے اور کون سی جزایا سزا اس سے بڑھ کرہوسکتی ہے کہ انسان کاعمل کامل طور سے اس کے حوالے کردیا جائے۔ اس بات کی طرف توجہ رکھیے کہ "وفیت" (کامل طورسے ادا کرنے کے معنی میں ہے) اور اس کا وہ عمل ہمیشہ کے لیے اس کا ہم نشین اور ساتھی بن جائے گا۔
کون ہے جوعدالت کے اس نظام کو دقیقًا اجرا کرسکتا ہو ؟ وہی ذات کہ جس علم ہرچیز پراحاطہ رکھتا ہے لہذا ساتویں اور آخری جملہ میں فرمایا گیا ہے: اور جو عمل وہ انجام دیاکرتے تھے وہ اس کے بارے میں سب سے زیادہ آگاہ ہے ( وهوأعلم بما يفعلون).
یہاں تک کہ شہود اور گواہوں کی بھی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہ تمام شہود اور گواہوں سے زیادہ علم رکھتا ہے لیکن اس کے لطف و عدالت کا تقاضا یہی ہے کہ گواہوں کو حاضر کرے۔ ہاں! ایسا ہے قیامت کا میدان ، جس کے لیے سب کو آمادہ وتیار رہنا چاہیے۔