1- مسئلہ حبط اعمال
وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ ۶۵بَلِ اللَّهَ فَاعْبُدْ وَكُنْ مِنَ الشَّاكِرِينَ ۶۶وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ ۚ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ ۶۷
اور یقینا تمہاری طرف اور تم سے پہلے والوں کی طرف یہی وحی کی گئی ہے کہ اگر تم شرک اختیار کرو گے تو تمہارے تمام اعمال برباد کردیئے جائیں گے اور تمہارا شمار گھاٹے والوں میں ہوجائے گا. تم صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے شکر گزار بندوں میں ہوجاؤ. اور ان لوگوں نے واقعا اللہ کی قدر نہیں کی ہے جب کہ روزِ قیامت تمام زمین اسی کی مٹھی میں ہوگی اور سارے آسمان اسی کے ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے وہ پاک و بے نیاز ہے اور جن چیزوں کو یہ اس کا شریک بناتے ہیں ان سے بلند و بالاتر ہے.
چند نکات
1- مسئلہ حبط اعمال :
کیا واقعًا یہ بات ممکن ہے کہ انسان کے نیک اور اچھے اعمال اس کے برے اعمال کی بنا پر حبط و نابود ہو جائیں ؟ کیا یہ مسئلہ ایک طرف تو خدا کی عدالت کے اور ان آیات کے ظاہری مفہوم کے منافی نہیں ہے وہ یہ کہتی ہیں کہ انسان اگر ذرہ برابر اچھا یا برا کام انجام دے تو اسے دیکھے گا۔
یہاں بحث کا دامن بہت وسیع ہے ۔ دلائل عقلی کے لحاظ سے بھی اور دلائل نقلی کے لحاظ سے بھی ۔ جس کا ایک حصہ جلد دوم میں سورة بقرہ کی آیہ 217 اس کے ذیل میں پیش کر چکے ہیں اورانشاء اللہ آئندہ بھی دیگر متعلقہ آیات کے ذیل میں پیش کریں گے۔
وہ بات جس کی طرف یہاں اشارہ کرنا ضروری ہے اور جو زیر بحث آیات میں درپیش ہے یہ ہے کہ اگر کوئی شخص دوسرے گناہوں کے مقابلے میں "حبط اعمال" میں شک کرے توکم از کم وہ شرک کی حبط اعمال میں تاثیر کے متعلق شک نہیں کرے گا، کیونکہ قرآن مجید کی بہت سی آیات جن میں سے بعض کی طرف ہم اوپر کرچکے ہیں، میں صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ ایمان کے ساتھ دنیا سے جانا اعمال کی قبولیت کی شرط ہے اور اس کے بغیر کوئی بھی عمل قابل قبول نہیں ہوگا۔
مشرک کا دل کی شوره زار کے مانند ہے کہ اگر تمام پھولوں کے بیج اس میں چھڑک دیئے جائیں اور حیات بخش بارش اس کے اوپر برستی رہے تو اس میں ایک پھول بھی اگانے کی استعداد نہ ہوگی اور خس وخاشاک کے سوا اس سے کوئی بھی باز نہ آئے گی۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ