ہر چیز کا خالق ومحافظ خدا ہے
وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ تَرَى الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى اللَّهِ وُجُوهُهُمْ مُسْوَدَّةٌ ۚ أَلَيْسَ فِي جَهَنَّمَ مَثْوًى لِلْمُتَكَبِّرِينَ ۶۰وَيُنَجِّي اللَّهُ الَّذِينَ اتَّقَوْا بِمَفَازَتِهِمْ لَا يَمَسُّهُمُ السُّوءُ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ۶۱اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ ۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ ۶۲لَهُ مَقَالِيدُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۗ وَالَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ اللَّهِ أُولَٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ ۶۳قُلْ أَفَغَيْرَ اللَّهِ تَأْمُرُونِّي أَعْبُدُ أَيُّهَا الْجَاهِلُونَ ۶۴
اور تم روزِ قیامت دیکھو گے کہ جن لوگوں نے اللہ پر بہتان باندھا ہے ان کے چہرے سیاہ ہوگئے ہیں اور کیا جہّنم میں تکبر کرنے والوں کا ٹھکانا نہیں ہے. اور خدا صاحبانِ تقویٰ کو ان کی کامیابی کے سبب نجات دے دے گاکہ کوئی برائی انہیں چھو بھی نہ سکے گی اور نہ انہیں کوئی رنج لاحق ہوگا. اللہ ہی ہر شے کا خالق ہے اور وہی ہر چیز کی نگرانی کرنے والا ہے. زمین و آسمان کی تمام کنجیاں اسی کے پاس ہیں اور جن لوگوں نے اس کی آیتوں کا انکار کیا وہی خسارہ میں رہنے والے ہیں. آپ کہہ دیجئے کہ اے جاہلو کیا تم مجھے اس بات کا حکم دیتے ہو کہ میں غیر خدا کی عبادت کرنے لگوں.
تفسیر
ہر چیز کا خالق ومحافظ خدا ہے
گزشتہ آیات میں ان متکبر اور جھوٹے مشرکین کے بارے میں گفتگوتھی جو قیامت کے دن اپنے کیے پریشمان ہوں گے اوراس جہان کی طرف واپسی کا تقاضا کریں گے ۔ ایسا تقاضا جو لاحاصل اور ناقابل قبول ہے۔ اب زیربحث آیات میں اسی گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا گیا ہے، جنھوں نے خدا پرجھوٹ باندھا تھا ، قیامت کے دن تو دیکھے گا کہ ان کے منہ کالے ہیں (و يوم القيامة ترى الذين كذبوا على الله وجوههم مسودة)۔
اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے : کیا جہنم میں مستکبرین کے لیے کوئی جگہ نہیں ؟ (اليس في جهنم مشوي للمتکبرین)۔
اگرچہ " كذبوا على الله" (خدا پر انھوں نے جھوٹ باندها ) کا مفہوم وسیع اور کشادہ ہے، لیکن زیربحث آیت میں خدا کی طرف شرک کی نسبت دینے اور خدا کے لیے فرشتوں میں سے یا حضرت عیسٰی یاکسی اور کے فرزند ہونے کی طرف اشارہ ہے۔
اسی طرح لفظ "مستکبر" اگرچہ یہ ان تمام لوگوں کے لیے بولا جاتا ہے جو اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہیں لیکن یہاں زیادہ تر وہ لوگ مراد ہیں
جنھوں نے انبیاء کی دعوت کے مقابلے میں دین حق سے استکبارکیااوران کی دعوت قبول کرنے سے روگردانی کی۔
قیامت میں جھوٹ بولنے والوں کی روسیاہی ، ان کی ذلت وخواری اور رسوائی کی نشانی ہے ۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ عرصہ قیامت انسان کے پوشیده اسرار ظاہر ہونے اوران کے اعمال و افکار مجسم ہونے کا میدان ہے ۔ جو لوگ اس دنیا میں سیاہ اور تاریک دل رکھتے تھے۔ اوران کے اعمال ان کے افکار کی طرح تیره و تار تھے ، وہاں ان کی یہ اندرونی حالت باہر آجانے گی اور ان کے چہرے تاریکی سیاه ہوجائیں گے۔
دوسرے لفظوں میں قیامت میں ظاہر و باطن ایک ہوجائے گا اور چہرے دلوں کا رنگ اختیار کرلیں گے جن کے دل تاریکی و سیاه ہوں گے ان کے چہر ے سیاہ ہوجائیں گے اور جن کے دل نورانی ہیں ان کے چہرے بھی ایسے ہی ہوں گے۔
جیسا کہ سوره آل عمران کی آیه 106، 107 میں آیا ہے:
يوم تبيض وجوه وتسود وجود فأما الذين أسودت وجوهہم
اكفرتم بعدايمانكم فذوقوا العذاب بما كنتم تكفرونه وأما الذين
ابیضت وجوھہم ففى رحمة الله هم فیها خالدونه
اس دن کچھ چہرے سفید اور کچھ چہرے سیاہ ہوجائیں گے، جن کے چہرے سیاہ ہوجائیں گے ان سے
کہا جائے گا : کیا تم ایمان لانے کے بعد کافر ہو گئے تھے۔ اب تم اپنےکفر کی وجہ سے عذاب کچھواور
جن کے چہرے سفید اور نورانی ہوں گے وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خدا کی رحمت میں رہیں گے ۔
معتبر احادیث جو ان سے نقل ہوئی ہیں وہ سب کی سب پیغمبر اکرم کی طرف بازگشت کرتی ہیں، اور یہ ایسا نکتہ ہے جو تمام علماء السلام کے لیے قابل غور ہے ۔ اس بنا پر ان لوگوں کو بھی جو ان کی امامت قبول نہیں کرتے کم از کم ان کی احادیث کو احادیث رسولؐ کے عنوان سے تو قبول کرنا چاہیے۔ اسی مضمون کی ایک اور حدیث امام صادقؑ سے کافی میں نقل ہوئی ہے اس میں بیان ہواہے :
ہم میں سے ہر ایک امام کی حدیث دوسرے امام کی حدیث ہے اور ہماری حدیث رسول اللہ کی حدیث ہے
(کافی جلد اول باب روایت الکتب والحدیث حدیث 14)
یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ آیات قرآنی سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ کفر کا اصلی سرچشمہ کبروغرورہی ہے۔ جیسا کہ شیطان کے بارے میں آیاہے:
ابٰی و استكبر وكان من الكافرين
اس نے انکار کیا اور تکبر کیا اور کافروں میں سے ہو گیا ۔ (بقرہ ـــــــــــ 34)
اسی بنا پر متکبرین جگہ جہنم کی جلا ڈالنے والی آگ کے سوا اور کہیں نہیں ہوسکتی۔
یہاں تک کہ ایک حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منقول ہے:
ان في جهنم لواد للمتكبرين يقال له سقر، شکی الی الله عز وجل شدۃ حره،
وسئله ان يتنفس فاذن له فتنفس فاحرق جهنم
جہنم میں ایک علاقہ ایسا ہے جومتکبرین کے لیے مخصوص ہے اسے سقرکیاجاتا ہے، ایکی دفع اس نےاپنی
حرارت کی شدت کی خدا سے شکایت کی اور یہ تقاضا کیا کہ وہ ایک سانس لےلے ، اسے اجازت دے
دی گئی تو اس نے ایک ایسا سانس لیا جس نے جہنم کو جلا کر رکھ دیا۔ ؎1
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بعد والی آیت میں اس گروہ کے مدمقابل معنی پرہیزگاروں کے اور قیامت میں ان کی سعادت کے متعلق گفتگو ہورہی ہے، فرمایاگیا ہے : خدا ان لوگوں کو جنھوں نے تقوٰی اختیارکیا نجات دے گا اور انھیں کامیاب کرے گا۔ (وينجي الله الذين اتقوا بمفازتهم)۔ ؎2
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 تفسیرعلی بن ابراہیم . تورالثقلین جلد 4 ص 496 کے مطابق یہی تفسیر صافی میں بھی زیر بحث آیات کے ذیل میں آیا ہے۔
؎2 "مفازة" مصدر میمی ہے اور فلاح اور کامیابی کے معنی میں ہے اور "بمفاز تهم" میں " با "یا ملابست کے لیے بے یاسیت کے لیے پہلی صورت میں آیت کا معنی یہ ہوگا۔
خدا انھیں کامیابی کے ساتھ نجات دے گا ۔
دوسری صورت میں آیت کا معنی یہ ہے:-
خداانھیں ان کی کامیابی کی وجہ سے ایمان اور عمل صالح کی طرف کنایہ ہے )کہ نجات اور رہائی بخشے گا ۔
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
اس کے بعد اس فلاح وکامیابی کی ان دو مختصراور پر معنی جملوں کے ساتھ وضاحت کی گئی ہے : کوئی برائی ان تک نہ پہنچے گی اورکوئی غم انھیں نہیں ہوگا (لا يمسهم السوء ولا هم يحزنون)۔
وہ ایسے عالم میں زندگی بسرکریں گے جہاں سوائے نیکی و پاکیزگی اور وجد وسرور کے کوئی چیز نہ ہوگی۔ حقیقت میں اس مختصری سی تعبیر نےخدا کی تمام نعمتوں کو اپنے اندر جمع کرلیا ہے ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بعد والی آیت ایک بار پھرمسئلہ توحید کی جانب اور شرک کے خلاف مقابلے کی طرف لوٹتی ہے اور مشرکین کے ساتھ جوگفتگو ہورہی تھی ، اسی کو جاری رکھے ہوئے ہے ۔ فرمایا گیا ہے ، خدا کی ہر چیز کا خالق ہے اور وہی تمام چیزوں کا محافظ اور ان پر ناظر و نگران ہے (الله خالق كل شيء وهو على كل شيء وكيل ).
پہلا جملہ "توحید خالقیت" کی طرف اشارہ ہے۔ دوسرا جملہ "توحید ربوبیت" کی طرف اشارہ ہے
توحید خالقیت کا مسئلہ تو ایسی چیز ہے کہ مشرکین تک بھی عام طور پراس کے معترف تھے ۔ جیسا کہ اس سورہ کی آیہ 38 میں بیان ہوا ہے
اگر تو مشرکین سے پوچھے کہ آسمان و زمین کس نے پیدا کیے تو وہ کہیں گئے : اللہ نے۔
لیکن انھوں نے توحید ربوبیت میں انحراف کیا تھا، وہ اپنے کاموں کا محافظ ، نگهبان اور مدبر بتوں کو سمجھتے تھے اور مشکلات میں انھی سے پناہ لیتے تھے۔ قرآن درحقیقت مذکورہ بیان کے ذریعے اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ امور عالم کی تدبیراوراس کی حفاظت و نگہداری کی ہستی کے ہاتھ میں ہے جس نے اسے پیدا کیا ہے۔ اس بنا پرہرحالت میں اسی کی پناہ لینی چاہیے۔
ابن منظور نے لسان العرب میں "وکیل" کے منتعدد و معانی بیان کیے ہیں ۔ مثلًا "کفیل" "حا فظ" اور "وہ ہستی جوکسی چیز کے امور کی تدبیر کرے"۔
اس طرح سے ثابت ہوجاتا ہے کہ بت نہ تو کوئی فائدہ ہی پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی نقصان ، نہ تو وہ کوئی گرہ کھول سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی گرہ لگا سکتے ہیں ، ایک ایسا ضعیف و کمزور وجود ہیں کہ جن سے کوئی کام نہیں ہوسکتا۔
مکتب جبر کے پیروکار "الله خالق كل شيء" سے اپنے انحرافی عقیدہ پر استدلال کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے اعمال بھی آیت کے مفہوم میں داخل ہیں۔ اس بنا پران کا خالق بھی خدا ہی ہے اگرچہ ان کا ظہور کا مقام ہمارے بدن اعضاء ہیں -
ان کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ اس مطلب کو نہ سمجھ سکے کہ خدا کی خالقیت، ہمارے افعال کے بارے میں ہمارے اختیار اور ارادے کی آزادی سے کوئی تضاد نہیں رکھتی ، کیونکہ یہ دونوں نسبتیں طول میں ہیں میں عرض میں نہیں ۔
اس کی وضاحت اس طرح ہے کہ ہمارے اعمال خدا کی طرف کی نسبت رکھتے ہیں اور ہماری طرف بھی۔ ایک طرف تو عالم ہستی کی کوئی چیز بھی خدا کے احاطہ قدرت سے باہرنہیں ہے اور اس لحاظ سے ہمارے اعمال بھی اسی کی مخلوق ہیں ، لیکن میں نے چونکہ ہمیں قدرت و طاقت عقل وفہم ، اراده و اختیار ، آلات کار اور آزادی عمل عطا کی ہے تو اس لحاظ سے ہمارے عمل کو اس کی طرف نسبت دی جاسکتی ہے۔ اس کی مشیت یہ ہے کہ ہم آزاد ہیں اور اعمال اختیاری بجالائیں اور اس نے تمام وسائل ہمارے اختیارمیں دے دیئے ہیں۔
لیکن اس کے باوجود ہم اپنے عمل میں آزاد ومختار ہیں اور اس لحاظ سے ہمارے افعال ہماری طرف منسوب ہیں اور ہم ان کے بارے میں مسئول اور ذمہ دار ہیں ۔
اگر کوئی شخص یہ کہے کہ ہم ہی اپنے اعمال کے خالق ہیں اور خدا کا ان میں کوئی دخل نہیں ہے تو وہ مشرک ہے کیونکہ وہ دو خالقوں کا معتقد ہوگیا، بڑا خالق اور چھوٹاخالق ، اور اگر کوئی یہ کہے کہ ہمارے افعال کا خالق خدا ہے اور ہمارا اس میں کوئی دخل نہیں ہے تووہ منحرف ہے۔ کیونکہ اس نے خدا کی حکمت و عدالت کا انکار کیا ہے، کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ اعمال تو اس کے ہوں اوران کے بارے میں جواب دہ ہم ہوں؟ اس صورت میں سزا وجزا ،حساب ومعاد اور ذمہ داری و مسئولیت کے کوئی معنی نہ ہوں گے۔
اس بنا پر صحیح اسلامی عقیدہ جو قرآن کی آیات کو یکجا جمع کرنے سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے یہ ہے کہ ہمارے تمام اعمال اس کی طرف بھی نسبت رکھتے ہیں اور ہماری طرف بھی نسبت رکھتے ہیں اور یہ دونوں میں آپس میں کسی قسم کی کوئی تضاد نہیں رکھتیں کیونکہ بہ وہ طولی نسبتیں ہیں نہ کہ عرضی متوازی (غورکیجیے گا)۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بعد والی آیت خدا کی توحید ، مالکیت کے ذکر کے ساتھ گزشتہ آیت کی توحیدی بحث کی تکمیل کرتی ہے اور کہتی ہے ، آسمانوں اور زمین کیا چابیاں اسی کے لیے ہیں (له مقاليد السماوات والارض) ۔
"مقالید" اکثر ارباب لعنت کے قول کے مطابق "مقلید" کی جمع ہے (اگرچہ زمخشری نے یہ کہا ہے کہ یہ کلمہ اپنی جنس سے کوئی مفرد نہیں رکھتا) اور مقليد " و" اقليد " دونوں چابی کے معنی میں ہیں اورلسان العرب اور بعض دوسروں کے مطابق اس کی اصل فارسی کے لفظ ” کلید" سے لی گئی ہے اور عربی میں بھی اسی معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ اس بنا پر ( مقاليد السماوات والارض) کا معنی آسمانوں اور زمین کی چابیاں ہی ہے ۔ ؎1
یہی تعبیرعام اور کسی چیز کی مالکیت اور اس پر تسلط کے لیے کنایہ ہوتی ہے۔ جیسا کہ ہم کہتے ہیں، اس کام کی چابی فلاں کے ہاتھ میں ہے۔ لہذا زیربحث آیت خدا کی توحید مالکیت کی طرف بھی اشارہ ہوسکتی ہے اور عالم ہستی پاک کی توحید و تدبیر و ربوبیت و حاکمیت کی طرف بھی ۔
اسی بنا پر قرآن اس جملے کے بعد بلافاصلہ اس طرح نتیجہ نکالتا ہے ،جنھوں نے آیات خدا سے کفر کیا ہے وہ زیاں کارہیں (والذين كفروا بآيات الله اولئك هم الخاسرون)۔
کیونکہ انھوں نے تمام خیرات و برکات کے منبع اصلی اور سرچشمہ حقیقی کو چھوڑ دیا ہے اور بے راہ رو ہو کر سرگرداں ہو گئے ہیں۔ جس ذات کے ہاتھ میں آسمان وزمین کی تمام چابیاں ہیں اس سے روگردانی کر کے ناتواں موجودات کے پیچھے لگ گئے ہیں ، جن سے مطلق طور پر کوئی بھی کام نہیں ہوسکتا۔
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 بعض فارسی لغت نوسیوں سے قول کے مطابق "کلید" کا معرب"اقلید" و "اکیل" ہے اور "تقلاد" وہ آلہ ہے جس کے ساتھ قفل کھولا اور بند کیا جاتا ہے۔ (حاشیہ برھان بیان قاطع)۔
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
ایک حدیث میں امیرامؤالمنین علیؑ سے منقول ہوا ہے کرمیں نے رسول خدا سے "مقالید" کی تسسیر پوچھی، تو آپؐ نے فرمایا :
يا على القد سئلت عن عظیم المقاليد، هوان تقول عشرًا اذا اصبحت ،
وعشرًا اذا امسيت، لا اله الا الله والله اکبر سبحان الله و الحمد لله
واستغفروا الله ولا قوة الا بالله (هو) الأول والأخر والظاهر و
الباطن له الملك وله الحمد (يحيي ويميت) بيده الخير و هو على
كل شيء قدير
تونے عظیم چابیوں کے بارے میں سوال کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ تو ہرصبح اور ہر شام ان جملوں کی تکرار کرکے
لا اله الا الله والله اكبر وسبحان الله و الحمد لله ...................
آخر حدیث تک۔
پھر آپؐ نے مزید فرمایا :
جو شخص ہر صبح وشام دس مرتبہ ان کلمات کی تکرار کرے گا ، خدا اسے چھ اجر عطا کرے گا، جن میں سے
ایک یہ ہے کہ خدا اسے شیطان اور اس کے لشکر سے محفوظ رکھے گا تاکہ اس کا اس پرتسلط نہ ہو۔ ؎1
پر بات کہے بغیرہی واضع ہے کہ ان کلمات کہنا زبان کے ساتھ پڑھنے کی صورت میں ان سب امور کے لیے کافی نہیں ہے۔ بلکہ مطالب و معانی پر ایمان اور ان پرعمل بھی ضروری ہے۔
یہ حدیث ممکن ہے خدا کے اسمائے حسنٰی کی طرف ایک لطیف اشارہ ہو، جوعالم ہستی پر اس کی مالکیت و حاکمیت کا مبدء ہیں۔
(غور کیجیے گا)
توحید کی شاخوں کے بارے میں گزشتہ آیات میں جو کچھ بیان ہوا ہے، اس سے مجموعی طور پربخوبی یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے ، کہ "توحید اورعبادت" ایک ناقابل انکار حقیقت ہے ، یہاں تک کہ ایک فہمیده اور عقل مند انسان اپنے آپ کو اس بات کی اجازت نہیں دے سکتاکہ وہ بتوں کے سامنے سجدہ کرے۔ اس لیے اس کے بعد ایک قاطع اور سخت لب و لہجے میں فرمایا گیا ہے: کہہ دے: اے جاہلو! کیا تم یہ حکم دیتے ہوکہ میں غیر خدا کی عبادت کروں (قل افغيراللہ تأمروى اعبد ایها الجاهلون)۔
یہ گفتگو خاص طور پر اس بات کی طرف توجہ کرنے سے ایک بہت عمیق مفہوم پیدا کرتی ہے کہ کفارو مشرکین بعض اوقات پیغمبراسلامؐ کو دعوت دیتے تھے کہ آپؐ ان کے خداؤں کا احترام اور پرستش کریں یا کم از کم بتوں کی عیب جوئی اور ان پر تنقید کرنے سے پرہیز کریں۔ گویا یہ آیت صراحت کے ساتھ اعلان کرتی ہے کہ مسئلہ توحید اور نفی شرک کوئی ایسی بات نہیں ہے جس پر کوئی معامله سودے بازی یا سمجھوتہ کیاجا سکے۔ شرک تو چاہے جس صورت میں بھی ہو اسے نابود کر دینا چاہیے اور اسے صفحہ ہستی سے مٹادیناچاہیے۔
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 تفسیر قرطبی جلد 8 ص 8719 اور تفسير ابوالفتوح الرازی جلد 9 ص 417 زیر بحث آیات کے ذیل میں (تلخیص کے ساتھ )۔
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ بت پرست عام طور پر جاہل ہوتے ہیں ، نہ صرف یہ کہ وہ پروردگار کے بارے میں جاہل ہیں بلکہ انھوں نے توخوداپنی انسانیت کے بلندوبالا مقام کو بھی نہیں پہچانا اور اسے پامال کردیا ہے۔
اس آیت میں امراور حکم کی تعبیر بھی معنی خیز ہے۔ یہ اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ وہ کسی دلیل و منطق کے بغیر ایک أمرانہ لہجے میں پیغمبراسلامؐ کو بت پرستی کی دعوت دیتے تھے ۔ اس قسم کی باتیں جاہل و نادان افراد سے کوئی عجیب بات نہیں ہے۔
کیا یہ جہالت وناوانی کی بات نہیں ہے کہ انسان عالم ہستی میں خدا کی ان تمام آیات اور نشانیوں کو چھوڑ دے جو اس کے علم و حکمت اور قدرت و تدبیر پرگواہ ہیں اور بے قدروقمیت چیزوں سے مل جائے ، جو نہ تو کوئی اثر رکھتی ہیں اور نہ ہی کسی خاصیت کی حامل ہیں-
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ