اس دن پشیمانی فضول ہے
أَنْ تَقُولَ نَفْسٌ يَا حَسْرَتَا عَلَىٰ مَا فَرَّطْتُ فِي جَنْبِ اللَّهِ وَإِنْ كُنْتُ لَمِنَ السَّاخِرِينَ ۵۶أَوْ تَقُولَ لَوْ أَنَّ اللَّهَ هَدَانِي لَكُنْتُ مِنَ الْمُتَّقِينَ ۵۷أَوْ تَقُولَ حِينَ تَرَى الْعَذَابَ لَوْ أَنَّ لِي كَرَّةً فَأَكُونَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ ۵۸بَلَىٰ قَدْ جَاءَتْكَ آيَاتِي فَكَذَّبْتَ بِهَا وَاسْتَكْبَرْتَ وَكُنْتَ مِنَ الْكَافِرِينَ ۵۹
پھر تم میں سے کوئی نفس یہ کہنے لگے کہ ہائے افسوس کہ میں نے خدا کے حق میں بڑی کوتاہی کی ہے اور میں مذاق اڑانے والوں میں سے تھا. یا یہ کہنے لگے کہ اگر خدا مجھے ہدایت دے دیتا تو میں بھی صاحبانِ تقویٰ میں سے ہوجاتا. یا عذاب کے دیکھنے کے بعد یہ کہنے لگے کہ اگر مجھے دوبارہ واپس جانے کا موقع مل جائے تو میں نیک کردار لوگوں میں سے ہوجاؤں گا. ہاں ہاں تیرے پاس میری آیتیں آئی تھیں تو تو نے انہیں جھٹلادیا اور تکبر سے کام لیا اور کافروں میں سے ہوگیا.
تفسیر
اس دن پشیمانی فضول ہے
گزشتہ آیات میں توبہ اور گزشتہ اعمال کی تلافی اور اصلاح کے لیے ایک تاکیدی حکم آیاتھا۔ زیربحث آیات اس کے بعد آئی ہیں، پہلے فرمایاگیا ہے: یہ حکم اس لیے دیئے گئے تھے کہ مبادا کوئی قیامت کے دن کہے کہ افسوس ہے میرے لیے ان کوتاہیوں کی وجہ سے جو میں نے فرمانِ خدا کی اطاعت میں کی ہیں اور اس کی آیات اور رسولوں کا میں نے مذاق اڑایا تھا (أن تقول نفس ياحسرتا على مافرطت في جنب الله وان كنت لمن الساخرين)۔ ؎1
"یاحسرتا" اصل میں "یاحسرتی"تھا (حسرت کی یاء متکلم کی طرف اضافت ہوئی ہے) اور "حسرت" ان چیزوں پرغم کے معنی میں ہے جوہاتھ سے نکل گئی ہوں اور پشیمانی باقی رہ گئی ہو۔
"راغب" مفردات میں کہتا ہے کہ یہ لفظ "حسر" ( بروزن" حبس") کے مادہ سے برہنہ کرنے اور لباس اتارنے کے معنی میں ہے اور چونکہ گزشتہ پر ندامت اور غم کے موقع پر گویا جہالت کے پردے برطرف ہو گئے ہیں ، ا س لیے یہ تعبیر استعمال ہوئی ہے۔
ہاں! جس وقت انسان عرصہ محشر میں وارد ہوگا اور کوتاہیوں ، چشم پوشیوں ، غلط کاریوں اور اہم باتوں کو مذاق سمجھنے کے نتائج کواپنی آنکھ کے سامنے دیکھے گا تو وہ "واحسرتا" کہہ کر فریاد بلند کرے گا ۔ ایک بھاری غم گہری ندامت کے ساتھ اس کے دل پر سایہ فگن ہوگا اور وہ اپنی اس اندرونی حالت کو زبان پر جاری کرتے ہوئے مذکورہ جملوں کی صورت میں بیان کرے گا۔
اس بارے میں کہ یہاں"جنب الله" کے کیامعنی ہیں؟ مفسرین نے بہت سے احتمال ذکر کیے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ " جنب " لغت میں پہلو کے معنی میں ہے ۔ بعدازاں ہراس چیز پر اس کا اطلاق ہونے لگا جو کسی دوسری چیز کے ساتھ قرار پائی ہے۔ جیساکہ "يمين" و "يسار" بدن کے دائیں اور بائیں طرف کے معنی میں ہے۔ اس کے بعد ہر اس چیز کو جو اس طرف قرار پائی ہے۔ "یمین" و "يسار" کہا جانے لگا۔ یہاں بھی "جنب الله" ان تمام امور کے معنی میں ہے جو پروردگار کی جانب اور اس کے لیے قرار پاتے ہیں۔ اس کا فرمان ، اس کی اطاعت، اس کا قرب اورکتب آسمانی جو اس کی و طرف سے نازل ہوئیں ، یہ سب اس کے معنی میں جمع ہیں۔
اس طرح سے گنہگاران تمام کو تاہیوں پرجو انھوں نے خدا کے بارے میں کی تھیں ، ندامت،افسوس اورحسرت کااظہارکریں گےاور اس کی آیات اوررسولوں کے بارےمیں تمسخر واستہزاء انھیں خاص طور پر یاد آئے گا کیونکہ ان کی کوتاہیوں کا اصلی عامل ان عظیم حقائق سےجہالت اور غرور اور تعصب کے باعث بے اعتنائی کرنا اور مذاق خیال کرنا ہے۔
اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے : اور مبادا وہ یہ کہے کہ اگر خدا مجھے ہدایت کرتا تومیں پرہیز گاروں میں سے ہونا (او تقول لو و أن الله هداني لکنت من المتقين)۔
یہ بات گویا وہ اس وقت کہے گا جب اسے میزان حساب کے پاس لائیں گے ۔ وہ ایک گروہ کو دیکھے کا جو نیکیوں سے بھرے دامن کے
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 آیت کی ابتدا میں کچھ محزوف ہےجو اسے گزشتہ آیات کے ساتھ جوڑتا ہے اور تقدیر میں اس طرح ہے "لنلا تقول نفس " یا "حذرًا ان تقول نفس...." دوسری صورت میں یہ جملہ "انیبوا وأسلموا واتبعوا" کا " مفعول لہ" ہوگا اور "وان كنت لمن الساخرین میں" ان مخففہ ہے مثقلہ سے اوراصل ميں" اني كنت من الساخرين " تھا۔
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
حسرت وندامت اٹھانا اور غم واندوہ میں ہی غرق رہنا چاہیے۔
باقی رہا تیسری بات کے بارے میں جو دنیا کی طرف بازگشت کاتقاضا ہے تو قرآن کی آیات میں متعدد مواقع پر اس کا جواب دیا جاچکا ہے لہذا اب تکرار کی ضرورت نہیں۔ مثلًا سوره انعام کی آیہ 28:
ولوردوا لعاد والمانهواعنہ وانهم لكاذبون
اگر وہ لوٹ بھی جائیں تو بھی انھیں گزشتہ اعمال کو دہرائیں گے اور وہ جھوٹ بولتے ہیں۔
اسی طرح سورہ مؤمنون کی آیہ ۔ ابھی اس ضمن میں موجود ہے۔
اس سے قطع نظرجو جواب ان کی دوسری بات کا دیاگیا ہے وہی ان کے پہلے سوال کے جواب کی طرف بھی اشارہ ہوسکتا ہے ، کیونکہ دنیا کی طرف واپس لوٹنے کا مقصد کیا ہے؟ کیا اتمام حجت کے سوا کچھ اور ہے ؟ جبکہ خدا ان پر اتمام حجت کرچکا ہے اور اس سلسلے میں کوئی کمی نہیں کی ہے کہ دوبارہ اسے بیان کرے۔ جوبیداری مجرمین میں عذاب دیکھ کر پیدا ہوگی، وہ ایک قسم کی اضطراری بیداری ہوگی ، اور واپسی کی صورت میں عام حالت میں اس کے آثار باقی نہیں رہیں گے۔ یہ ٹھیک اسی بات کے مانند بے جو قرآن مشرکین کے دریا کی موجوں میں گرفتار ہوجانے کے موقع کے بارے میں بیان کرتا ہے کہ وہ اس وقت تو خدا کو اخلاص کے ساتھ پکارتے ہیں لیکن جب وہ ساحل نجات پر پہنچ جاتے ہیں تو سب کچھ بھول جاتے ہیں۔
فاذا ركبوا في الفلك دعوا الله مخلصين له الدين فلمانجا هم الى البراذا هم پیشرکون
(عنکبوت ــــــــ 65)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ