Tafseer e Namoona

Topic

											

									  2- کیامؤمنوں نے خدا کو پہچان لیا ہے

										
																									
								

Ayat No : 65-67

: الزمر

وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ ۶۵بَلِ اللَّهَ فَاعْبُدْ وَكُنْ مِنَ الشَّاكِرِينَ ۶۶وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ ۚ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ ۶۷

Translation

اور یقینا تمہاری طرف اور تم سے پہلے والوں کی طرف یہی وحی کی گئی ہے کہ اگر تم شرک اختیار کرو گے تو تمہارے تمام اعمال برباد کردیئے جائیں گے اور تمہارا شمار گھاٹے والوں میں ہوجائے گا. تم صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے شکر گزار بندوں میں ہوجاؤ. اور ان لوگوں نے واقعا اللہ کی قدر نہیں کی ہے جب کہ روزِ قیامت تمام زمین اسی کی مٹھی میں ہوگی اور سارے آسمان اسی کے ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے وہ پاک و بے نیاز ہے اور جن چیزوں کو یہ اس کا شریک بناتے ہیں ان سے بلند و بالاتر ہے.

Tafseer

									 2- کیامؤمنوں نے خدا کو پہچان لیا ہے : 
        ان آیات میں بیان ہوا ہے کہ مشرکین نے خدا کو اس کے شایان شان طریقہ سے نہیں پہچانا کیونکہ اگر وہ پہچان لیتے تو اور پھر شرک کی راہ پر نہ چلتے ، اس کا معنوم یہ بنتا ہے کہ مومنین موحد نے اسے حقیقی طور پر پہچان لیابے۔ 
 تواب یہ سوال سامنے آتا ہے کہ یہ بات پیغمبراکرمؐ کی اس مشہور حدیث کے ساتھ کیسے ہم آہنگ ہے جس میں آپؐ فرماتے ہیں: 
  ماعرفناك حق معرفتك، وما عبدناك حق عبادتك 
  ہم نے تجھے ایسا نہیں پہچانا جیساکہ تیری معرفت کا حق ہے،اور ہم نے تیری ایسے عبادت نہیں کی جیسے 
  کہ تیری عبادت کا حق ہے۔ 
 اس کا جواب یہ ہے کہ معرفت کے کئی مرحلے اور درجے ہوتے ہیں ان میں سے ایک مرحلہ ایسا ہے جو معرفت سے بالا ہے اور وہ خدا کی ذات کی کنہ اورحقیقت معلوم کرنا ہے اور یہ بات کسی کے لیے بھی ممکن نہیں ہے اور اس کی ذات پاک کے سوا کوئی بھی اس کی ذات پاک کی کنہ اورحقیقت سے باخبر نہیں ہے۔ پیغمبراکرمؐ کی مذکورہ مشہور حدیث اسی معنی کی طرف اشارہ ہے۔ 
 
 لیکن کچھ مراحل ایسے ہیں جواس سے بہت نیچے ہیں جو انسانوں کی استعدادی ہیں اور وہ اس کی صفات کی اجمالی شناخت اوراس افعال کی تفصیلی شناخت کا مرحلہ ہے اوریہ مرحلہ انسان کے لیےممکن ہے اور اللہ کی معرفت حاصل کرنے کا حکم اسی مرحلہ سے متعلق ہے۔ زیربحث آیت بھی اسی مرحلے کے بارے میں گفتگو کررہی ہے جس میں مشرکین عاجز رہ جاتے ہیں ۔ 
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ