2- صوراسرافیل کیا ہے ؟
وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَاءَ اللَّهُ ۖ ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَىٰ فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ ۶۸
اور جب صور پھونکا جائے گا تو زمین و آسمان کی تمام مخلوقات بیہوش ہوکر گر پڑیں گی علاوہ ان کے جنہیں خدا بچانا چاہے - اس کے بعد پھر دوبارہ پھونکا جائے گا تو سب کھڑے ہوکر دیکھنے لگیں گے.
2- صوراسرافیل کیا ہے ؟
اس کی صوتی امواج ساری دنیا کو کس طرح گھیرلیں گی؟ حالانکہ ہم جانتے ہیں ۔ صوتی مواج سست رفتار ہوتی ہیں اور ایک سیکنڈ میں دو سو چالیسں میٹرسے آگے نہیں
جاتیں، جبکہ روشنی کی رفتار اس سے 10 لاکھ گنا سے بھی زیادہ ہے اور ایک سیکنڈ میں تین لاکھ کلومیٹر تک پہنچ جاتی ہے۔
ہمیں کہنا پڑے گا کہ ہم اس موضوع کے بارے میں قیامت کے بہت سے دوسرے مسائل کی طرح صرف اجمالی علم رکھتے ہیں ، اور جیساکہ ہم بیان کرچکے ہیں اس
کی جزئیات ہمارے لیے واضح نہیں ہیں۔
اسلامی کتب میں صور کے بارے میں آنے والی روایات میں غور کرنے سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ بعض کے خیالات کے برخلاف" صور" ایک معمولی قسم
کا بگل نہیں ہو گا ۔
ایک روایت میں امام علی بن حسین سے منقول ہے:
ان الصورقرن عظيم له رأس واحد وطرفان ، و بين الطرف السفل الذي
یلي الارض الى الطرف الاسلي الذي يلي السماء مثل تخوم الارضين الي
فوق السماء السابعة ، فيه القاب بعدد ارواح الخلائق
"صور" ایک بہت بڑا سینگ ہے جسں کا ایک سر اور دو اطراف ہیں، اور اس کی نچلی سمت جو زمين
کی طرف ہے اور اوپر والی سمت جو آسمان کی طرف ہے کادرمیانی فاصلہ زمین کےنیچلےحصے
سے لے کر ساتویں آسمان کے اوپرتک ہے اوراس میں مخلوقات کی ارواح کی تعداد کے برابر سوراخ ہیں ۔ ؎1
ایک او حدیث میں پیغمبر گرامی اسلامؐ سے منقول ہے:
الصورقرن من نور فيه اثقاب على عدد ارواح العباد
صور ایک نورانی سینگ ہے جس میں بندوں کی ارواح کی تعداد کے برابر سوراخ ہیں۔ ؎2
یہاں نور کا ذکر مذکورہ دوسرے سوال کا بھی جواب دیتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ یہ عظیم صیحہ ہماری عام صوتی امواج کی طرح نہیں ہے۔ ایک ایسی چیخ ہے جو
بہت بی برترو بالاتر ہے اور نور کی امواج سے بھی بہت زیادہ سریع ترا مواج رکھتی ہے جو زمین وآسمان کی وسعت کو تھوڑی سی دیر میں طےکرلے گی پہلی مرتبہ کی چیخ موت آفرین
ہوگی اور دوسری زندہ کرنے والی اور حیات بخش۔
یہ مسئلہ کہ ایک آواز اس طرح سے موت آفریں کیسے ہوسکتی ہے اگر گذشتہ زمانے میں کسی کے لیے باعث تعجب تھی تواب ہمارے لیے اس میں کوئی تعجب نہیں
ہے کیونکہ ہم نے اکثرسنا ہے کہ بموں کے پھٹنے کی آوازیں کانوں کو بہرہ ، جسم کو ریزہ زیرہ اور گھروں تک کو تباہ کر دیتی ہیں اور انسانوں کو ایک جگہ سے اٹھا کر دور دراز مقام پر
پھینک دیتی ہیں ۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ایک ہوائی جہاز کی تیزرفتاری ، دیوار صوتی کو توڑنے کے لیے ایسی وحشتناک آواز اور تباہ کن لہريں پیداکرتی ہے کہ عمارتوں کے شیشوں کو ایک
وسیع شعاع سے ٹکڑ ٹکڑے کردیتی ہے۔
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 لئالی الاخبار، ص 453
؎2 علم الیقین ص 892
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
جب امواج صوتی کے لیے چھوٹے چھوٹے نمونے جوانسانوں نے ایجاد کیے ہیں ، اپنا اثر دکھاتے ہیں تو عظیم صیحہ جوخداکی طرف سے ہوگی یعنی وہ عظیم عالمی
دھماکہ کیا اثرات مرتب کرے گا؟ .
لہذا کوئی تعجب کی بات نہیں کہ اس کے مدمقابل کچھ موجیں ایسی بھی ہیں جو ہلادینے والی اور بیدار کرنے والی اور زندہ کرنے والی ہوں، اگرچہ اس کا تصور آج
ہمارے لیے ممکن نہیں ہے لیکن سوئے ہوئے افراد کوبلند آواز کے ساتھ بیدار کرنا یا شدید جھٹکوں کے ساتھ بیہوش افراد ہوش میں لانا، کم ازکم ہم نے ضرور دیکھا ہے ہم دوبارہ عرض
کرتے ہیں کہ ہم اپنے محدود علم کی بنا پر صرف دور سے ان امور کا بہت ہلکا سا نقش ہی دیکھ سکتے ہیں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ