صُورپھونکا جانا اور سب کی موت وحیات
وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَاءَ اللَّهُ ۖ ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَىٰ فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ ۶۸
اور جب صور پھونکا جائے گا تو زمین و آسمان کی تمام مخلوقات بیہوش ہوکر گر پڑیں گی علاوہ ان کے جنہیں خدا بچانا چاہے - اس کے بعد پھر دوبارہ پھونکا جائے گا تو سب کھڑے ہوکر دیکھنے لگیں گے.
تفسیر
صُورپھونکا جانا اور سب کی موت وحیات
گزشتہ آیتوں میں قیامت کے بارے میں گفتگوتھی - زیربحث آیت میں اس مسئلے کو بہت سی خصوصیات کے ساتھ بیان کیا جارہا ہے۔ پہلے دنیا کے اختتام کی بات کرتے
ہوئے فرمایا گیا ہے : اورصورپھونکا جائے گا تو وہ سب کے سب مر جائیں گے۔ جو آسمانوں اور زمین میں ہیں سوائے ان کے جنھیں خدا چاہے گا (ونفخ في الصور فصعق من في السماوات
ومن فی والارض الا من شاء اللہ )۔
پھر صورپھونکا جائے گا تو اچانک سب کے سب اٹھ کھڑے ہوں گے اور وہ اپنے حساب و جزا اور نام کے انتظار میں ہوں گے۔ (ثم نفخ فیه اخرٰی فاذاهم قیام ينظرون)۔
اس آیت سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی انتہا اور قیامت کے آغاز میں دوحادثے ناگہانی اور اچانک رونما ہوں گے۔
پہلے حادثے میں سب زنده موجودات فورا مرجائیں گے اور دوسرے حادثے میں جو کچھ وقفے کے بعد صورت پذیرہوگا، تمام انسان اچانک زندہ ہوکر کھڑے ہوجائیں گے
اورحساب و کتاب کا انتظار کریں گے۔ قرآن مجید ان دونوں حادثوں کو "نفخ صور" سے تعبیر کرتا ہے جو ناگہانی اور اچانک حوادث کے بارے میں ایک خوبصورت اور زیبا کنایہ ہے ۔
کیونکہ "نفخ" کا معنی ہے "پھونکنا " اور "صور" کا معنی ہے "بگل"یا اندر سے خالی سینگ جو عام طور پر قافلے یا لشکر کو چلانے یا ٹھہرا نے کے لیے بجاتے ہیں۔ البتہ ان دونوں کی
آوازوں میں آپسں میں فرق ہوتا ہے۔ ٹھہرنے کا بگل قافلے کو ایک جگہ ٹھہرا دیتا ہے اور چلنے کابگل قافلے کے چلنے کی ابتداء کا اعلان کرتا ہے۔
یہ تعبیر ضمنی طور پرحکم کی سہولت کوبھی بیان کررہی ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خداوند بزرگ وبرتر ایک ہی فرمان سے جو ایک بگل میں پھونکنے کی
طرح آسان ہے ، اہل آسمان وزمین کو مار دے گا اور ایک ہی فرمان سے کہ وہ بھی کوچ کرنے اور چلنے کے بگل سے مشابہت رکھتا ہے ، سب کو زندہ کردے گا۔
ہم بارہا بیان کرچکے ہیں کہ سارے الفاظ جو ہماری روزمرہ کی محدود زندگی کے لیے وضع ہوئے ہیں اس سے بہت زیادہ عاجز ہیں۔ کے ماورا طبعیت جہان یا اس
جہان کے اختتام اور دوسرے جہان کے آغاز سے مربوط حقائق کوصحیح طور پر بیان کرسکیں ۔ اسی بنا پر ضروری ہے کہ معمولی اور عام الفاظ سے ہی ان وسیع وکشادہ معانی کے لیے
استفادہ کیاجائے اور ان الفاظ کے معانی کےلیےان میں موجو د قرائن پرتوجہ رکھنی چاہیے۔
اس کی وضاحت کچھ یوں ہے کہ قرآن مجید میں اس جہان کے خاتمے اور دوسرے جہان کے حادثاتی آغازکے متعلق مختلف تعبيريں آئی ہیں
معتدد آیات میں(دس سے زیادہ مواقع پر) "نفخ صور" کا ذکر ہے۔ ؎1
ایک مقام پر "نقر في الناقور" کہا گیا ہے اور بھی بگل یا اسی قسم کی چیز میں پھونکنے کے معنی میں ہے ارشادالٰہی ہے؛
فاذا نقرفي الناقورفذالك يوميذیوم عسير
(مدثر ــــــــــــــــ9،8 )
بعض مواقع پر "قارعة" ،کی تعبیر نظر آتی ہے جوسختی کے ساتھ کھٹکھٹانے کے معنی میں ہے۔
جن دوسرے مقامات پر صيحة کی تبیائی ہے جو ایک عظیم صدا کے معنی میں ہے ۔ جیسے سوروالیں کی ہے۔ ۴۹ میں ہے
(قارعہ ـــــــــــ1،2،3،)
ماينظرون الاصيحة واحدة تأخذهم وهم يخصمون
یہ آیت دنیا کے اختتام کے صیحہ کی بات کرتی ہے جو لوگوں کو بے ہوش کر دے گی اور سورۂ یٰس کی آیہ 53 میں ہے :-
ان كانت الاصيحة واحدة فاذا هم جميع لدينا محضرون
یہاں قیامت کے اس صیحہ کے بارے میں بات ہے جس کے بعد تمام لوگ زندہ ہوجائیں گئے اور پروردگار کی عدالت میں حاضر ہوں گے۔
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 وہ مواقع جہاں قرآن میں "نفخ صور" کا لفظ آیاہے ، حسب ذیل ہیں:
کہف ------- 99، مؤمنون -------- 101 ، یٰس --------51 ، زمر ---------- 68 ، ق ------- 20 ، الحاقہ ------13 ، انعام ---------- 73 ، طٰہٰ ---------
102 ،
نمل ----------- 87 ، بناء -------------18۔
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
ان آیات سے مجموعی طور پر معلوم ہوتا ہے ۔ دنیا کے آخر میں ایک عظیم صیحیہ آسمانوں اور زمین پر تمام رہنے دنوں والوں کو مار دے گی اور اس کو " موت کی چیخ"
کہتے ہیں۔
قیامت کے آغاز میں ایک عظیم صیحہ اور چیخ کے ساتھ سب کے سب زندہ ہو جائیں گے اورقبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے اور یہ حیات کی صیحہ اور چیخ ہوگی۔
لیکن یہ دونوں آوازیں دقیقًا کس طرح کی ہوں گی ؟ پہلی چیخ کا کیا اثر ہوگا اور دوسری چیخ میں کیا تاثیر ہے ؟ یہ بات خدا کے سواکوئی نہیں جانتا لہذا بعض روایات
میں صور کے بارے میں وضاحت کی گئی ہے ک جو اسرافیل پھونکے گا ۔مثلًا
وللصور رأس واحد وطرفان، و بین طرف رأس كل منهما إلى
الأخر مثل ما بين السماء الى الارض
اسرافیل کے بگل کا ایک سراور دو شاخیں ہوں گی اور ان دونوں شاخوں کے درمیان آسمان اور زمین کے درمیان
جتنا فاصلہ ہوگا۔
پھر اسی روایت کے ذیل میں ہے:
جس وقت وہ اس میں زمین کی طرف ہھونکے گا تو زمین میں کوئی زنده موجود باقی نہ رہے گا اور جس وقت
وہ اس میں آسمان کی طرف والے حصے میں پھونکے گا تو سارے کے سارے آسمان والے مر جائیں
گے پھر خدا اسرافیل کے لیے موت کا حکم دے گا اور کہے گا کہ مرجا تو وہ بھی مر جائے گا۔ ؎1
بہرحال اکثر مفسرین نے نے "نفخ صور" کے معنی " بگل میں پھونکنے" کے بی کیے ہیں ۔ جس کے بارے میں ہم بیان کر چکے ہیں کہ یہ اس جہان کے اختتام اور
قیامت کے آغاز کے بارے میں لطیف کنایہ ہے لیکن کچھ مفسرین نے "صور" کو "صورت" کی جمع سمجھا ہے اور اس بنا پراس نفخ صور و صورت میں پھونکنے کے معنی میں جانا ہے،
جیسے روح کو بدن میں پھونکتے ہیں۔ اس تفسیر کے مطابق ایک مرتبہ انسانی صوتوں میں پھونکا جائے گا تو سب کے سب مرجائیں گے اور ایک مرتبہ اور پھونکا جائے گا تو سب کے سب
زندہ ہو جائیں گے ۔ ؎2
یہ تفسیرعلاوہ اس کے کہ متون روایات سے ہم آہنگ نہیں ہے خودآیت کے ساتھ بھی مطابقت نہیں رکھتی ، کیونکہ "ثم نفخ فيه اخری" میں ضمیر مذکر اس کی طرف
لوٹتی ہے ، حالانکہ اگرجمع کے معنی میں ہوتا تو پھر اس کی طرف مفرد مؤنٹ کی ضمیرلوٹتی اور "نفخ فيها" کہا جاتا۔
اس سے قطع نظر صورت میں پھونکنا مُردوں کو زندہ کرنے کے موقع پر تو مناسب ہے (جیساکہ حضرت عیسٰیؑ کے معجزات میں آیا ہے) لیکن یہ تعبیرقبض روح کے
لیے استعمال نہیں ہوتی ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 تفسیر علی بن ابراھیم ، تفسیر نورالثقلین جلد 4 ص 502 کے مطابق
؎2 توجہ کیجیے کہ "صور" بروزن" نور " و "صور" بروزن" زحل" دونوں "صورت"کی جمع ہیں ۔
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------