Tafseer e Namoona

Topic

											

									  2- سنگین بوجھ والے افراد 

										
																									
								

Ayat No : 53-55

: الزمر

قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ۵۳وَأَنِيبُوا إِلَىٰ رَبِّكُمْ وَأَسْلِمُوا لَهُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُونَ ۵۴وَاتَّبِعُوا أَحْسَنَ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَأَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ ۵۵

Translation

پیغمبر آپ پیغام پہنچادیجئے کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنے نفس پر زیادتی کی ہے رحمت خدا سے مایوس نہ ہونا اللہ تمام گناہوں کا معاف کرنے والا ہے اور وہ یقینا بہت زیادہ بخشنے والا اور مہربان ہے. اور تم سب اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرو اور اس کے لئے سراپا تسلیم ہوجاؤ قبل اس کے کہ تم تک عذاب آجائے تو پھر تمہاری مدد نہیں کی جاسکتی ہے. اور تمہارے رب کی طرف سے جو بہترین قانون نازل کیا گیا ہے اس کا اتباع کرو قبل اس کے کہ تم تک اچانک عذاب آجائے اور تمہیں اس کا شعور بھی نہ ہو.

Tafseer

									 2- سنگین بوجھ والے افراد : 
        بعض مفسرین نے ان آیات کی کچھ شان نزول بیان کی ہیں۔ جو سب کی سب احتمالاً تطبیق کی حیثیت رکھتی ہیں نہ کہ شان نزول کی ۔ 
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- 
   ؎1     سفینۃ البحار جلد 1 ص 127 ( مادہ توبہ) 
   ؎2    اصول کافي جلد  2 باب توبہ حدیث 10 ص  316  
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ان میں سے ایک "وحشی" کی داستان ہے جو میدان احد میں بہت بڑے جرم کامرتکب ہوا تھا اورپیغمبر اکرمؐ کے چچا حضرت حمزہ جیسے شجاع اور بہارد کمانڈر کو بزدلانہ طریقے سے شہید کردیا جنھوں نے ہر جگہ اپنی جان کو پیغمبر اکرمؐ کے لیے سپر بنا رکھا تھا۔ جب اسلام کو عروج حاصل ہوا اور مسلمان ہرجگہ کامیاب ہوئے ، تو اس وحشی نے بھی اسلام قبول کرنا چاہا لیکن وہ ڈرہا تھا کہ اس کا اسلام قبول نہیں کیا جائے گا۔ اس ضمن میں مذکورہ ہالا آیت نازل ہوئی اور وہ اسلام لئے آیا۔ پیغمبراکرمؐ نے اس سے پوچھا : 
 تو نے میرے چچا کو کس طرح قتل کیا تھا ؟ 
 اس نے تفصیل کے ساتھ واقعہ بیان کیا۔ پیغمبراکرمؐ بہت زیادہ روئے ، اس کی توبہ تو قبول کرلی، لیکن اس سے فرمایا : 
  غيب وجهك عني فاني لا استطيع النظر اليك فلحق بالشام فمات 
  في الخمر 
  میری آنکھوں کے سامنے کبھی نہ آتا کیونکہ میں تجھے نہیں دیکھ سکتا ۔وحشی سرزمین شام کی طرف چلا گیا اورآخرکار 
  خمر نامی علاقے میں جاکر مرگیا۔ 
 بعض لوگوں نے سوال کیاکہ کیا یہ آیت صرف اس وحشی کے بارے میں ہے یا سب مسلمانوں کے لیے ہے ؟ فرمایا سب کےلیے۔ ؎1 
 دوسری ایک شخص نباش  (قبروں کو کھود کر کفن چوری کرکےلےجاتا ہے) کی داستان ہے جس کا خلاصہ کچھ اس طرح ہے :- ایک جوان روتا ہوا  پیغمبراکرمؐ کی خدمت میں آیا۔وہ بہت ہی پریشان تھا۔ کہہ رہا تھا کہ میں خدا کے غضب سے ڈررہا ہوں۔ 
 فرمایا : کیا تو نے شرکت کیا ہے؟ 
 کہا  : نہیں! 
 فرمایا : کیا تونے خون ناحق بہایا ہے؟ 
 عرض کیا : نہیں ! 
 فرمایا : خداتیرے گناہوں کو بخش دے گا چاہے وہ جتنے بھی زیادہ ہوں۔ 
 عرض کیا : میرا گناہ آسمان و زمین اور عرش و کرسی بھی بڑا ہے !
 فرمایا : کیا تیر گناه خدا سے بھی بڑا ہے؟ 
 عرض کیا : نہیں ! خدا تو ہر چیز سے بڑاہے۔ 
 فرمایا : جا! (توبہ کر) کہ خدائے عظیم گناہ کو بخش دیتا ہے۔ 
 اس کے بعد فرمایا: اچھا بتا تو سہی تو نے کون سا گناہ کیا ہے؟ 
 عرض کیا : اے رسول خداؐ! مجھے شرم آتی ہے کہ اسے آپ کے سامنے بیان کروں۔ 
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1    سفینۃ البحارجلد 2 ص 637 (ماده "وحش")  تفسیر فخررازی جلد 27 ص 4 اورتفسیرنورالثقلین جلد 4 ص 493 
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
 فرمایا : آخر بتاتوسہی کہ تو نے کیا کیا ہے؟ 
 عرض کیا : میں سات سال سے قبریں کھود کر مردوں کے کفن اتارتار رہاہوں ، یہاں تک کہ ایک دن قبر کھودتے ہوئے مجھے (قبرميں )انصار کی ایک لڑکی نظر آئی۔ جب میں نے اسے برہنہ کرلیا تو میرا نفس ہیجان میں آگیا ....... (اس کے بعد اس نے اپنی دست درازی کا قصہ بیان کیا) 
 جس وقت اس کی گفتگو یہاں تک پہنچی تو پیغمبراکرمؐ کو سخت غصہ آیا اور رنجیدہ ہوئے اور فرمایا اس نام کو فاسق نکال دواور اسی کی طرف رخ کر کے فرمایا : تو دوزخ سے کتنا نزدیک ہے۔ 
 وہ جوان باہرنکلا تو شدت کے ساتھ رورہا تھا ۔ بیابان ان کی طرف نکل گیا اورکہتا جاتا تھا: اے محمد کے خدا ! اگر تو میری توبہ قبول کرلے تو اس کی اپنے بغیر کو اطلاع کر دے۔ ورنہ آسمان سے آگ بھیج کر مجھے جلادے اور مجھے آخرت کے عذاب سے نجات دے۔ ۔ یہ موقع تھا جبکہ قاصد وحی خدا پیغمبر گرامیؐ پرنازل ہوا اور آیہ قل ياعبادی الذین اسرفوا...... ، آنحضرتؐ کے حضور میں پڑھی۔ ؎1 
 جبرئیل کی طرف سے اس آیت کی تلاوت ، یہاں ممکن ہے پہلی بار کی صورت میں نہ ہو کہ شان نزول کا پہلو کو پیدا کرے بلکہ ایک ایسی آیت کا تکرار ہو جو پہلے نازل ہوچکی ہے اور یہ اس گنہ گار شخض کی توبہ قبول کرنے کے اعلان اور زیادہ تاکید و توجہ کےلیے ہو۔
 ہم پھر عرض کیے دیتے ہیں کہ اس قسم کے اشخاص جوگناہ کا سنگین بوجھ اپنے کندھوں پر لیے ہوئے ہوتے ہیں وہ اپنے اعمال صالح کے ذریعے تلافی کرنے کے لیے بہت بھاری زمہ داری رکھتے ہیں۔ 
 جناب فخر رازی نے زیربحث آیات کے لیے ایک اور شان نزول بیان کی ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ بعض نے کہا ہے کہ یہ آیات اہل مکہ کے بارے میں نازل ہوئی ہیں ، وہ کہتے تھے کہ محمدؐ خیال یہ ہے کہ جو شخص بت کی پوجا کرے یا جس کاہاتھ کسی کے خون میں رنگا ہوا تو وہ کبھی بھی نہیں بخشا جاۓ گا ، اس کے باوجود وہ ہم سے یہ بھی کہتا ہے کہ اسلام لے آؤ، ہم کس طرح اسلام کے آئیں جبکہ ہم نے بت پرستی بھی کی ہے اور بے گناہوں کا خون بھی بہایا ہے (تو یہ آیات نازل ہوئیں اور توبہ کا دروازہ ان کے سامنے کھول دیا گیا) ۔ ؎2 
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1    تفسير ابوالفتوح رازی جلد نہم صفحہ 412 (زیربحث آیات کے ذیل میں) 
  ؎2   تفسیر فخررازی ، جلد 27 ص 4 ( زیر بحث آیات کے ذیل میں)
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------