خدا تمام گناہوں کو بخش دے گا
قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ۵۳وَأَنِيبُوا إِلَىٰ رَبِّكُمْ وَأَسْلِمُوا لَهُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُونَ ۵۴وَاتَّبِعُوا أَحْسَنَ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَأَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ ۵۵
پیغمبر آپ پیغام پہنچادیجئے کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنے نفس پر زیادتی کی ہے رحمت خدا سے مایوس نہ ہونا اللہ تمام گناہوں کا معاف کرنے والا ہے اور وہ یقینا بہت زیادہ بخشنے والا اور مہربان ہے. اور تم سب اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرو اور اس کے لئے سراپا تسلیم ہوجاؤ قبل اس کے کہ تم تک عذاب آجائے تو پھر تمہاری مدد نہیں کی جاسکتی ہے. اور تمہارے رب کی طرف سے جو بہترین قانون نازل کیا گیا ہے اس کا اتباع کرو قبل اس کے کہ تم تک اچانک عذاب آجائے اور تمہیں اس کا شعور بھی نہ ہو.
تفسیر
خدا تمام گناہوں کو بخش دے گا
گزشتہ آیات میں مشرکین اور ظالمین کے بارے میں بار بار تہدیدیں آئی ہیں ، ان کے بعد اب ان آیات میں تمام گنہ گاروں کوامید دلائی جارہی ہے اوران کے لیے بازگشت کا راستہ کھولا جارہا ہے ، کیونکہ ان تمام امور کا ہدف اصلی تربیت و ہدایت ہے۔ نہ کہ انتقام جوئی و خشونت و سختی۔ انتہائی لطف اور محبت بھرے انداز میں ، سب کے لیے اپنی آغوش رحمت کھولے ہوئے اور ان کے لیے عفو و مہربانی کا فرمان صادر کرتے ہوئے اللہ تعالی فرماتا ہے : ان سے کہہ دے! اے میرے وہ بندو جنھوں نے اپنے اوپراسراف اور ظلم کیا ہے خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہوجانا ، کیونکہ خدا تمام گناہوں کو بخش د ے گا۔ بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے (قل يا عبادي الذين اسرفوا على انفسهم لا تقنطوا من رحمة الله ان الله يغفر الذنوب جميعًا انه هو الغفور الرحیم)۔
اس آیت کے الفاظ میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت قرآن کی آیات ہیں گنہ گاروں کے لئے سب سے زیادہ امید بخش ہے اور اس کی وسعت اس حد تک ہے کہ ایک روایت کے مطابت امیرالمومنین علی علیہ السلام نے فرمایاکہ سارے قرآن میں کوئی آیت اس سے زیادہ وسیع نہیں ہے۔ آپ کے الفاظ یوں ہیں :-
ما في القران اية اوسع من یاعبادي الذين اسرفوا......... ؎1
اس کی دلیلی واضح ہے کیونکہ:
1- ياعبادی " (اے میرے بندو!) کی تعبیر پروردگار کی جانب سے ایک لطف و عنایت کا آغاز ہے۔
2- " اسراف" کی تعبیر "ظلم وگناه وجرم" کے بجائے ایک اور لطف ہے۔
3- "علٰى انفسهم " کی تعبیراس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ انسان کے سارے گناہ خوداسی کی طرف لوٹتے ہیں۔ یہ پروردگار کی محبت کی ایک اورنشانی ہے ۔ جیسا کہ ایک شفیق باپ اپنے بیٹے سے کہتا ہے۔ "یہ سارا ظلم اپنے اوپرنہ کر"۔
4- "لاتقنطوا" (نا امید نہ ہوں) کی تعبیرکہ "قنوط" اصل میں اچھائی اور خیر سے مایوس ہونے کے معنی میں ہے ، تنہا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ گنہ گاروں کو "لطف الہی" سے مایوس نہیں ہوانا چاہیے۔
5- " من رحمة الله" کی تعبیر "لا تقنطوا" کے بعد اس خیرومحبت پر اور بھی زیادہ تاکید ہے۔
6- جب ہم "ان الله يغفر الذنوب جميعًا" کے جملے پر پہنچتے ہیں ، جس کی ابتداء حرفِ تاکید کے ساتھ ہوربی ہے ، اور لفظ " الذنوب" (الف ولام کے ساتھ جمع) جو بغیر کسی استثناء کے تمام گناہوں کو اپنے دامن میں لے لیتا ہے تو گفتگو اوج و بلندی پر پہنچ جاتی ہے اور دریائے رحمت موجزن ہوجاتا ہے۔
7- جس وقت "جميعًا" کا یعنی ایک اور تاکید کا اضافہ ہوجاتا ہے تو امید آخری مرحلے تک پہنچ جاتی ہے۔
9-8 خدا کی "غفور" و "رحیم" کے ساتھ توصیف جو پروردگار کی صفات میں سے دو امید بخش اوصاف ہیں، آیت کے آخر میں یاس و ناامیدی کی کم سےکم گنجائش بھی باقی نہیں رہنے دیتی۔
باں! اسی دلیل کی بنیاد یہ آیت قرآن کی آیات میں سب سے زیادہ وسعت رکھنے والی آیت ہے جو ہر قسم کے گناہ کو اپنے دامن میں سمیٹ لیتی ہے اور اسی وجہ سے یہ قران مجید کی آیات میں سب سے زیادہ امید بخش آیت شمار ہوتی ہے۔
واقعا ایسی ذات سے جس کو دریائے لطف بیکراں ، اورجس کے فیض کی شعاعیں غیر محدود ہیں . اس سے اس کے علاوہ اورکوئی توقع نہیں کی جاسکتی۔
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 مجمع البیان ، تفسیر قرطبی اور تفسیرصافی ، زیربحث آیت کے ذیل میں ۔
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
وہ ذات جس کی رحمت اس کے غضب پرسبقت رکھتی ہے اور جس نے اپنے بندوں کو رحمت کیلیےہی پیدا کیا ہے نہ خشم وعذاب کےلیے،اس سے اس کے علاوہ اور کوئی امید نہیں۔
کیارحیم و مهربان خدا ہے اور کیسا مہرومحبت والا پروردگار!
یہاں دو مسائل نے مفسرین کی فکر کو اپنی طرف متوجہ کر رکھا ہے اور اتفاق کی بات یہ ہے کہ ان کاحل خوداسی آیت میں اور اس کے بعد کی آیات میں پوشیدہ ہے۔
پہلا مسئلہ تو یہ ہے کہ کیا آیت کی عمومیت تمام گناہوں کو حتٰی کہ شرک اور دوسرے تمام گناہان کبیرہ پر بھی محیط ہے اگر ایسا ہے تو پھر سورة نسا کی آیہ 48 میں شرک کوقابل بخشش گناہوں سے الگ کیوں کیا گیا ہے؟ جیسا کہ فرمایا گیا ہے :
ان الله لا يغفران يشرك به ويغفرمادون ذالك لمن يشاء
خداشرک کو نہیں بخشتا لیکن اس کے سوا دوسرے گناہوں میں سے جسے چاہے بخش دیتا ہے۔
دوسرامسئلہ یہ ہے مغفرت کا یہ وعده جوزیربحث آیت میں آیا ہے کیا یہ مطلق ہے یا توبہ اور اسی قسم کی کسی چیز کے ساتھ مشروط ہے؟
البته یہ دونوں سوالات ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہیں اور ان کا جواب بعدوالی آیات میں اچھی طرح سے مل سکتا ہے کیونکہ بعد والی آیات میں تین حکم دیئے گئے ہیں جو تمام باتوں کو واضح کر دیتے ہیں۔
"وانيموا الى ربكم" (اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرو )۔
"واسلمواله" (اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرو)۔
"واتبعوا احسن ما انزل اليكم من ربکم" (ان بہترین احکام و فرامین کی پیروی کرو جوتمھارے پروردگار کی طرف سے تم پرنازل ہوئے ہیں)۔
تینوں احکام تویہ کہتے ہیں کہ غفران ورحمت کے دروازے توتمام بندوں پربغیرکسی استثناء کے کلھے ہوئے ہیں لیکن وہ اس بات کے ساتھ مشروط ہیں کہ وہ گناہ کے ارتکاب کے بعد ہوش میں آئیں ، اپنا راستہ بدل لیں، درگاہ خداوندی کی طرف رجوع کریں، اس کے فرمان کے سامنے سرتسیلم خم کریں اورعمل کے ساتھ اس توبہ وانابت میں اپنی صداقت کی نشاندہی کریں۔ اس طرح سے نہ شرک اس سے مثتنٰی ہےاور نہ کوئی دوسراگناہ اور اس عفوعمومی اور رحمت واسعہ کا کچھ شرائط کے ساتھ مشروط ہونا بھی ناقابل انکار ہے۔
اگر ہم ہی دیکھتے ہیں کہ سورہ نساء کی آیہ 48 میں مشرکین کے لئے بخشش اورعفو کے بارے میں استثناء کیا گیا ہے تو ان مشرکین کے بارے میں ہے جو حالت شرک میں دنیا سے جائیں نہ کہ وہ جو بیدار ہوجائیں اور راہ حق چل پڑیں ، کیونکہ صدراسلام کے مسلمانوں کی اکثریت اسی قسم کی تھی۔
اگرہم بہت سے مجرمین کی حالت پرنظر کریں تو گناہ کرنے کے بعداس طرح پریشان اور پیشمان ہوتے ہیں کہ انھیں یقین ہی نہیں آتا کہ ان کے لیے بازگشت کی کوئی راہ کھلی ہوگی اور وہ اپنے آپ کو ایسا آلودہ سمجھتے ہیں کہ وہ گویا کسی بھی پانی کے ساتھ پاک ہونے کے قابل نہیں ہیں، وہ پوچھتےہیں کہ کیا واقعًا ہمارے گناہ بھی قابل بخشش ہیں؟
وہ سوچنے ہیں کیا خداکی طرف ہمارے لیے بھی کوئی راستہ کھلا ہوا ہے؟ کیا ہماری واپسی کی بھی کوئی گنجائش ہے؟
اگرہم اس کیفیت پر نظر رکھیں توآیت کے مفہوم کو اچھی طرح سے سمجھ لیں گے ، کیونکہ وہ ہرقسم کی توبہ کے لئے تو آمادہ ہیں لیکن اپنے گناه کو قابل بخشش نہیں سمجھتے۔ خصوصًااگر انھوں نے بارہا توبہ کی ہو اور توڑ ڈالی ہو ۔
یہ آیت ان سب کو خوشخبری دے رہی ہے کہ تم سب کے لیے راستہ کھلا ہے۔
اسی لئے تاریخ اسلام کے مشهور مجرم اور سیدالشهداء حمزہ کے قاتل "وحشی" نے جب مسلمان ہوناچاہا تو وہ اس بات سے ڈررہا تھا کہ اس کی توبہ قبول نہ ہوگی کیونکہ واقعًا اس کا گناہ بہت بڑا تھا۔ بعض مفسرين کہتے ہیں کہ مذکورہ بالاآیت نازل ہوئی اوراس نے رحمت الٰہی کے دروازے اس وحشی اور دوسرے توبہ کرنے والے وحشیوں پر کھول دے۔
اگرچہ یہ سورہ مکی سورتوں میں سے ہے اور جس دن یہ آیت نازل ہوئی اس وقت تک نہ جنگ احد ہوئی تھی ،نہ حضرت حمزہ کی شہادت رونما ہوئی تھی اور نہ ہی وحشی کی توبہ کا
کا مسئلہ تھا ۔ لہذا یہ ماجرا اس آیت کے لیے شان نزول نہیں بن سکتا ، بلکہ ایک قانون کلی کی ایک مصداق پر تطبیق ہوسکتا ہے، لیکن بہرحال یہ واقعہ آیت کے مفہوم کی وسعت کو مشخص کرسکتا ہے۔
ہم نے جوکچھ بیان کیا ہے اس سے واضح ہوگیا ہے کہ روح المعانی میں آلوسی جیسے مفسرین کا اس چیز پر اصرار کہ اس آیت میں غفران و بخشش کاواعده کسی چیز سے مشروط نہیں ہے، ایک غلط بات ہے اگرچہ اس نے اس کے لیے سترہ دلیلیں ذکر کی ہیں ،کیونکہ بعد والی آیات کے سا تھ واضح تضاد رکھتی ہے ، اوراس کی سترہ دلیلیں جن میں سے بہت سی قابل اوغام ہیں ، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں بتائیں کہ خدا کی رحمت وسیع اور کشادہ ہے جس میں تمام گنہ گارشامل ہیں اور یہ چیز بعد والی آیات کے قرینے سے، اس وعدہ الٰہی کے مشروط ہونے کے منافی نہیں۔
اس آیت کے سلسلے میں کچھ اور مطالب بھی ہیں جو انشاء اللہ "چند نکات" کے تحت آئیں گے ۔
بعدوالی آیت میں تمام مجرموں اور گنہ گاروں کو رحمت الٰہی کے اس بے کراں دریامیں ورود کی راہ دکھاتے ہوئے فرمایا گیا ہے، اپنے پروردگار کی طرف لوٹ آؤ (وانيبوا الٰی ربکم )۔
اوراس کے سا منے سرتسلیم خم کرلو،اس کا فرمان دل وجان کے ساتھ سنو اور اسے قبول کرو . اس سے پہلے کے عذاب الٰہی تمھیں دامن گیرہوجائے اور کچھ کوئی تمھاری مدد نہ کر سکے (واسلموا له من قبل ان يأتيكم العذاب ثم لا تنصرون)۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ان دومراحل (مرحلہ انابت اور اسلام) کو طے کر لینے کے بعد تیسرے مرحلے کے بارے میں جو مرحلہ عمل ہے۔ گفتگو کرتے ہوئے مزید فرمایا گیا ہے: ان بہترین احکام کی جو تمھارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوئے ہیں پیروی کرو ، اس سے پہلے کہ عذاب الہی اچانک تھارے پاس آجائے اور تمھیں اس کی خبر بھی نہ ہو (واتبعوا احسن ما انزل الیکم من ربکم من قبل ان ياتك العذاب بغتة وانتم لا تشعرون )۔
اس طرح سے رحمت خدا تک پہنچنے کی راہ تین قدموں سے زیادہ نہیں ہے۔
پہلا قدم توبہ اورگناہ پریشمانی اور خدا کی طرف رخ۔
دوسراقدم ایمان اور خدا کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم۔
کمن ولدته امه
وہ اس شخص کی طرح ہے جوابھی ماں کے بطن سے پیدا ہواہے۔
اس طرح سے قرآن لطفِ الہی کے دروازوں کو ہرانسان کے لیے ہر حالت میں اور ذمہ داریوں کے ہر قسم کے بوجھ کی صورت میں کھلا رکھتا ہے، اور اس کی واضح دلیل زیربحث آیات ہیں ۔ ان میں طرح طرح سے مجرموں اور گنہ گاروں کوخداکی طرف دعوت دی گئی ہے اورانھیں یہ اعتماد دیتی ہیں کہ وہ اپنے آپ کو گزشتہ زندگی سے بالکل جدا کرسکتے ہیں ۔
ایک روایت میں اپنی گرامی اسلام سے منقول ہے :
التائب من الذنب كمن لا ذنب له
جو شخص گناہ سے توبہ کرلے وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے اصلاً کوئی گناہ نہ کیا ہو۔ ؎1
یہی مفهوم کچھ اضافے کے ساتھ امام باقرؑ سے نقل ہوا ہے ، آپؐ نے فرمايا:
التائب من الذنب كمن لا ذنب له ، والمقيم على الذنب وهومستغفر
منه المستهزء
جوشحص گناہ سے توبہ کرے وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے کوئی گناہ نہ کیا ہو، اور چو شخص استغفارکے
ساتھ ساتھ گناہ بھی جاری رکھے ہوئے ہو تو وہ اس شخص کی طرح ہے جومذاق کرتا ہو۔ ؎2
لیکن ظاہر ہے کہ رحمت الٰہی کی طرف یہ واپسی بلاشرط نہیں ہوسکتی ، کیونکہ وہ حکیم ہے اور وہ کوئی کام بےحساب نہیں کرتا۔ اگراس نےاپنی رحمت کی آغوش کو سب کے لیے کھول رکھا ہے اور انھیں ہمیشہ اپنے طرف بلاتا رہتا ہے تو اس کے لیے بندوں میں اہلبیت کا ہونا بھی ضروری ہے ایک طرف تو انھیں اپنے تمام وجود کے ساتھ بازگشت کا خواہاں ہونا چاہیے اور اندرونی انقلاب اور بنیادی تبدلی پیدا کرنی چاہیے۔
دوسری طرف بازگشت کے بعد اپنے ایمان اور اعتقاد کی ان بنیادوں کو نئے سرے سے اٹھانا چاہیے جو طوفان گناہ کے باعث منہدم ہوچکی ہیں۔
تیسری طرف اعمال صالح کے ذریعے اپنی روحانی تاتوانی اور اخلاقی کمزوری کی تلافی کرنا چاہیے البتہ سابق گناہ جتنے زیادہ سنگین تھے اسی حساب سے زیادہ صالح اعمال بجالانے چاہییں اور یہ بالکل وہی چیز ہے جسے قرآن نے مذکورہ بالا تین آیات میں "انابت" "اسلام" اور "اتباع احسن" کے عنوان سے بیان کیا ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ