Tafseer e Namoona

Topic

											

									  تومشرک ہو جائے توسب اعمال برباد

										
																									
								

Ayat No : 65-67

: الزمر

وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ ۶۵بَلِ اللَّهَ فَاعْبُدْ وَكُنْ مِنَ الشَّاكِرِينَ ۶۶وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ ۚ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ ۶۷

Translation

اور یقینا تمہاری طرف اور تم سے پہلے والوں کی طرف یہی وحی کی گئی ہے کہ اگر تم شرک اختیار کرو گے تو تمہارے تمام اعمال برباد کردیئے جائیں گے اور تمہارا شمار گھاٹے والوں میں ہوجائے گا. تم صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے شکر گزار بندوں میں ہوجاؤ. اور ان لوگوں نے واقعا اللہ کی قدر نہیں کی ہے جب کہ روزِ قیامت تمام زمین اسی کی مٹھی میں ہوگی اور سارے آسمان اسی کے ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے وہ پاک و بے نیاز ہے اور جن چیزوں کو یہ اس کا شریک بناتے ہیں ان سے بلند و بالاتر ہے.

Tafseer

									  تفسیر
             تومشرک ہو جائے توسب اعمال برباد ! 
 ان آیات میں اسی طرح شرک و توحید سے مربوط مسائل ہی  بیان ہورہے ہیں جن کے متعلق گزشتہ آیات میں بھی گفتگوتھی۔ 
 پہلی آیت میں شرک کے نقصان کو دو ٹوک انداز میں بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: تجھ سے پہلے کے تمام انبیاء کی طرف بھی اورتیری طرف بھی یہی وحی کی گئی ہے کہ اگر تو نے شرک کیا تو یقینًا تیرے تمام اعمال حبط ونابود ہوجائیں گے اور توزیان کاروں میں 
سے ہوجائے گا۔ (ولقد اوحي اليك والى الذين من قبلك لبن اشرکت ليحبطن عملك ولتكونن) 
 معنی سلب قدرت و اختیار نہیں ہے بلکہ ان کی سطح معرفت کا بلند ہونا اور مبدء وحی کے ساتھ دوامی اورمستقیم ارتباط اس بات سے مانع ہے کہ وہ ایک لمحہ بھر کے لیے بھی شرک کا تصور کریں ۔ کیا کوئی عقل مند اور حاذق طبیب ، جو انتہائی خطرناک و مہلک اور زہریلے مادے کی تاثیر سے بخوبی آگاہ ہو ، ا س سے یہ بات ممکن ہے کہ وہ اپنی فکروعقل کے اعتدال کی صورت میں خود کو اس سے آلودہ کرے ؟ 
 مقصد یہ ہے کہ شرک کے خطرے کی اہمیت سب کے گوش گزار ہوجائے تاکہ لوگ جان لیں کہ جب خدا اپنے بزرگ پیغمبروں کے ساتھ اسی طرح سے گفتگو کررہا ہے تو دوسروں کا معاملہ تو واضح ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یہ عربوں کی اس مشہور ضرب المثل کی طرح ہے: 
  ایاک اعنی واسمعي يا جارة 
  مراد تو میری تو ہے اور اے پڑوسن توبھی سنتی رہنا۔ 
  یہی معنی ایک حدیث میں امام علی بن موسٰی رضا علیه اسلام سے بھی منقول ہیں، جب کہ مامون نے آپ سے چند آیات کے بارے میں سوال کیا تو امام نے فرمایا ؟ 
  اس قسم کی آیات سے مراد امت ہے اگرچہ مخاطب رسول خدا ہیں۔ ؎1 
 بعد والی آیت میں مزید تاکید کے طور پر فرمایا گیا ہے : بلکہ صرف خداہی کی عبادت کر اور شکر گزاروں میں سے ہوجا  (بل الله فاعبده وكن من الشاکرین)۔ ؎2 
 لفظ "اللہ" کو "حصر"  کے لیے مقدم رکھا گیا ہے ، یعنی صرف اللہ کی ذات پاک ہی کو منحصر طور پر تیرا معبود ہونا چاہیے اوراس کے بعد شکر گزاری کا حکم دیا گیا ہے کیونکہ ان نعمتوں کاشکراداکرنا جن میں انسان غرق ہے۔ اللہ کی معرفت اور ہرقسم کے شرک کی نفی کے لیے ہمیشہ ایک سیٹرھی کاکام دیتا ہے۔ نعمت کے جواب میں شکرکرنا ہر انسان کے لیے فطری امر ہے اور شکر گزاری کے لیے ہر چیز سے پہلے منعم کی ہستی کی معرفت لازم ہے اور وہ مقام ہے جہاں شکر کا راستہ توحید کے راستے سے جاملتا ہے اور وہ بت جو کسی نعمت کا مبدء نہیں ہیں الگ ہوجاتے ہیں۔ 
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
 آخری زیربحث آیت میں نفی شرک کے لیے ایک اور بات کی گئی ہے اوران کے انحراف کی اصلی جڑ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے :" انھوں نے خود کو اس کے شایان شان طریقے سے نہیں پہچانا" اور اسی بنا پراس کے  مقدس نام کو اتنا نیچے لے آئے ہیں کہ اسے بتوں کے ہم پلہ بنادیا (وماقدروا الله حق قدره) ۔
 ہاں !شرک کا سرچشمہ خدا کے بارے میں صحیح معرفت نہ ہونا ہے، جو شخص یہ جانتا ہو کہ: 
 اولاً وہ ہر لحاظ سے بے پایاں اور غیر محدود وجود ہے۔ 
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- 
  ؎1     نورالثقلین جلد 4 ص 497 
  ؎2    "فاعبد" میں " فا " ممکن ہے زائدہ ہو جو اس قسم کے موقعوں پرتاکید کے لیے آتی ہے بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ لفظ شرط محزوف کی  جزا ہے اور تقدیر میں اس طرح تھا" ان كنت عابدًا فاعبد الله - پھر شرط حزف ہوگئی اور مفعول اس کی جگہ پر مقدم ہوگیا ۔ 
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- 
 ثانیًا تمام موجودات کی خلقت و پیدائش اسی کی طرف سے ہے ، یہاں تک کہ اپنی بقا کے لیے بھی اسی کے فیض وجود کے محتاج ہیں۔ 
 ثالثًا عالم ہستی کی تدبیر اور تمام مشکلات کاحل اور تمام ارزاق اسی کے دست قدرت میں ہیں۔ یہاں تک کہ اگر کسی کی شفاعت بھی ہوگی تو اسی کے اذان و فرمان سے ہوگی تو پھر کوئی وجہ نہیں ہے کہ انسان اس کے علاوہ کسی اور کی طرف رخ کرے۔ 
 اصلاً ان صفات کے ساتھ کسی وجود کے لیے دو گانگی محال ہے ، کیونکہ تمام جہات سے دو غیر محدود وجودوں کا ہونا محال ہے اور عقلًا ممکن نہیں ہے۔ (غور کیجیے گا)۔ 
 اس کے بعد اس  کی عظمت و قدرت کے بیان کے لیے دوعمدہ کنایوں سے استفادہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے ، قیامت کے دن تمام زمین اسی کے قبضے میں ہوگی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے ( والارض جمیعًا قبضته يوم القيامة والسماوات مطوبات بيمينه). 
 "قبضہ" اس چیز کے معنی میں ہے جو مٹھی میں لی جاتی ہے اور عام طور پر یہ کسی چیز پر قدرت مطلقہ اور تسلط کامل کے لیے کنایہ ہے۔ جیسا کہ روز مرہ کے جملوں میں ہم کہتے ہیں کہ فلاں شہرمیرے قبضہ میں ہے یا فلاں ملک میرے قبضہ اورمٹھی میں ہے۔ 
 "مطويات"  "طی" کے مادہ سے "لپیٹنے کے معنی میں ہے جو کبھی عمر کے گزرنے یاکسی چیز سے عبور کرنے کے لیے کنایہ ہوتا ہے 
  سورہ انبیاء کی آیہ 104 میں آنسمانوں کے بارے میں یہی تعبیر زیادہ واضح صورت میں بیان ہوئی ہے۔ 
  يوم نطوي السماء كل السجل للكتب 
  اس دن ہم آنسمانوں کو طوماروں کی طرح لپیٹ دیں گے۔ 
 جو شخص طومارکو لپیٹ کر دائیں ہاتھ میں لیے ہوئے ہو وہ اس پر کامل ترین تسلط رکھتا ہے ۔خصوصًا "یمین" (دایاں ہاتھ) اس بناپرکہا گیا ہے کیونکہ اکثرلوگ اہم کام دائیں ہاتھ سے ہی انجام دیتے ہیں اوراس میں زیادہ قوت کا احساس کرتے ہیں ۔ 
 مختصر بات یہ ہے کہ یہ سب تشبیہات اورتعبیرات دوسرے جہان میں عالم ہستی پہ پروردگار کے مطلق تسلط کے لیے کنایہ ہیں ، تاکہ سب لوگ یہ بات جان لیں عالم قیامت میں کلید نجات اور حل مشکلات خدا کے دست قدرت میں ہے تاکہ شفاعت وغیرہ کے بہانے سے بتوں اور دوسرے معبودوں کی طرف نہ جائیں۔ 
 کیا اس دنیامیں زمین و آسمان اسی صورت میں اس کے قبضہ قدرت میں نہیں ہیں ؟ اگر ایسا ہے تو پھر قرآن آخرت کی بات کیوں کررہا ہے؟ 
 اس کا جواب یہ ہے کہ اس دن خداکی قدرت ہرزمانے کی نسبت زیادہ آشکارہوگی اور اصلی ظہور کے مراحلے میں پہنچی ہوئی ہوگی اور سب کے سب واضح و آشکار طور پر جان لیں گے کہ ہر چییز اسی کی ہے اور اسی کے اختیار اور قبضے میں ہے۔ 
 علاوہ ازیں ممکن ہے بعض لوگ نجات کے بہانے سے قیامت میں غیر خدا کے پاس چلے جائیں جیساکہ عیسائی عیسٰی کی پرستش کے سے نجات کا مسئلہ اٹھاتے ہیں ۔ اس بنا پر مناسب یہی ہے کہ قیامت میں خدا کی قدرت کے بارے میں گفتگو کی جائے۔ 
 ہم نے جو کچھ بیان کیا ہے اس سے اچھی طرح واضح ہوجاتا ہے کہ یہ ساری تعبیریں کنایہ کا پہلو رکھتی ہیں اور ہمارے الفاظ کی کوتاہ داہنی کی وجہ سے مجبور ہیں کہ روزمرہ کی زندگی میں ان بلند معانی کو انھیں معمولی الفاظ کے قالب میں ڈھالیں اور اس بات کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ کوئی شخص ان سے پروردگار کے تجسم کا احتمال سمجھے سوائے اس کے کہ جو بہت کی سادہ لوح کوتاه بین اور کوتاه فکرہو ، تواس صورت میں کیا کیا سکتا ہے ؟ وہ الفاظ جو پروردگار کی عظمت کا مقام بیان کرنے کی گنجائش رکھتے ہوں ہمارے پاس نہیں ہیں ، لہذا ہمیں انھیں الفاظ 
کے کنائی معانی سے استفادہ کرتے ہوئے۔ جووسیع اور کشادہ دامن رکھتے ہیں ۔ فائدہ اٹھانا چاہیے۔ 
 بہرحال ان بیانات کے بعد آیت کے آخر میں ایک مختصر اور واضح نتیجہ اخذ کرتے ہوئے قرآن فرماتا ہے : اس کی ذات ان شرک  سے منزہ اور پاک ہے اور بلند و بالا ہے۔ (سبحانه وتعالى عما يشركون) ۔
 اگر انسان اپنے افکار کے چھوٹے سے پیمانوں کے ساتھ اس کی پاک ذات کے بارے میں فیصلہ نہ کرتا تو ہرگز شرک و بت پرستی نہ کرتا۔ 
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ