Tafseer e Namoona

Topic

											

									  2- موت کے آستانے پر یاقیامت

										
																									
								

Ayat No : 56-59

: الزمر

أَنْ تَقُولَ نَفْسٌ يَا حَسْرَتَا عَلَىٰ مَا فَرَّطْتُ فِي جَنْبِ اللَّهِ وَإِنْ كُنْتُ لَمِنَ السَّاخِرِينَ ۵۶أَوْ تَقُولَ لَوْ أَنَّ اللَّهَ هَدَانِي لَكُنْتُ مِنَ الْمُتَّقِينَ ۵۷أَوْ تَقُولَ حِينَ تَرَى الْعَذَابَ لَوْ أَنَّ لِي كَرَّةً فَأَكُونَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ ۵۸بَلَىٰ قَدْ جَاءَتْكَ آيَاتِي فَكَذَّبْتَ بِهَا وَاسْتَكْبَرْتَ وَكُنْتَ مِنَ الْكَافِرِينَ ۵۹

Translation

پھر تم میں سے کوئی نفس یہ کہنے لگے کہ ہائے افسوس کہ میں نے خدا کے حق میں بڑی کوتاہی کی ہے اور میں مذاق اڑانے والوں میں سے تھا. یا یہ کہنے لگے کہ اگر خدا مجھے ہدایت دے دیتا تو میں بھی صاحبانِ تقویٰ میں سے ہوجاتا. یا عذاب کے دیکھنے کے بعد یہ کہنے لگے کہ اگر مجھے دوبارہ واپس جانے کا موقع مل جائے تو میں نیک کردار لوگوں میں سے ہوجاؤں گا. ہاں ہاں تیرے پاس میری آیتیں آئی تھیں تو تو نے انہیں جھٹلادیا اور تکبر سے کام لیا اور کافروں میں سے ہوگیا.

Tafseer

									 2- موت کے آستانے پر یاقیامت:
       کیا یہ تینوں باتیں جومجرمین عذاب الہی کو دیکھ کر کریں گے ان کی عمرکے آخر میں عذاب استیصال کے ساتھ مربوط ہیں؟ یا عرصہ قیامت میں درود کے وقت سے مربوط ہیں؟ 
 اس سلسلے میں دوسرا معنی زیادہ صحیح نظر آتا ہے، اگرچہ اس سے پہلے کی آیات عذاب استیصال کے ساتھ مربوط ہیں اور اس کے بعد والی قیامت کے ساتھ مربوط ہے۔ اس بات کی شاہد سورہ انعام کی آیا 31 ہے جس میں یہ بیان ہوا ہے :۔ 
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1       تفسیر نورالثقلین  جلد 4 ص 495    
  ؎2       تفسیر نورالثقلین  جلد 4 ص 495 
  ؎3       تفسیر نورالثقلین  جلد 4 ص 496  
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  قد خسرالذین کذبوا بلقاء الله حتٰي اذاجاء تهم الساعة بغتة قالوا  
  ياحسرتنا على ما فرطنا فيها 
  وہ لوگ جنھوں نے لقاے پروردگار کا انکار کر دیا تھا وہ نقصان اور خسارے میں گر فتار ہو گئے ، ان کی 
  حالت اسی طرح سے جاری رہے گی، یہاں تک کہ اچانک قیامت آجائے گی ۔ اس وقت وہ کہیں گے 
  ہائے افسوس ہم نے اس بارے میں کوتاہی کی تھی۔ 
 مذکورہ بالا روایات کی ایک معنی پرایک گواہ ہیں۔ 
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ