Tafseer e Namoona

Topic

											

									  3-  کون سے افراد مستثنٰی ہیں؟

										
																									
								

Ayat No : 68

: الزمر

وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَاءَ اللَّهُ ۖ ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَىٰ فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ ۶۸

Translation

اور جب صور پھونکا جائے گا تو زمین و آسمان کی تمام مخلوقات بیہوش ہوکر گر پڑیں گی علاوہ ان کے جنہیں خدا بچانا چاہے - اس کے بعد پھر دوبارہ پھونکا جائے گا تو سب کھڑے ہوکر دیکھنے لگیں گے.

Tafseer

									 3-  کون سے افراد مستثنٰی ہیں؟ 
         جیساکہ ہم نے دیکھا ہے کہ زیربحث آیت میں قرآن کہتا ہے کہ آسمانوں اور زمین میں ہونے رہنے والے سب کے سب مرجائیں گے، پھر ایک گروہ کا استثناء 

کرتے ہوئے فرمایاگیاہے:
  الامن شاء الله 
  سوائے ان لوگوں کے جنھیں خدا چاہے گا۔ 
 اس بارےمیں کہ یہ لوگ کون ہیں؟ مفسرین کے درمیان اختلاف ہے 
 ایک گروہ کا عقیدہ یہ ہے کہ وہ خدا کے کچھ عظیم فرشتے مثلًا جبرئیل، میکائیل، اسرافیل اور عزرائیل ہیں ۔ 
 ایک اور روایت میں بھی اسے مطلب کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ ؎1 
 بعض نےحاملین عرش خدا کابھی اس پراضافہ کیا ہے (جیسا کہ ایک دوسری روایت میں آیا ہے) ۔ ؎2
 بعض دوسروں نے ارواح شہداء کو مستثنٰی جانا ہے جوآیات قرآنی کے حکم کے مطابق "احياء عند ربهم يرزقون "  وہ زندہ ہیں اور اپنے رب کے پاس سے رزق پاتے 

ہیں۔
 ایک روایت میں اس مطلب کی طرف بھی اشارہ ہوا ہے۔ 3
 البتہ یہ روایات آپس میں کوئی تضاد نہیں رکھتیں ، لیکن بہرحال ان ہی روایات میں سے بعض سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ باقی رہ جانیوالا گروہ بھی آخرکارمرجائے گا۔ 

اس طرح سے خدائے  "حی لایموت"  کے سواسرتا سرعالم ہستی میں کوئی زنده موجود باقی نہ رہے گا۔ 
 اس بارے میں فرشتوں یا ارواح شہداء ، انبیاء اور اولیاء کے لیے موت کیسے ہوگی؟ تواس کے یلی احتمالی یہی ہے کہ ان کے بارے میں  موت سے مراد، روح کے 

رشتے قالب مثالی سے ٹوٹ جانا یا ارواح کا مسلسل فعالیت معطل ہو جانا ہے۔