1- صورکتنی مرتبہ پھونکا جائے گا ؟
وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَاءَ اللَّهُ ۖ ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَىٰ فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ ۶۸
اور جب صور پھونکا جائے گا تو زمین و آسمان کی تمام مخلوقات بیہوش ہوکر گر پڑیں گی علاوہ ان کے جنہیں خدا بچانا چاہے - اس کے بعد پھر دوبارہ پھونکا جائے گا تو سب کھڑے ہوکر دیکھنے لگیں گے.
چند نکات
1- صورکتنی مرتبہ پھونکا جائے گا ؟
کیا نفخ صور دو مرتبہ ہوگا یا اس سے زیاده؟ علماءاسلام کے درمیان مشهور دو ہی مرتبہ ہے۔ زیر بحث آیت کا ظاہری مفہوم بھی یہی ہے۔ دوسری آیات قرآن بھی
مجموعی طور پر دو" نفخوں" کی کہ خبردیتی ہیں لیکن بعض نے اس کی تعداد تین نفخہ یا چار نفخہ بھی سمجھی ہے۔
اس طرح سے نفخہ اولٰی کو نفخہ " فزع " بھی کہتے ہیں۔
یہ تعبیرسورہ نمل کی آیہ 87 سے لی گئی ہے۔
ويوم ينفخ في الصورففزع من في السماوات ومن في الارض
جس وقت صور پھونکا جائے گا اس وقت انسانوں میں رہنے والے اور زمین میں بسنے والے سب
وحشت زدہ ہو جائیں گئے۔
وہ دوسرے اور تیسرے نفخہ کو "موت و حیات" کانفخہ سمجھتے ہیں۔ جس کی طرف زیربحث آیات اور قرآن کی دوسری آیات میں اشارہ ہوا ہے۔ ایک کونفخہ" صعق"
کہتے ھیں۔ ("صعق" بے ہوش ہونے کے معنی میں آیا ہے اور مرنے کے معنی میں بھی) اور دوسرے کو نفخہ " قیام" کہتے ہیں۔
جنھوں نے چوتھے نفخہ کا احتمال ذکر کیا ہے ، ظاہرًا انھوں نے سورہ یٰسں کی آیہ 53 سے یہ مفہوم اخذ کیا ہے، جہاں نفخۂ حیات کے بعد کے بارے میں ہے :
ان كانت الاصيحة واحدة فاذا هم جميع لدينا محضرون
صرف ایک چیخ ہوگئی اوراس کے اور وہ سب کے سب ہمارے پاس حاضر ہوجائیں گے ۔
ان کے نزدیک یہ نفخہ "جمع وحضور" ہے۔
لیکن حق بات یہی ہے کہ دونفخوں سے زیادہ نہیں ہوں گے اور فرع اورعمومی وحشت کامسئلہ حقیقت میں سارے جہان والوں کے مرنے کے لیے ایک مقدمہ ہے جو
پہلے نفخہ یا پہلے صیحہ سے حاصل ہوگا۔ جیساکہ نفخہ جمع اسی نفخہ حیات کا انجام ہے ۔ اس طرح سے دو سے زیادہ نے نہیں ہوں گے ۔ " نفخہ موت" اور "نفخہ حیات"
اس گفتگو کا دوسرا شاہد سوره نازعات کی آیہ 6 ،7 ہیں جہاں قرآن کہتا ہے۔
یوم ترجف الراجفة تتبعها الرادفة
جس دن ہولناک زلزلہ ہر جگہ کو لرزا کے رکھ دے گا تو اس کے بعد بھی وہ زلزلہ آجائے گا جو بندوں کو زنده اور اکٹھا کر کے رکھ د ے
گا۔ ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ